سی این جی فروخت کرنے والوں کی اجارہ داری

سی این جی فروخت کرنے والوں کی اجارہ داری

حکومت نے ایک حکم نامے کے ذریعے سی این جی کا بھاؤ مقرر کرنے کا آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کا اختیار ختم کردیا ہے۔ اب ہر سی این جی فلنگ سٹیشن اپنی مرضی کا بھاؤ مقرر اور وصول کر سکے گا اور کسی کو شکایت کرنے کا حق نہ ہو گا۔ سی این جی کی فروخت کا کاروبار کرنے والے اس پر ظاہر ہے خوش ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اس اقدام کے ذریعے سی این جی کی صنعت کو ''سنبھالا'' مل جائے گا۔ لیکن یہ نہیں بتاتے کہ اس صنعت کو ''بیماری'' کیا لاحق تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فلنگ سٹیشن گھاٹے میں جا رہے تھے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کے باوجود کاروبار کر رہے تھے۔ اگر وہ اوگرا کی مقرر کردہ قیمتوں کے باعث نقصان اٹھا رہے تھے تو انہوں نے یہ معاملہ کیسے اوگرا یا حکومت کے سامنے اٹھایا؟ ایسے کوئی واقعات خبروں کا حصہ نہیں بنے ۔ یہ بھی کسی نے نہیں کہا کہ اوگرا کا اختیار ختم کرنے کا فیصلہ سی این جی کا کاروبار کرنے والوں کے مطالبہ پر کیا گیا ہے۔ ایسے کسی احتجاج کی خبریں بھی شائع نہیں ہوئیں۔ اس جواز کی بنا پر حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرنے سے یہ بات البتہ سمجھ میں آتی ہے کہ اب سی این جی کی قیمتیں بڑھیں گی ۔ لیکن کتنی بڑھیں گی اس کے بارے میں کوئی حتمی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ قیمتوں میں اضافے کا تعین کوئی ایک ادارہ نہیں کرے گا۔ یہ اختیار سی این جی کا کاروبار کرنے والوں کی تنظیم کو منتقل نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس نوٹی فکیشن کے بعد ہر سی این جی سٹیشن اپنا مقرر کردہ بھاؤ وصول کر سکے گا۔ حتیٰ کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ سارا دن ایک ہی بھاؤ وصول کرے ۔ وہ جب چاہے گا نیا بھاؤ مقرر کرے گا۔ اگر صبح آپ ایک کلو گرام سی این جی کے 75روپے ادا کرتے ہیں تو شام کو فلنگ سٹیشن آپ سے 80روپے یا 100روپے یا جو وہ مناسب سمجھے وصول کرنے کے لیے آزاد ہوگا۔ کہا جا رہا ہے کہ بازار میں مسابقت کی قوت اسے مجبور کرے گی کہ وہ بھاؤ خریدار کی قوت خرید کے قریب رکھے۔ لیکن یہ ایک مغالطہ ہے۔ منڈی میں آٹے دال کی دکانیں قریب قریب ہوتی ہیں اور گاہک کئی دکانوں سے بھاؤ معلوم کرکے چیز کے معیار کا معائنہ کر کے خریدنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ اس صورت میں بازار کی مسابقت کی قوت خریدار کو فیصلہ کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ لیکن سی این جی سٹیشن ایک دوسرے کے قریب نہیں ہوتے۔ شہروں میں تو چلئے چند میل کے فاصلے پر مل جاتے ہیں لیکن دور دراز علاقوں میں دسیوں بیسیوں میل کے بعد فلنگ سٹیشن نظر آتا ہے۔ ایک سے دوسرے فلنگ سٹیشن تک پہنچنے میں بہت سی گیس خرچ ہو جاتی ہے۔ اس طرح شہروں میں خریدار کو دو تین فلنگ سٹیشنوں میں سے کسی کا انتخاب کرنے کا موقع مل جاتا ہے تو وہ بھی کچھ گیس خرچ کرنے اور کچھ وقت صرف کرنے کے بعد۔ فرض کیجئے اگلے فلنگ سٹیشن پر پہنچنے کے بعد آپ کو معلوم ہو کہ جو سٹیشن آپ چھوڑ آئے ہیں اس کا بھاؤ کم تھا تو گیس اور وقت صرف کرکے آپ پچھلے سٹیشن پر آئیں گے ۔اس صورت میں بچت کتنی رہ جائے گی، یہ سوال اپنی جگہ ہے۔ پھر گیس آپ زیادہ سے زیادہ اتنی خرید سکتے ہیں جتنی آپ کی گیس کی ٹینکی کی گنجائش ہے۔ یعنی اگر آپ کو کہیں گیس سستی بھی ملے گی تو آپ اس کو ذخیرہ نہیں کر سکیں گے۔اس طرح نہ صرف دور دراز علاقوں میں گیس فلنگ سٹیشن والوں کی اجارہ داری ہو گی بلکہ شہروں میں بھی نیم اجارہ داری تو ہو گی۔ آل پاکستان سی این جی اونرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں اس وقت 25لاکھ گاڑیاں سی این جی پر چلتی ہیں۔ ان میں سے ستر فیصد گاڑیاں پبلک ٹرانسپورٹروں کی ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ طے شدہ روٹ پر چلتی ہے اور ڈرائیور کسی قدر آپس میں معلومات کا تبادلہ کر سکتے ہیں کہ کس فلنگ سٹیشن پر کس بھاؤ گیس دستیاب ہے لیکن ساڑھے سات لاکھ گاڑیاں جو روزانہ ایک روٹ پر نہیں چلتی انہیں یہ معلوم نہیں ہوگا کہ کون سے سٹیشن پر کس بھاؤ گیس دستیاب ہے۔ اسی سٹیشن سے گیس خریدنا ہو گی جو انہیں ضرورت کے وقت سب سے پہلے دستیاب ہوگا۔ 

