ارباب صاحب پہ مخہ دے خہ

ارباب صاحب پہ مخہ دے خہ

ہم نے جب بھی انہیں فون کیا جو اب میں ایک پیشگی قہقہے کے ساتھ یہ الفاظ سنائی دیئے پروفیسر صیب 'شاعر صیب ' فیلسوف صیب وایہ کنہ ، ہمیں اب بھی یقین ہے ۔ اور پہلے بھی یہی سمجھتے تھے کہ ہم ان کے دیئے گئے ان القابات میں کبھی ایک کے بھی اہل نہیں ، یہ ان کی بزرگانہ شفقت اور شخصی عظمت کا اپنا ایک انداز تھا۔ یہ اربا ب ہدایت اللہ خان کی آواز تھی جو 17دسمبر کی رات کو ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئی ۔ ہمارے یہ بزرگ دوست ایک دیانت دار اور صاف گو پولیس افیسر کی شہرت رکھتے تھے ۔ وہ 5سال کی ریکارڈ مدت تک سندھ جیسے ایک پر مسائل صوبے کے انسپکٹر جنرل آف پولیس رہے ۔ جنرل ضیاء الحق کا دور تھا ۔ ایک مخالف سیاسی جماعت اُنہیں اپنی ایک حریف قوم پرست جماعت کا نمائندہ سمجھتی تھی ۔ اُن پر یہ الزام بھی تھا کہ انہیں سندھ میں ایک مخصوص سیاسی جماعت کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لئے پوسٹ کیا گیا ہے ۔ جس جماعت کا ذکر ہے وہ اُن دنوں فوجی حکومت کی زیر عتاب تھی لیکن اس الزام میں کوئی حقیقت نہ تھی ۔ وہ ایک پولیس آفیسر کے طور پر پوری ذمہ داری اور دیانتداری کے ساتھ بلا امتیاز صوبے میں اپنے فرائض انجام دے رہے تھے ۔ پی پی پی کی حکومت آئی تو انہیں پہلے تو افسر بکار خاص بنادیا گیا اور پھر مدت ملازمت کے اختتام سے پہلے ہی ۔ ملازمت سے فارغ کر دیئے گئے ۔ پشاور پہنچے تو اُن کی جیب میں صرف چھ ہزار کی رقم پڑی تھی ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اُنہوں نے اپنے گھر کی تعمیر پدری جائیداد میں سے کچھ حصہ فروخت کر کے مکمل کرلی اور پورے اطمینان کے ساتھ اپنے علمی مشاغل میں مصروف ہوگئے ۔ جی ہاں اُن کی عالمی ادب پر گہری نظر تھی فارسی ادبیات کے شیدائی تھے زندگی کے آخری ایام میں اقبالیات کا مطالعہ اُن کا پسندیدہ مشغلہ رہا ۔ اقبال کے پسندیدہ اشعار اپنے عالمانہ تبصرے کے ساتھ برقی مراسلوں میں اپنے احباب کو ضرور روانہ کرتے ۔ گزشتہ ایک سال سے تو اُن کے ہر دوسرے مراسلے میں اقبال کا ذکر ضرور ہوتا ہمارے مشترکہ دوست رشاد خان مجھے فون پر کہتے۔ نا ھلکہ دا ارباب صیب دے پہ سہ اڑولے دے ۔ بھئی یہ تم نے ارباب صاحب کو کس کام پر لگا دیا ہے ۔ یہ صرف آج کل کی بات نہ تھی زمانہ طالب علمی سے ہی ارباب صاحب کا ادب سے گہرا شغف رہا ۔ 1944میں جب وہ ایڈ ورڈ کالج پشاور میں بی اے کے طالب علم تھے ۔ تو انہوں نے پشتوں میں سپوگمئی تہ کے عنوان سے پہلی آزاد نظم لکھی اور اس طرح پشتو میں بلینک ورس کے بانی قرار پائے ایڈورڈز کالج کے سالانہ میگزین کانام بھی ارباب صاحب نے تجویز کیا تھا ۔ 