امریکہ کی نئی افغان جنگ

امریکہ کی نئی افغان جنگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے سابقہ موقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے نئی افغان پالیسی میں افغان جنگ کو جاری رکھنے اور مزید امریکی فوجی افغانستان بھیجنے کے اعلان نے پاکستان کے لئے ایک انتہائی غیر متوقع صورتحال پیدا کردی ہے۔نئی افغان پالیسی کے سامنے آنے کے فوراً بعد پاکستان کی جانب سے ناراضگی کا اظہار کیا گیا کیونکہ اس پالیسی میں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو نظرانداز کرکے پرانے الزامات لگانے کے ساتھ ساتھ ایک مرتبہ پھر 'ڈومور' کا مطالبہ کیا گیا۔ ناراضگی کی لہر کے بعد جب حالات معمول پر آنا شروع ہوئے ہیں تو بہت سے سینئر پاکستانی سفارت کار وں کے مطابق پاکستان کو امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کرنی چاہیے اور امریکہ کے ساتھ مل کر نئی علاقائی پالیسی بنانی چاہیے۔ اسلام آباد سمیت خطے کے تمام دارالحکومت اس بات کو اچھی طرح سمجھ رہے ہیں کہ امریکہ 2001ء سے 2004ء کے درمیان 'انتقامی جنگ' ، 2005ء سے 2009ء کے درمیان' تعمیر وترقی' اور اوبامہ کے دور ٰ حکومت میں ' جنگ، مذاکرات اور انخلائ' کی پالیسیوں کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں افغانستان میں ایک نئی جنگ شروع کرنے جا رہا ہے ۔ٹرمپ کی جانب سے پیش کی جانے والی نئی پالیسی کو قیام کرو اور لڑو' کا نام دیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے امریکہ کا سب سے پہلا ہدف کمزور افغان حکومت کو عسکری لحاظ سے مضبوط کرنا ہوگا تاکہ افغان طالبان حکومت کا تختہ نہ الٹ سکیں اور افغانستان میں طالبان کی حکومت دوبارہ سے قائم نہ ہو جائے ۔ نئی افغان پالیسی بنانے والے جرنیل یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ نہ تو افغانستان میں مکمل فتح حاصل کرنا ممکن ہے اور نہ ہی اس مسئلے کا کوئی قابلِ قبول سیاسی حل نکالا جاسکتا ہے۔نئی افغان پالیسی کے تحت افغانستان میں امریکی قیام کی وجہ افغانستان میں امن قائم کرنا نہیں بلکہ افغانستان کو بیس کیمپ بنا کر خطے میں وسیع تر امریکی مفادات کا حصول ہے۔ان امریکی مفادات میں سے سب سے پہلا جنوبی ایشیاء میں بھارت۔ امریکہ بلاک بنا کر پاکستان سے کشمیر کو اس کی موجودہ پوزیشن میں تسلیم کروانا اور پاکستان کی ایٹمی صلاحیتوں میں اضافے کے حصول پر قدغن لگانا ہے۔ دوسرا ، شام، لبنان اور عراق میں ایران کے بڑھتے ہوئے کردار کو روکنا اور ایران کو اسرائیل کے خلاف کسی بھی کارروائی سے باز رکھنا ہے۔ تیسرا، افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک میں چین اور روس کے کردار کو کم کرنا اور سی پیک سمیت چین کے ون بیلٹ۔ون روڈ منصوبوں کی راہ میں روڑے اٹکانا ہے۔پاکستان کے نئے وزیرِ اعظم نے امریکہ اور افغانستان کو سرحد پر مشترکہ گشت کرنے کی پیش کش کی ہے تاکہ دونوں ممالک میں دہشت گردی کی کارروائیو ں پر قابو پایا جاسکے ۔ اسی طرح پاکستان کی جانب سے بارڈر پر باڑھ لگانے سے بھی سرحد کی دونوں جانب غیر قانونی نقل و حمل پر بھی قدغن لگائی جاسکے گی۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے ان اقدامات کی حمایت کے لئے افغانستان پر دبائو ڈالے۔ اگر پاکستان ، امریکہ اور افغانستان مل کر کام کریں تو طالبان، داعش اور القاعدہ کی جانب سے کی جانے والی دہشت گرد کارروائیوں کو بھی روکا جاسکتا ہے جس کے بعد پاکستان افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان بھی یہ چاہے گا کہ افغانستان اس کی سرزمین پر حملے کرنے والی تنظیموں ، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے، کے خفیہ ٹھکانے ختم کرنے کے لئے اقدمات کرے۔ اگر پاکستان افغانستان میں امریکہ کے تمام مطالبات مان لے تب بھی امریکہ پاکستان سے خوش نہیں ہوگا اور پاکستان پر لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد جیسے کشمیری جہادی گروپوں پر پابندیاں لگانے کے ساتھ ساتھ ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کے لئے دبائو ڈالتا رہے گا۔امریکی دبائو کی وجہ سے پچھلی حکومت لشکرِطیبہ اور جیشِ محمد کو سیکورٹی کونسل کی 'ٹیررازم' لسٹ میں ڈالنے کے لئے راضی ہوئی تھی ۔ اس کے علاوہ اسلام آباد نے ان تنظیموں کے اثاثے بھی منجمد کردیئے ہیں لیکن بھارت اور امریکہ اب بھی پاکستان سے ان گروپوں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیںجس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نے بھارت کو کشمیر یوں پر ظلم وجبر کے پہاڑ توڑنے کی کھلی اجازت دے رکھی ہے۔ پاکستان کے وزیرِ خارجہ کی جانب سے چین، ترکی ، ایران اور روس کے حالیہ دوروں سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ خطے میں امریکہ کی جارحیت کو لگام ڈالی جاسکے گی۔ پاکستان کے ان ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات نہ صرف افغانستان اور پاکستان بلکہ پورے خطے میں امن کا ضامن ہے۔ تاریخ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ افغانستان میں کسی بھی بیرونی حملہ آور کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی بیرونی حکمتِ عملی سے افغانستان کے مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے ۔ اس لئے اگرآج امریکہ 'سلطنتوں کے قبرستا ن' سے باعزت طریقے سے نہ نکلا تو کل اُسے شرمسار ہو کر نکلنا پڑے گا۔ (بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد) 

متعلقہ خبریں