اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے

اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے

عروج اور زوال بھی دھوپ چھائوں کی مانند ہیں ، زندگی کے سفر میں جب کوئی عروج کی سیڑھی پر اوپر کی طرف محو سفر ہوتا ہے تو اسے زوال کا کوئی خوف نہیں ستا تااسی لیئے کہتے ہیں کہ چڑ ھتے سورج کے بیچاری لا تعداد ہوتے ہیں مگر جب زوال کا سفر شروع ہوتا ہے تو انسان کا اپنا سایہ بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے ، منشی خوش وقت علی خورشید نے کیا خوب کہا ہے کہ 

پیری میں ولولے وہ کہاں ہیں شباب کے
اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے
اس کلیئے کا اطلاق ویسے تو ہر شخص پر کیا جا سکتا ہے تاہم بعض شعبے ایسے ہیں جن سے تعلق رکھنے والوں کو اس شعر کے آئینے میں آسانی سے پر کھا جا سکتا ہے خصوصاً شوبز کے شعبے سے متعلق افراد کی زندگیوں کا جائزہ لیا جائے تو بسا اوقات ان کی زندگی کے آخری ادوار میں ان کی حالت زار اور کسمپرسی کی کیفیت پر حد درجہ افسوس ہوتا ہے ، گزشتہ ایک ڈیڑھ ہفتے کے دوران سامنے آنے والی خبروں کے مطابق بعض اچھے فنکار جو دنیا سے گزر گئے ہیں ، ان کے حوالے سے متعلقہ حلقوں کی جانب سے حکومت سے ان کے اہل خاندان کے لئے امداد کی اپیل سے یہ اندازہ لگانے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی کہ جب وہ فنی طور پر سر گرم تھے تو شاید انہوں نے کچھ پس انداز کرنے کی سوچ پالی ہی نہیں ۔کیونکہ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے لاتعلق رہتے ہوئے خود اپنے اہل خاندان کی فکر کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کر تے رہتے یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ بقول شخصے نام بڑے او ر درشن چھوٹے کے مصداق ان کو معاوضہ ہی اتنا کم ملتا رہا ہو کہ اس میں جاری اخراجات تو کسی نہ کسی طور پورے ہوتے رہے ہوں مگر کچھ بس انداز کرنے کی نوبت نہیں آتی رہی ہو ۔ ایک خبر تو پی ٹی وی کے ایک ڈرامہ سیریل ''عینک والا جن ''میں بل بتوڑی کا کردار ادا کرنے والی خاتون نصرت آراء کے حوالے سے آئی تھی جو عمر کے اس حصے میں مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ایک کمرے کے چھوٹے سے گھر میں رہائش پذیر ہے ، اس کے بارے میں جب ایک ٹی وی چینل پر رپورٹ چلی تو وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر متعلقہ وزارت اور اداروں نے نہ صرف 50ہزار روپے کا چیک اس تک پہنچا یا بلکہ اس کے علاج کے لئے 5لاکھ روپے بھی مختص کر دیئے ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اپنے زمانے کی انتہائی مقبول اداکارہ جس نے ٹی وی ڈراموں میں دھوم مچانے کے بعد کچھ فلموں میں بھی بطور ہیروئن کام کیا ۔روحی بانوکے نام سے مشہوراداکارہ کی حالت اس وقت یہ ہے کہ ذہنی امراض نے اسے آن گھیر ا ہے اور وہ اس وقت لاہور کے مشہور ادارے فائو نٹین کے زیر اہتمام ذہنی امراض کے اندر زیر علاج ہے ، گزشتہ روز پشتو کی مقبول گلوکارہ معشو ق سلطان بھی عسرت کی زندگی گزارتے ہوئے ہپا ٹائٹس سی کے مرض میں مبتلا ہو کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملی ، اپنی زندگی میں سینکڑوں میوزک البم ریکارڈ کرانے والی اس عظیم فنکار ہ کو اگرچہ چند برس پہلے پر ائیڈ آف پر فارمنس بھی دیا گیا تھا مگر اس کی زندگی کا آخری دور تنگدستی میں گزرا ، اگر چہ یہ فنکار ہ پشاور کی بجائے لاہور ، کراچی میں ہوتی اور اس کی زبان اردو یا پنجابی ہوتی تو شاید اپنے البمز کی رائلیٹی اسے اس قدر ملتی کہ اسے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہ آتی مگر یہاں پر جو لوگ پشتوگانے ریکارڈ کرکے اس سے لاکھوں کماتے ہیں وہ فنکار کو رائیلٹی دینا گناہ سمجھتے ہیں ، اسی ہفتے پشتو فلموں کے ایک بہت اچھے اداکار عمر دراز خلیل بھی اچانک چل
بسے ۔ ان کے حوالے سے بھی ایک اخبار میں ایسی ہی اپیل سامنے آئی تھی کہ حکومت ان کے پسما ندگا ن کی مالی امداد کرے ، خدا جانے یہ خبر ان کے اہل خاندان کی مرضی سے شائع ہوئی تھی یا اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔ بد قسمتی سے چند ماہ پہلے صوبے کے جن فنکاروں ، اہل قلم اور اہل ہنر کی مالی امداد کا جو پروگرام شروع کیا گیا تھا اس کے بارے میں بھی بعض حلقوں کو شکایات (جائز نا جائز ؟)لاحق رہی ہیں ۔ ایک تو یہ جزو وقتی تھا اور صرف سات ماہ تک تیس ہزار روپے فی کس مالی امداد دینے کا اعلان کرکے صرف چھ ماہ تک ہی رقوم تقسیم کی گئیں دوسرے یہ کہ کچھ لوگوں نے یہ شکایت کی ہے کہ امداد لینے والوں میں بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جو مطلوبہ معیار پر کسی بھی صورت پورے نہیں اترتے تھے بس سفارش کی بنیاد پر '' املوکو ں کے تول میں ''آگئے تھے ، ان شکایات میں کتنی صداقت ہے یہ تو ذمہ داران ہی بہتر جانتے ہوں گے ۔ تاہم یہاں یہ بات یاد کرانے کی ضرورت ہے کہ جب تک مالی امداد یا وظائف کا یہ سلسلہ وفاق کے تحت تھا تو جن لوگوں کو یا ان کے اہل خانہ کویہ رقوم ملتی تھیں وہ مسلسل عمل تھا ، البتہ جب سے کلچر کا شعبہ صوبوں کی صوابد یدپر آچکا ہے اس قسم کے ادھو رے منصوبے جاری کئے جا رہے ہیں ، یعنی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن کو مالی امداد کا حقدار تسلیم کیا گیا ان کو صرف 6ما تک امداد ی رقم دے کر ایک بار پھر مسائل کا سامنا کرنے پر مجبور کرنے کا کیا جواز ہے ؟ کیا اب ان کی آمد ن کا کوئی بندوبست ہوگیا ہے ؟ حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ بقول شکایت کنندگان جن سفارشیوں کو اس منصوبے میں شامل کیا گیا ان کے نام کاٹ کر حقیقی حقداروں کو تیس ہزار نہیں تو کم از کم دس ہزار روپے ماہوارمستقل مالی امداد کے طور پر دینے کی منصوبہ بندی کی جائے تاکہ ان کی گزر اوقات کچھ تو ہوسکے ۔
باراں کی طرح لطف وکرم عام کئے جا
آیا ہے جو دنیا میں تو کچھ کام کئے جا

متعلقہ خبریں