طاقتور ترین بننے کااعزازاور راز؟

طاقتور ترین بننے کااعزازاور راز؟

امریکہ کے معروف بزنس میگزین ''فوربز'' نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کو رواں سال کی دنیا کی طاقتور ترین شخصیت قراردیا ہے ۔اس فیصلے کے حق میں میگزین نے جو چند دلائل دئیے ہیں ان میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ مسٹر پیوٹن نے اپنے ملک کا اثر رسوخ دنیا کے ہر کونے میں پہنچایا ۔روس سے لے کر شام اور پھر امریکی انتخابات تک صدر پیوٹن کو وہ سب کچھ حاصل ہوا جس کی انہوں نے تمنا کی ۔گزشتہ تین سال سے میگزین کے سروے میں ولادی میرپیوٹن کا نام ہی دنیا کی طاقتور شخصیات کی فہرست میں سب سے اوپر چلا آرہا ہے ۔رواں سال کی فہرست میں امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسرے نمبرجبکہ جرمن چانسلر انجیلا مریکل تیسرے اور چینی صدر شی چن پنگ چوتھے نمبر پرہیں۔ یوں توسرد جنگ کے زمانے کی ڈائی پولر (دوقطبی) دنیا کو یونی پولر(یک قطبی) بنانے میں جہاں دنیا کے بہت سے گمنام سپاہیوں ،حکمت کاروں ،منصوبہ سازوں،خواب فروشوں اور حکمرانوں کا حصہ تھا مگر عالمی سطح پر اس کا کریڈٹ امریکہ کے صدر رونالڈ ریگن کو دیا جاتا ہے جس نے سوویت یونین کے خلاف ہمہ جہتی جنگ کو مربوط اور منظم انداز میں یوں آگے بڑھایا کہ سوویت یونین داخلی طور غیر مستحکم اور عالمی سطح پر تنہا ہوتا چلاگیا ۔اب جبکہ ڈھائی عشرے کے بعدیونی پولر دنیا ایک بار پھر ملٹی پولر بننے جا رہی ہے اور اس نئے منظر نامے میں امریکہ کی عالمی اجارہ داری کمزور پڑتی جا رہی ہے تو اس منظر کی تبدیلی کا کریڈٹ بھی جن بہت سے خاموش اور سرگرم کرداروں کو جاتا ہے ان میں بلاشبہ روسی صدر ولادی میرپیوٹن سرفہرست ہیں۔ ولادی میرپوٹن نے خفیہ ایجنسی کے جی بی کے ساتھ وابستگی کے دوران سوویت یونین کے بحر بیکراں کو رشین فیڈریشن کی تنگنائے میں سمٹتے دیکھا اور شاید ان کے ذہن میں نوے کی دہائی کے اوائل کی صبحیں اور وہ مناظر ٹھہر کر رہ گئے جب ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ جیسے شہروں کی سڑکوں پر ان کے اہل وطن ڈبل روٹی کے لئے لمبی قطاروں میں خوار ہو تے تھے ۔پیوٹن کی نظروں کے سامنے ہی سوویت یونین کی عظمت اور جاہ وجلال کا سورج رفتہ رفتہ غروب ہورہا تھا تو اس کا سب سے اہم محرک معاشی عدم استحکام تھا ۔یہی وجہ ہے کہ روس کے پیوٹن سے ترکی کے طیب اردگان تک آج دنیا کے طاقتور حکمرانوں کے سیاسی ارتقا پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوگی کہ یہ حکمران پہلے اپنے عوام میں مقبول ہوئے ۔ان حکمرانوں نے عوام کو نعروں سے مطمئن اور خوابوں سے خوش حال کرنے کا راستہ نہیں اپنایا ۔یہ حکمران اس حقیقت کو پا چکے تھے کہ جدید دنیا میں اب فرد کو نعروں اور نظریات سے متاثر تو کیا جاسکتا ہے مگر مطمئن نہیں رکھا جا سکتا ہے ۔