اوما کاراریسٹورنٹ

اوما کاراریسٹورنٹ

زندگی ایک ایسا سفر ہے جو اپنے اندر بہت سے نشیب و فراز لیے ہوئے ہے کبھی کے دن بڑے اور کبھی کی راتیں!اس سفر کی کہانی عجیب بھی ہے اور دلچسپ بھی، ہر روز نت نئی خبروں اور لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے بعض خبریں پڑھ کر ذہن میں بہت سے لوگوں کی یاد تازہ ہوجاتی ہے تھوڑی دیر پہلے ایک ایسی ہی خبر پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے جسے پڑھ کردماغ میں خیالات کے ایک بہت بڑے ہجوم نے یلغار کر رکھی ہے کہتے ہیںشوق کا کوئی مول نہیں ہوتا ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ شوق کا کوئی مول بھی نہیں ہوتا اور کوئی حد بھی نہیں ہوتی طرح طرح کے شوق ہیںاگر گننے لگیں تو گنتی کم پڑ جائے مگر ہم انہیں شمار نہ کرسکیں اس وقت ہمارے پیش نظر ایک ہی شوق ہے اور وہ ہے کھانے پینے کا شوق! ہم نے صرف کھانے پینے کے شوقین حضرات کے شوق بلاخیز پر بات کرنی ہے لیکن پہلے آپ وہ خبر پڑھ لیں جس کی وجہ سے ہماری توجہ خوش خوراکوں کی طرف نہ صرف مبذول ہوگئی ہے بلکہ ہم نے اس پر ایک عدد کالم لکھنا بھی شروع کردیاہے جاپان کے دارالخلافہ میں ایک ایسا ہوٹل بنفس نفیس موجود ہے جو اپنے دیے ہوئے چیلنج کو مقررہ وقت میں پورا کرنے والے گاہک کو نہ صرف پچاس ہزار ین انعام دیتا ہے بلکہ کھانے کے پیسے بھی نہیں لیتا ہوٹل کا نام ہے اوما کارا ریمن ہیوری ریسٹورنٹ! ٹوکیو کے اس مشہور و معروف ریسٹورنٹ نے اپنے گاہکوںکو ایسا چیلنج دیا ہے جس کے بعد کھانے پینے کے شوقین افراد کھانے کی طلب کے ساتھ چیلنج پورا کرنے کی کوششوں میں لگ گئے ہیں یعنی ہم خرمہ و ہم ثواب!خوش خوراک تو ایسے موقعوں کی تاک میں رہتے ہیں اور اگر انہیں کوئی ہوٹل کھانے کا چیلنج بھی دے رہا ہو تو پھر کیا کہنے ! ریسٹورنٹ کی جانب سے عام پیشکش ہے کہ اگر کوئی کسٹمر ریسٹورنٹ کی مخصوص ڈش ریمن (نوڈلز اور چکن سے بنی ڈش) بیس منٹ میں کھا لے گا تواسے پچاس ہزار ین انعام دیا جائے گا اور اس سے کھانے کے پیسے بھی نہیں لیے جائیں گے لیکن یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ ریسٹورنٹ کی انتظامیہ نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہوئیں ان کا کہنا ہے کہ چیلنج کا حصہ بننے والے شخص کو تین ہزار ین جمع کروانے ہوں گے جس کے بعداگر اس نے ریمن کا ڈونگا بیس منٹ کے اندر ختم نہ کیا تو اسے دس ہزار ین جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔''یہ خبر پڑھنے کے بعد ہمارے ذہن میں چند مہربانوں کے نام آگئے ہیں جو کھانے پینے کے بہت زیادہ شوقین ہیںایک دوست سے ہم نے کہا کہ جناب آپ شام کو گھر واپس لوٹتے ہوئے اپنے ساتھ کبھی کباب، کبھی مرغی اور کبھی مچھلی ضرور گھر لاتے ہو اگر کبھی جیب خالی ہو تو آلو پکوڑوں سے کام چلا لیتے ہو لیکن گھر کے پکے ہوئے سالن کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے گھر میں پکی ہوئی سبزی صحت کے لیے کتنی فائدہ مند ہے مگر آپ اس کوچے میں قدم ہی نہیں رکھتے آپ کا وزن بے تحاشہ بڑھ چکا ہے اپنی عمر سے بڑے نظر آتے ہو تندرستی تو ہزار نعمت ہے صحت کا خیال تو رکھنا چاہیے ! وہ ہماری بات سن کر ایک بلند بانگ قہقہہ لگانے کے بعد کہنے لگے جناب کل کس نے دیکھا ہے آج جو میسر ہے اسے دل کھول کر اڑانا چاہیے کیا معلوم اچانک کوئی بیماری حملہ کردے اور ڈاکٹر پرہیز ی کھانا کھانے کا نادر شاہی حکم جاری کردے !ہمارے یہاں بہت سے بڑے بڑے ہوٹلوں میں گاہکوں کے لیے بوفے کا اہتمام موجود ہے خوش خوراکوں کے لیے فی کس قیمت مقرر ہے آپ جتنا چاہے جتنی دیر دل چاہے دس بیس ڈشوں کا خانہ خراب کر سکتے ہیں کوئی آپ کو روکتا نہیں ہے۔ اکثر دوچار دوست مل کر ہی کھانے پینے کی اس عیاشی سے لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن یقین کیجیے ہم نے ایک مہربان کو تن تنہا ہوٹل کی میز پر براجمان دیکھا تو حیرت سے ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ہماری حیرت کی وجہ یہ تھی کہ پشاور میں ایسے زندہ دلان کی بھی کمی نہیں ہے جو بغیر کسی تقریب کے ہوٹل میں صرف کھانا کھانے جاتے ہیں اور وہ بھی تنہا!لیکن شوق تو بس شوق ہوتا ہے یہ آپ کو چاروں شانے چت کر کے ہی چھوڑتا ہے ۔ہمیں جاپانیوں کی سادگی پر بے اختیار پیار آتا ہے اگر ٹوکیو کا اوماکارا ہیوری ریسٹورنٹ ہمارے پیارے وطن کے کسی بھی علاقے میں ایسا چیلنج کرنے کی غلطی کر بیٹھے تو صرف چند دنوں میں دیوالیہ ہوجائے گا۔ جاپانیوں نے ہمارے پنجاب میں کولیسٹرول سے بھرپور پائے کھانے والے شیر نہیں دیکھے ان کے سامنے ریمن جیسی نرم و نازک اور نفیس ڈش کی کیا حیثیت ہے!ہمارے اپنے شیر کیا کسی سے کم ہیں۔ دو تین دوست جب تین کلو چھوٹے گوشت کی کڑاہی اور تین کلو سیخوں میں کوئلوں پر روسٹ کیا ہوا دنبہ بڑی آسانی سے نوش جان کر جاتے ہیں۔ ہمیں تو اب ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جو بسیار خوری کے نقصانات پر بڑے فصیح و بلیغ خطبے دیتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے ایک مہربان تو یقینی موت کا نقشہ آنکھوں کے سامنے کھینچ کر رکھ دیتے ہیں لیکن حرام ہے جو کھانے پینے کے شوقین ان کی نصیحتوں پر کان دھرنے کی زحمت گوارا کرتے ہوں !