مسلمانوں کی داد رسی

مسلمانوں کی داد رسی

برما کے مظلوم مسلمان جنہیں اپنے اور پرائے سبھی ایک عرصہ سے نظر انداز کیے ہوئے تھے ' برما کی حکومت اور افواج روہنگیائی مسلمانوں کو اپنا شہری تسلیم کرنے کے بجائے ان پر طرح طرح کے انسانیت سوزمظالم ڈھا رہی تھی اور یہ بے بس و مجبورمسلمان پوری دنیا کے سامنے بے بسی کی تصویر بنے عالمی ضمیروں کو جھنجھوڑ رہے تھے۔برما کے مظلوم مسلمانوں کی داد رسی کی بجائے جب ساری دنیا کے حکمراں اور انسانی حقوق کے علمبردارغفلت کی چادر اوڑھے سو رہے تھے تو انہی لمحوں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان آگے بڑھے اور بنگلہ دیش کی حکومت سے کہا کہ وہ برما کے مسلمانوں کے لیے اپنی سرحد کھولے،برما کے مسلمانوں کی ضروریات پرجو بھی اخراجات ہوں گے وہ ترکی ادا کرے گا۔ ترکی کے وزیر خارجہ چاوش اوغلو جب برما پہنچے تو برما کے مسلمان ترک وزیر خارجہ سے لپٹ کر ایسے رو رہے تھے جیسے بچہ اپنی ماں سے لپٹ کر بلک بلک کر روتا ہے اور ساتھ ہی سکون بھی محسوس کرتا ہے کہ وہ محفوظ ہاتھوں میں ہے،گو ترک وزیر خارجہ برما کے مسلمانو ں کی زبان سے ناواقف تھے لیکن پھر بھی برما کے مسلمان اسے مسیحا سمجھتے ہوئے اپنے اوپر بیتے غم کی داستان سنا رہے تھے، ترکی کی خاتون اول ایمن اردوان نے بھی برما کا دورہ کیا اور گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات انتہائی ناقابلِ یقین اور افسوسناک ہے کہ میانمار کی حکومت ایک شرمناک المیے کو پروان چڑھا رہی ہے اور عالمی برادری بے حسی کے ساتھ صرف تماشا دیکھ رہی ہے۔ ترک خاتون اول نے کہا کہ روہنگیائی مسلمانوں کے لیے ترکی سے جو بھی بن پڑا وہ کرے گا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ طیب اردوان اور ترکی کے کچھ خصائص ایسے ہیں جو انہیں پورے عالم اسلام سے ممتاز کرتے ہیںاور عالم اسلام بلاشبہ ان کارناموں پر فخر کرتا دکھائی دیتا ہے۔ مظلوم چاہے شام کے ہوں' فلسطین کے یا ان کا تعلق برما کے بے بس اور لاچار مسلمانوں سے ہو، ترکی نے ہمیشہ صف اول کا کردار ادا کرتے ہوئے مظلوم مسلمانوں کی داد رسی کرتے ہوئے ان کے سر پردستِ شفقت رکھا ہے۔ آئیے اس امر کا جائزہ لیتے ہیں کہ ترکی اس قدر بڑھ چڑھ کر فلاحی کاموں میں کیسے حصہ لیتا ہے اور اس کے پاس اس قدر فنڈز کہاں سے آتے ہیں؟ 

1992ء میں ترکی کے دردِ دل رکھنے والے احباب مل بیٹھے اور انہوں نے امت مسلمہ کا درد محسوس کرتے ہوئے سرکاری طور پر ایک فلاحی ادارے کی بنیاد رکھی، اس ادارے کو ''ترکش انٹرنیشنل کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ایجنسی'' (ٹیکا )کا نام دیا گیا۔ اس ادارے کی بنیاد رکھنے والوں کے پیشِ نظر یہ تھا کہ ترقی پذیر ممالک میں مختلف منصوبوں میں باہمی تعاون اور مشترکہ ثقافت کے حامل بالخصوص مسلمان ملکوں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے۔ ابتداء میں اس فلاحی ادارے کا دائرہ صرف ترک ثقافت اور ترک زبان تک محدودتھا جس کا دائرہ بعد میں بڑھا کر عالم اسلام کے پسماندہ اور غریب ممالک تک پھیلا دیا گیا۔ 1992ء سے لے کر آج تک اس ادارے کی خدمات کی ایک طویل فہرست ہے ' جس میں ضرورت مندوں کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے لئے سکالر شپس بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ میرے خیال میں اس ادارے کا اصل اورروشن پہلو یہ ہے کہ وہ پسماندہ اور غریب مسلم ممالک جن کے عوام خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبورہیں ، جن ممالک کے شہری اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کیلئے صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں، جن ممالک کے شہری بنیادی ضروریاتِ زندگی کے لیے ترستے ہیں اور اگر کوئی قدرتی آفت آ جائے تو بحالی کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی، اس ادارے نے بلاتفریق رنگ و نسل وہاں کے شہریوں کے ساتھ ہمدردی اور ہر طرح کاتعاون کرنا اپنا فرض سمجھ رکھا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ترکی کا یہ ادارہ امریکہ کے بعد پوری دنیا کی دکھی انسانیت کی مدد کرنے میں سب سے آگے ہے۔
ترکی اس ادارے کے ذریعے اب تک 6ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے جب کہ اس کے مقابلے میں امریکہ نے 6.3ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ادارے کے پاس اتنی بڑی رقم کہاں سے آتی ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ترکی کے مسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے جذبہ ایمانی کے تحت دل کھول کر مدد کرتے ہیں اور چونکہ یہ ادارہ سرکاری ہے اس لیے ترکی کی حکومت اس کو بحسن و خوبی چلارہی ہے اور اس کی مالی ضروریات کو پورا کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے محبوب پیغمبر ۖ نے فرمایا کہ'' امت مسلمہ جسد واحد کی طرح ہے''۔جس طرح جسم کے ایک حصہ میں تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم اس کی درد محسوس کرتا ہے اسی طرح امت مسلمہ کے کسی فرد کو کوئی تکلیف ہو تو پورا عالم اسلام اس کی تکلیف محسوس کرتے ہوئے اس کا تدارک کرتا ہے۔اس فرمان کی عملی تفسیر اگر آج کے دور میں دیکھنی ہو توترک حکومت اور ترکی کے عوام کو دیکھ لیں جن کے سینے میں امت مسلمہ کا درد ہے۔ اگر عالم اسلام کے دیگر ممالک ترکی کے اس روشن پہلو کو اپنا لیں اور گروہوں میں بٹنے کے بجائے مشترکہ پلیٹ فارم بنائیں جہاں مسلمانوں کے مسائل کی حقیقی معنوں میں دادرسی کی جائے تو وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ پھر فلسطین کے مسلمان یہودیوں کے ہاتھوں مریں گے اور نہ ہی برماکے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے کی کسی کو جرات ہوگی ۔

متعلقہ خبریں