یہ بھی اجارہ داری کی ایک شکل ہو گی۔اب اگر فلنگ سٹیشن والے بھا ؤ مقرر کرنے میں خود مختار ہو گئے ہیں تو ان کی دیکھا دیکھی پبلک ٹرانسپورٹ والے بھی اپنی مرضی کا کرایہ وصول کرنے کی طرف مائل ہوں گے۔ وہ بھی من مانا کرایہ وصول کرنے کی کوشش کریں گے ۔وہ مکمل اجارہ داری قائم کر سکیں گے۔ سفر کرنے والوں کو اس انتخاب کی سہولت حاصل نہیں ہو گی کہ وہ ایک بس یا سوزوکی وین کو چھوڑ کر دوسری بس میں سفر کر سکیں۔ حکومت کا یہ جواز یہاں آ کر ختم ہو جاتا ہے کہ بھاؤ کو بازار کی قوتیں کنٹرول کریں گی۔ اب ٹرانسپورٹ اتھارٹیوں کے پاس کوئی ایسا جواز نہیں ہوگا کہ جس کی بنیاد پر وہ پبلک ٹرانسپورٹ والوں کو کرائے کی حد پر راضی کر سکیں۔
دیکھا جائے تو اوگرا کے پاس سی این جی کا بھاؤ طے کرنے کا اختیار 2009ء کے بعد تھا ہی نہیں۔ یہ اختیار سابق صدر آصف زرداری کے دور میں ایک آرڈیننس کے ذریعے ملا تھا۔ کیونکہ اس آرڈیننس کو قانون کی شکل دینے کے لیے اسمبلی میں نہیں لایا گیا اور کوئی قانون نہیں بنایا گیا اس لیے اس آرڈیننس کی رو سے اوگرا نے جو ضوابط طے کیے تھے ان کا کوئی قانونی جواز باقی نہیں رہا تھا۔
یعنی 2009کے بعد اوگرا نے جو بھاؤ مقرر کیے تھے قانون کی نظر میں ان کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اب حکومت کو یہ فکر ہے کہ اس دوران اوگرا کے مقرر کردہ بھاؤ پر حکومت نے جو 23فیصد جنرل سیلز ٹیکس وصول کیا ہے کہیں اسے عدالت میں چیلنج نہ کر دیا جائے۔ اس لیے کیبنٹ ڈویژن، وزارت قانون اور وزارت پیٹرولیم کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی ایسے آرڈیننس کا مسودہ تیار کریں جس کی بدولت حکومت کے وصول کردہ جنرل سیلز ٹیکس کو قانونی چھتری مل جائے۔ پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے والوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں کے مالکوں کے ساتھ جو ہو گا وہ ہوتا رہے گا۔

متعلقہ خبریں