چھیڑتا ہوں کہ ان کو غصہ آئے

چھیڑتا ہوں کہ ان کو غصہ آئے

پرانے اور سیانے لوگوں کا کہناہے کہ جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی جانب بھاگتا ہے۔ جب کوئی شامت کا مارا سانپ اپنی موت کے دروازے پر دستک دینے لگتا ہے تو وہ بیچ چوراہے کے آن بیٹھتا ہے اور جب چیونٹی کی موت آتی ہے تو اس کے پر نکل آتے ہیں۔ ہمیں یہ محاورے، ضرب الامثال یا مقولے اس وقت رہ رہ کر یاد آنے لگے جب ہم نے 20 ستمبر کی صبح روزنامہ مشرق پشاور میں چھپنے والی ایک شعلہ بیاں خبر کی دھماکے دار سرخی پر نظر ڈالی۔روزنامہ مشرق کی سرخی دھماکہ دار ہی نہیںتھی ، دھمکی آمیز بھی تھی، مگر اس کے متن میں شامل دھمکیوں کو ہم گیدڑ بھبکیاں کہہ نہیں سکتے کیونکہ یہ خبر منسوب تھی اپنے پیارے انکل ٹام کے نام جس میں وہ ہمیں ہی نہیں ساری دنیا کو چیختے چنگھاڑتے اور پکارتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ باغی ممالک کے خلاف کاروائی کا وقت آگیا۔ کہنے کو تو یہ بات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میںخالص امریکن انگلش زبان کے لب و لہجے میں کہی ہوگی۔ جس میں ہر اس ملک کو باغی قرار دیا گیا ہوگا جو امریکن مفاد کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا ہے یا جہاں پر امریکہ مردہ باد یا امریکہ کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے قسم کے نعرے گونجتے رہتے ہیں ۔ امریکہ کے خلاف دنیا بھر میں پھیلی نفرت کی یہ آگ ملکوں ملکوں پھیلی وہ تنظیمیں لگاتی پھرتی ہیں جو امریکہ کی نفرت آمیز اور جنگ آمیز حکمت عملیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی غرض سے گلیوں اور بازاروں میں نکل آتی ہیں اور سرکردہ امریکنوں کے پتلے جلانے کے علاوہ دن میں نظر آنے والے ستارے چھاپ دھاری دار جھنڈوں کو بھسم کردینے کی روایت نبھاتے رہتے ہیں ۔ اور اگر یوں اپنا نقصان یا ارمان پورا نہیں کر پاتے تو ملکو ں ملکوں پھیلی دہشت گرد تنظیموں کا تر نوالہ یا انکا ایندھن بننے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ ملک میںخوف ، فساد اور بدامنی پھیلانے والی یہ طاغو تی قوتین ضرب عضب یا رد الفساد کے خوف سے کسی کالے کنویں میں چھپتی ہیں تو یار لوگ کرکٹ کرکٹ کھیل کر اسے دہشت گردی کے خلاف فتح و نصرت کا نام دینے لگتے ہیں ۔ جسکے جواب میں کہیں بھی اور کسی بھی غارمیں ڈھکے چھپے دہشت گرد سر نکال کر خود کش حملہ یا ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ کر کے معصوم شہریوںکے علاوہ ملک اور قوم کے محافظوں کا خون ناحق بہا دیتے ہیں ۔یہ خون آشام کھیل اس روز سے کھیلا جارہا ہے ،جب سے امریکہ نے دنیا بھر کے آزاد ممالک کو اپنا کاسہ لیس بنانے اور ان کو ڈکٹیشن دینے کی روش اپنا رکھی ہے۔ جو ملک امریکہ کے مفاد کی بات کرتا ہے اور اس کے اشارے پر چلتا ہے وہ امریکہ کا اتحادی کہلاتا ہے اور جو اس کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتا وہ بے دھڑک امریکہ کے باغی ملکوں کی فہرست میںلکھ دیا جاتا ہے ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں امریکی صدر نے ایسے بہت سارے ممالک کے نام گنوائے جن کو بقول ان کے باغی ممالک کہا گیا ۔ اور ہمیں تو افسوس اس بات کا ہے کہ اس فہرست میںدنیائے اسلام کی وہ قومیں بڑی نمایاں نظر آئیں جن کو ہم بڑے فخر اور ناز سے فرزندان توحید کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ امریکی صدر نے امن محبت اور بھائی چارے کے دین کے ساتھ دہشت گردی کا لفظ جوڑ کر اسے اسلامی دہشت گردی کا نام دیا جو دین اسلام سے منسلک ممالک کے لئے کسی بھی لمحہ فکریہ سے کم نہیں۔اہل دانش یہ بات بار بار دہراچکے ہیں کہ دہشت گردی کا تعلق کسی بھی حوالے سے اسلام کے ساتھ نہیں جڑتا ۔ اسلام کے داعی، اجتماعی یا انفرادی طور پر اپنے ہر ملنے والے کو السلام و علیکم کہہ کر نیک خواہشات کا اظہار کرنے کے علاوہ ان کی سلامتی کی دعا مانگتے رہتے ہیں ۔ دین اسلام امن محبت اور بھائی چارے کا مذہب ہے۔ دین اسلام کے نام لیوا بہت سے فرقوں میں بٹ چکنے کے بعد بھی ایک ہیں ۔ امریکی صدر نے ایران کو قاتلوں اور دہشت گردو ںکی معاونت کرنے والوں کا ملک کہہ کر پکارا، انہوں نے شمالی کوریا کو خود کش راکٹ مین کہا ۔ کاش وہ اپنی تقریر میں برما میں برپا ہونے والی کرب و بلا کا بھی ذکر کر لیتے تو ہم کہتے کہ وہ اسلام دشمنی نہیں کر رہے ۔لگتا ہے کہ جب ڈونلڈ ٹرمپ پر ہیجانی کیفیت طاری ہوتی ہے تو آپ ہوش کے ناخن لینا بھول جاتے ہیں ۔ غصہ کے عالم میں ان کی رنگت غیر ہوجاتی ہے اور ان کے منہ کی زہر جھاگ بن کر پھوٹنے لگتی ہے جس سے اچھے اچھے دل اور گردے والے بھی پناہ مانگنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ہم ڈونلڈٹرمپ کو کلمہ طیبہ پڑھنے کی دعوت دینے کے بعد لاحول ولا قوة پڑھنے کی تلقین کرتے ہوئے ان کے گوش گزار کرنا چاہتے ہیں کہ اسلام نے غصہ کو حرام قرار دیا ہے ۔ اسلام میں ہر حرام چیز کو پینے سے منع کیا گیا ہے ۔ لیکن غصہ جیسی حرامی جذبات کو پی لینے یا درگزر کرنے کی تعلیم دی ہے۔ مگر افسوس کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی توقعات تو وابستہ نہیں کی جاسکتیں ۔ انہیں تو اک عالم قہر غضب میں اپنے دوست بھی دشمن نظر آنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے گزشتہ دنوں مودی کے کہنے میں آکر پاکستان کو کڑوی کسیلی سنادیں ۔ لیکن 

ہائے اس زوپشیماں کا پشیماں ہونا
کے مصداق انہوں نے جب ہوش کے ناخن لئے تو ان کو پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور فوجی قوت کے پیش نظر اپنا بیان واپس لینا پڑا۔ شائد اس وقت تک ان کو اس بات کا بھی علم ہوچکا تھا کہ پاکستان اور چین کی دوستی ہمالہ کی چوٹیوں سے بھی بلند ترہے اور پاک چین دوستی تعمیر و ترقی کی ایسی شاہراہوں پر چل نکلی ہے جس کے تمام تر راستے دھونس دھمکیوں سے مرعوب ہونے کی بجائے پیار محبت اور امن سکوں کی اعلی و ارفع منزلوں تک پہنچتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں