صوبے میں احتساب کا مشکل سوال

صوبے میں احتساب کا مشکل سوال

خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلا س میں احتساب کے حوالے سے بحث اور الزامات کو الزامات اور جوابی الزامات کی حد تک ہی رکھ کر بھی دیکھا جائے تو کم از کم اس سے ایک بات تو سامنے آئی ہے کہ خیبر پختونخوا میں دیگر صوبوں کے برعکس احتساب کے لئے قائم کردہ صوبائی کمیشن نہ صرف ناکام اور لا حاصل ثابت ہوا بلکہ خود احتساب کمیشن کی تشکیل کرنے والے ، اس ادارے کے عہد یدار اور جن کوا س کمیشن کے تحت ملزم ٹھہرایا گیا سبھی کار لا حاصل ٹھہر ے ۔علا وہ ازیں اس تجربے کی ناکامی خود صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت کے لئے سوالیہ نشان ہے کہ شفاف احتساب کے داعیوں کی اپنی عملی کا رکردگی کیا ہے ۔ ہم قبل ازیں بھی انہی کالموں میں بار بار یہ عرض کر چکے ہیں کہ اصل بات محکمہ یا کمیشن کا قیام نہیں بلکہ اصل بات احتساب کا اس طرح ہونا ہے کہ اس سے بد عنوان عناصر کے دل میں خوف پیدا ہو اور عوام کو اس امر کا یقین آجائے کہ احتساب نمائش یا دکھلاوے کا نہیں بلکہ بد عنوان عناصر کے خلاف حقیقتاً کارروائی ہونے میں کوئی شبہ باقی نہ رہے ۔ خیبر پختونخوا میں صوبائی احتساب کمیشن کی جانب سے ایک صوبائی وزیر کو گرفتار کر نا ابتداً احتساب کی مثال کے طور پر لیا گیا مگر پندرہ ماہ بعد جب جن بوتل سے باہر آگیا تو خود اس کی آواز بد عنوانی کے خلاف معتبر کیوں سمجھی جانے لگی ۔ ایک صوبائی وزیر اور اپنی جماعت میں اثر ونفوذ رکھنے والے عوامی نمائندے پر ہاتھ ڈالنا یقینا مشکل کام تھا ان کی گرفتاری سے قبل جماعت کے قائد کے سامنے بھی پیشی اور وضاحت کا موقع دیاگیا اس طرح سے گویا ان کی منظوری بھی لی گئی اس کے بعد جب ان پر ہاتھ ڈالا گیا اور اس کی مثال دی جانے لگی اور بجا طور پر یہ توقع کی جارہی تھی کہ خیبر پختونخوا میں احتساب کا حقیقی دور چلے گا اور مزید اہم گرفتاریا ں ہوں گی مگر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہنے کی صورتحال ہی نہیں دیکھی گئی بلکہ آج اس ملزم کا اسمبلی میں اٹھ کر احتساب کا مطالبہ از خود بہت بڑا سوال ہے ۔ آج صوبائی احتساب کمیشن از خود احتساب کی عدالت میں کھڑا ہے اور اس کے غیر مئو ثر ہونے کا سوال حکومت کی ساکھ کا مسئلہ بنتا جارہا ہے ۔ کسی ملزم کی ایک ضابطہ کار کے تحت رہائی اس کی بیگنا ہی کا ثبوت نہ بھی ہوتو اسے اپنی صفائی میں اعتماد کے ساتھ بات کرنے کے قابل ضرور بناتا ہے ۔ اسمبلی کے اجلاس میں احتساب کمیشن میں بھر تیوں کی تفصیلات بارے سپیکر کی رولنگ مضحکہ خیز ہے۔ کیا احتساب کمیشن میں بھرتیوں سے حکومت اتنی لاعلم تھی یا پھر ان بھر تیوں کی تحقیقات سے زیادہ سے یادہ ہوگا کیا ؟ صوبا ئی اسمبلی میں جاری بحث ومباحثہ میں اگر اس امر پر اتفاق کرلیا جاتا کہ آخر صوبائی احتساب کمیشن غیر مئوثر اور متنازعہ کیوں ثابت ہوا ۔ اس کمیشن کی کارکردگی کیا رہی اس کی کامیابی نا کامی کا تجزیہ کر کے اس کو مئوثر بنانے کے لئے کیا اقدامات تجویز کئے جائیں اس کے عہدیداروں کو عہدوں سے استعفیٰ کیوں دینا پڑا اور انہوں نے عہدے چھوڑتے ہوئے جن معاملات اور امور کی نشاندہی کی تھی ان کی روشنی میں اصلاح احوال کے کیا اقدامات کئے گئے ۔ صوبے میں احتساب کے دیگر اداروں نے کیا کیا ۔ خیبر پختونخوا اینٹی کرپشن کی کارکردگی کیا رہی وزیر اعلیٰ انسپیکشن ٹیم اور گورنر انسپیکشن ٹیموں نے کتنی بد عنوانیوںکی تحقیقات کیں اوراس پر گورنر اور وزیر اعلیٰ نے کتنے ایکشن لیے ۔کتنے مقدمات نیب کے حوالے کئے گئے۔ ہمارے تئیں ان سارے سوالات کے جوابات حوصلہ افزاء نہیں ان تمام عوامل کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچنا فطری امر ہے کہ احتساب ایک نہایت مشکل اور پیچیدہ عمل ہے ۔بد عنوانی کا سراغ لگانا آسان کام نہیں اور اگر ثبوتوں کے ساتھ بھی معاملات سامنے آئیں تب بھی عدالتوں میں کسی بد عنوان کو سزا دلوا نا اور بھاری فیس لینے والے ماہر وکلاء صفائی کا مقابلہ آسان نہیں ۔کسی نہ کسی مرحلے پر ملزمان کو رعایت ملنے سیاسی دبائو سفارش وغیرہ جیسے امور سے بھی صرف نظر ممکن نہیں۔ ایسے میں احتساب احتساب کے مقدمات الف لیلوی کہانیاں بن جاتی ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو کوئی بھی کسی بھی حکمران سیاسی جماعت اور سیاسی حکومت کے بس کی بات نہیں کہ وہ شفاف احتساب کر سکے کیو نکہ ایسا کرتے ہوئے ماضی وحال میں کسی نہ کسی طرح احتساب کی انگلی خود ان کی طرف اٹھنے کے بہتر مقامات آئیں گے اور آئے ہیں اس لئے یہ بھاری پتھر ہر دور میں چوم کر رکھ دیا جاتا رہا ہے اور جاتے رہنے کا امکان ہے۔ الایہ کہ ایسی حکومت نہ آئے کہ خود ان کواپنی صف میں کسی پر شک بھی نہ گزرے ۔ شفاف احتساب میں حکومت کی شدید خواہش کے باوجود پورا نہ اترنے کی دیگر وجوہات کے علاوہ بڑی وجہ سیاسی اتحادی بھی گردانے جاسکتے ہیں جن پر الزامات لگا کر حکومت سے علیحدہ کر دینے کے بعد پھر نا خوب کو خوب کرنا مصلحت ٹھہری یا مجبوری ؟ بنک آف خیبر سکینڈل بھی حکومت اور کرپشن کے خلاف علم اٹھانے کی دعویدار اتحادی جماعت کے پیروں کی زنجیر ٹھہر ی ۔ نجانے کتنی مصلحتیں اور مجبوریاں دورن خانہ جکڑ ن ہوں گی ۔ جب تک کوئی حکومت اور سیاسی جماعتیں اپنے آپ کو مصلحتوں سے بالاتر نہیں کریں گی احتساب کے عمل کا آغاز خواب ہی رہے گا۔

متعلقہ خبریں