وفاقی حکومت کا عاجلانہ فیصلہ

وفاقی حکومت کا عاجلانہ فیصلہ

عوام او رسی این جی صارفین کے لئے یہ خبر یقینا خوش آئند نہیں کہ وزارت پٹرولیم نے سی این جی کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کردی ہیں جس کے تحت سی این جی کی قیمتیں اب اوگرا کی بجائے سی این جی مالکان خود طے کریں گے ۔گویا حکومت سی این جی مالکان کے سامنے جھک گئی اور اب سی این جی مالکان من مانے ریٹ مقرر کرنے اور وصولی میں آزاد ہو ں گے ۔ اس فیصلے پر عوام کا اظہار افسوس اور تشویش کا اظہار فطری امر ہے ۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی خاصی مئو ثر اتھارٹی تھی اور اس کی سمری بعض اوقات مسترد کر کے وزیر اعظم بھی حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر عوام کو ممنوں احسان کرتے تھے ۔ مگر اب بند ر کے ہاتھ میں اسرادے دیا گیا ہے جس کے بعد اوگرا ہی نہیں بلکہ وزیر اعظم کا اختیار بھی ختم ہوگیا ہے ۔ کسی چیز کی کھلی مارکیٹ میں قیمت کا تعین عوام کے لئے اس وقت ہی سود مند ثابت ہو سکتا ہے جب مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیوں کے درمیان مقابلہ سخت ہو۔ یہاں پر تو مارکیٹ میں اس طرح کی صورتحال ہوتی ہی نہیں بلکہ سرمایہ دار اور صنعت کا ر کا رٹل بنا کر عوام کو لوٹنے کا طریقہ نکالتے ہیں مصنوعی قلت پیدا کرکے مصنوعی گرانی پیدا کر کے کروڑوں اربو ں روپے کا منافع کمایا جاتا ہے ۔سی این جی جیسی بنیادی چیز میں اولا ً مارکیٹ میں مسابقتی نرخوں کے تعین کا کوئی امکان ہی نہیں اور جو سی این جی سٹیشنز ایسا کرتے ہیں ان کا گیج پورا نہیں ہوتا اور وہ قیمتوں میں رعایت کاچکر دے کر صارفین کو متوجہ کرکے الٹا ان کی جیب کاٹ لیتے ہیں یا پھر ٹیکس چوری میں ملوث عناصر ہی سستی گیس کی پیشکش کر سکتے ہیں ۔اگر دیکھا جائے تو شہر کی سٹیشنوں میں اب بھی چند ہی گیس سٹیشنز ہوتے ہیں جن پر عوام کا اعتما د ہے جس کا ثبوت وہاں پر سی این جی بھروانے والی گاڑیوں کی قطاروں سے لگا یا جا سکتا ہے۔ بجائے اس کے کہ حکومت اوگرا کو مزید اختیارات دے کر صارفین کی لوٹ مار کے مواقع کو کم کرتی حکومت نے با اثر سی این جی مالکان کے دبائو میں آکر قیمتوں کے تعین کا اختیار بھی ان کے حوالے کر دیا ہے جس کے بعد سی این جی کے مہنگے ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے گیج میں بھی گڑ بڑ کے امکانا ت میں اضا فہ ہوگا ۔ یہ امر سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکومت نے کونسے عوامی مفاد کی خاطر یہ فیصلہ کیا ۔ اس فیصلے کے بعد گیس مہنگی ہونے کے باعث ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اب من مانا اضافہ اور ہر ماہ دو ماہ بعد کرایہ نامہ میں تبدیلی کا جھگڑا اٹھ کھڑا ہوگا۔ کنڈ یکٹر سواریوں سے سی این جی کی قیمت میں اضافہ اور ردو بدل کا حوالہ دے کر اضافی کرایہ وصول کریں گے اور عوامی شکایات میں اضافہ ہوگا ۔ حکومت کی جانب سے ایک اتھارٹی کو اس کے اختیارات سے بلاوجہ یا پھر حکومتی مفادات کے باعث محروم کرنے کے بعد سے اس امر کی بھی توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنے فیصلے پر آسانی سے نظر ثانی کرے گی ۔البتہ حکومت کو عوام کے دبائو کا ضرور سامنا ہوگا۔ حزب اختلاف نے بھی اس معاملے پر ایوان میں احتجاج کیا ہے اس عوامی مسئلہ کو اگر حزب اختلاف کی جماعتیں سنجیدہ ایشو بنا کر مئو ثر احتجاج کریں تو عوام بھی ان کے شانہ بشانہ ہوں گے۔ اس طرح سے شاید حکومت پر دبائو پڑے ۔ سی این جی مالکان کی من مانی کی روک تھام کے لئے کوئی نہ کوئی طریقہ وضع کرنا ہی ہوگا۔ ورنہ ملک میں ایک نیا بحران اٹھ کھڑا ہوگا اور پہلے سے مشکلات کا شکار عوام مزید مشکلات میں گھر جائیں گے ۔
گیس پریشر پمپس کیخلاف کارروائی کی ضرورت
پشاورمیں سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ گیس پریشر میں کمی اپنی جگہ ایک مسئلہ ہے لیکن پریشر کی کمی پر کمپریسر اور گیس کھینچنے والی مشین لگا کر اپنی گیس کی ضروریات پوری کر کے دوسروں کو محروم کرنے کی عاقبت نا اندیشانہ اقدام اس سے بھی سنگین اور فوری نوٹس لئے جانے کا حامل مسئلہ ہے ۔ ہمارے تئیں اولاً اس طرح کی اشیا ء کی تیاری اور فروخت ہی کی سختی سے ممانعت ہونی چاہیئے اور اس کاروبار سے وابستہ افراد کو قانون کے تحت سزادی جائے مگر عام مشا ہدے کی بات ہے کہ بازاروں میں نہ صرف کھلے عام گیس پریشر بڑھانے والے آلات دستیاب ہیں بلکہ باقاعدہ تشہیر کر کے ان کی فروخت جاری ہے جن کے خلاف حکام کوئی کارروائی نہیں کرتے۔ اگر ان کے خلاف کارروائی ممکن نہیں تو جو لوگ ان مشینوں کو گیس پائپ لائن کے ساتھ لگا کر قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں کم از کم ان کے خلاف تو کارروائی کی جائے۔ اس طرح کے عناصر کے گیس کنکشن منقطع کئے جائیں اور ان پر جرمانہ عائد کیا جائے۔ اگر سوئی نادرن گیس کمپنی گیس پریشر کی کمی پر قابو نہیں پاسکتی تو گھریلوصارفین کو گیس کی فراہمی کے بعد ہی سی این جی سٹیشنز کو گیس دی جائے۔ سی این جی سٹیشنز صبح اور شام کے اوقات میں بند رکھے جائیں تاکہ گھریلو صارفین کو گیس کی شدید قلت کا مسئلہ کم کیا جا سکے ۔

متعلقہ خبریں