جدید معاشی نظام ایک کولہو اور انسان اس کے گرد گھومنے والا بیل ۔اس بدلی ہوئی دنیا میں اقتصادیات ایک فرد سے ریاست تک اہمیت اختیار کر چکی ہے ۔ریاست خوش حال ہو تی ہے تو افراد بھی خوش حال ہوتے ہیں مگر افراد کی خوش حالی ریاست کے لئے خوش حالی نہیں لاتی ۔اس لئے پیوٹن نے عالمی طاقت سے زوال کی راہوں پر لڑھکنے والے روس کی اقتصادیات پر توجہ دی ۔دو عشرے تک روس کسی بے سُدھ وہیل مچھلی کی مانند دنیا کے سیاسی بکھیڑوں اور جھگڑوں سے بے نیاز اپنی اقتصادیات پر توجہ مرکوز کئے رہا ۔ان بیس برسوں میں دنیا میں اتھل پتھل ہوئی ۔سابق سوویت یونین کے صدام حسین اور معمر قذافی جیسے عرب ہمدرد زوال کا شکار ہوئے مگر روس اپنے ان اتحادیوں کو انجام سے نہ روک سکا ۔پیوٹن کے روس کا سکوت اس وقت ٹوٹنے لگا جب وہ معاشی طور پر دوبارہ استحکام کی راہ پر گامزن ہو گیا ۔وہیل مچھلی نے پہلی کروٹ اس وقت لی جب شام میں سوویت عہد کے اتحادی اسدخاندان اور سوشلسٹ نظریات کی حامل بعث پارٹی کی حکومت مغرب کی منصوبہ بندی سے شروع ہونے والی ''بہار عرب ''کی سیلابی لہروں کی زد میں آئی۔روس نے اس تبدیلی کے آگے بندھ باندھنے کا فیصلہ کر لیا اور وہ بڑی حد تک بہار عرب کی لہروں کو شام میں روکنے میں کامیاب ہو گیا ۔اس نے ولادی میرپیوٹن کا اعتماد بڑھا دیا اور ان کے بڑھتے ہوئے اس اعتماد کا غماز ایک جملہ تھا کہ ''ایسی دنیا بنانے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں جہاں اقتصادی ،فوجی اور ثقافتی اعتبار سے ایک ملک کا غلبہ ہو'' ۔ اب تو بات یہاں تک جا پہنچی کہ امریکہ کے انتخابات کے نتائج کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد زیر بحث رہنے والے روسی صدر ولادی میرپیوٹن ہیں ۔سابق ہوجانے والے امریکی صدر اوباما اور ناکام صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کھلے بندوں صدر پیوٹن پر امریکی انتخابات پر اثر انداز ہونے کا الزام عائد کر رہے ہیں ۔روس ماضی کی قید سے باہر آکر پاکستان جیسے ماضی کے مخالف ملکوں سے اپنے تعلقات کی ایک نئی جہت ترتیب دے رہاہے اور دنیا کے ذرائع ابلاغ روس کے حکمران کو دنیا کا طاقتور ترین شخص قرار دے رہے ہیں ۔اس سے سبق حاصل ہوتا ہے کہ دنیا میں طاقتور ترین شخصیت کا اعزازپانے کے لئے اپنے عوام کو خوش،خوش حال اور مطمئن کرنا ضروری ہوتا ہے ۔پیوٹن ہو یا اردگان سپیس جما جمایا سسٹم کسی کو سپیس تحفے میں دیتا ہے نہ کسی کی عظمت اور احترام میں راستہ چھوڑتا چلا جاتا ہے ۔یہ حکمران کے عوام دوست اقدامات ہوتے ہیں جو اس کی سپیس بڑھاتے اور اسے اپنے ملک کے مقبول اور دنیا کے طاقتور ترین حکمران کا اعزاز بخشتے ہیں۔اس کہانی میں'' سپیس ''کے طلب گار ہمارے ماضی اور حال کے حکمرانوں کے لئے یہی راز پوشیدہ اور یہی سبق پنہاں ہے۔

متعلقہ خبریں