1950میں ارباب صاحب نے وفاق کی اعلیٰ ملازمتوں کے امتحان میں کامیابی پر پولیس سروس جائن کی اس سے پہلے وہ 1947کی ابتداء میں آل انڈیا ریڈیوں میں بطور پیشکار ملازم ہوئے تھے ریڈیو کی تین سالہ ملازمت کے دوران وہ ایک اعلیٰ پائے کے براڈ کاسٹر ثابت ہوئے ۔اور اپنی نگرانی میں بے شمار پر وگراموں کا آغاز کیا جن میں ددوستا نو خبرے ، کے نام سے ایک مقبول عام پروگرام بھی شامل تھا ۔ یہ پروگرام اپنی بے پنا ہ مقبولیت کی وجہ سے کم و بیش 42سال تک ریڈیو پاکستان پشاور سے نشر ہوتا رہا ۔ اس پروگرام کی مقبولیت اُس کے کرداروں پائند ہ خان اور توکل خان کی وجہ سے تھی ۔ بعد میں شاہ پسند خان اور گلا مد خان بھی اس کا حصہ بنے ، لیکن دونام '' عبد اللہ جان مغموم اور گل محمد خان کے لئے ، وہ بتاتے ہیں کہ اجمل خٹک اور میں نے باہمی مشورے سے طے کئے تھے۔ ہمارے دوست اور پشتو کے ممتاز محقق پر وفیسر داور خان دائود نے اپنی کتاب ارباب ہدایت اللہ شخصیت اور فکر وفن میں ارباب صاحب کی شخصیت اور فکری رجحانات کا ایک تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے جس میں وہ انہیں جمال دوست جمال پرست شاعراعلیٰ پائے کا مترجم اور پشتو میں بلینک ورس کا بانی قرار دیتے ہیں ۔ اربا ب صاحب نے رحمان بابا کے منتخب اشعار خوشحال خان خٹک کی چیدہ چیدہ نظمیں عمر خیام کی چند رباعیات اور پشتو کے کچھ رومانی ٹپو ں کاانگریزی میں آزاد ترجمہ کیا ہے ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ عرصہ تک اُن کے سیاسی تبصرے اور خطوط بھی انگریزی اخبارات میں شائع ہوتے رہے ۔ ہمارے اصرار پر وہ کچھ سال پہلے انہی یادداشتوں پر مبنی برقی مراسلے روانہ کرتے رہے ۔ بتا تے تھے کہ وہ اپنے طور پر بھی بزبان انگریز ی اپنی سوائح عمری پر کام کر رہے ہیں ۔ پیرانہ سا حالی کی وجہ سے وہ بعد میں یہ سلسلہ جاری نہ رکھ سکے ۔ آخری وقت تک ارباب صاحب کی صحت قابل رشک تھی ۔ ٹی وی دیکھتے وقت نظر عینک کبھی استعمال نہیں کی ۔ چلنے پھرنے میں قدرے دشواری کے علاوہ انہیں پیرانے سالی سے وابستہ کوئی بیماری لاحق نہ تھی ۔ ہم جب بھی اُن سے ملنے گئے ہم نے انہیں ایک خوش پاش اور مطمئن انسان پایا ہمیں للچانے نے کے لئے چائے کی پیا لی میں ایک کی بجائے دو چمچ شکر گھولتے اور کہتے اوگورہ کنہ ،میری طرف دیکھو ۔ تمہاری طرح پھیکی چائے نہیں پیتا بلاوا آیا تو 17دسمبر کی شب کو اچانک اُنکا فشار خون کم ہونے لگا ۔ اور پھر چند لمحوں میں وہ رخصت ہوگئے ۔ مجھے بتا یا کرتے کہ موت سے خوف کس بات کا۔ موت و حیات کے درمیان یہ جو زحمت یک گام ہوتی ہے اس میں کچھ اذیت ضرور ہو سکتی ہے ۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ارباب ہدایت اللہ خان (ستمبر 1923تا دسمبر 2016)کو اللہ نے ان کی اپنے پختہ ایمان اور شرف انسانیت پریقین کی وجہ سے موت وحیات کے درمیان چند لمحوں کی اذیت سے بھی اپنی امان میں رکھا ، ارباب صاحب آپ زندگی بھر یاد آتے رہیں گے۔ پہ مخہ دے خہ ۔ 

متعلقہ خبریں