مشرقیات

مشرقیات

مشرقیاتبہادر شاہ کے زمانہ 1121ھ اور اس کے چوتھے سال کا ذکر کہ کسی مذہبی معاملے پر فضلائے لاہور نے شورش کی ۔ بادشاہ نے ان کو بلوایا۔ حاجی یار محمد اور محمد مراد تین چار مشہور فاضلوں کے ساتھ بادشاہ کے پاس گئے ۔ بادشاہ نے رعب دکھا کر اور آنکھیں غصہ سے لال پیلی کر کے ایک سوال کیا۔دربار کو توقع تھی کہ علمائے لاہور اپنے دعوے سے دست بردار ہو کر عفو تقصیرات کے خواہش مند ہوں گے ۔ لیکن حاجی یا رمحمد نے بادشاہ کے قول کا ایسا رد کیا کہ اس کا جواب نہ ہوسکا۔ بادشاہ نے برآشفتہ ہو کر کہا کہ بادشاہوں کے غضب سے نہیں ڈرتا۔ حاجی یار محمد نے جواب دیا مجھے اپنے خداوندکریم سے ہمیشہ چار چیزوں کی خواہش رہی اول تحصیل علم ، دوم حفظ کلام اللہ ، سوم حج ۔ چہارم شہادت، الحمد للہ، اس نے تین نعمتیں عطا کیں، اب شہادت کی آرزو باقی ہے۔ بادشاہ کی توجہ سے ممکن ہے اس میں بھی کامیاب ہوجائوں۔تاریخ میں لکھا ہے کہ حاجی یار محمد کا یہ استقلال اور حوصلہ دیکھ کر تقریباً ایک لاکھ آدمی اس کے ساتھ متفق ہوگئے۔ واقعہ یہ تھا کہ بہادر شاہ خطبہ میں کچھ الفاظ بڑھانا چاہتا تھااور علمائے اہل سلطنت اس سے انکار کرتے تھے۔ آخر بادشاہ کو ہار ماننی پڑی اور خطبہ وہی رہا جو عالمگیر کے زمانے میں پڑھا جاتا تھا ۔بادشاہ نے دل میں کدوت رکھی اور آخر کسی بہانہ سے حاجی یار محمد اور اس کے دو ہمراہیوں کو قلعہ میں بند کر دیا، لیکن ان تکلیفوں اورنظربندیوں پر بھی انہوںنے ضمیر فروشی سے کام نہ لیا۔ (تاریخ ہند)
بہادر شاہ کے بعد اس کا بیٹا معز الدین جہاں شاہ جہاندار شاہ کا لقب اختیار کر کے تخت دہلی پر بیٹھا، اس کی حکومت توصرف دس مہینے ہی رہی ، مگر اس کے عہد نا پائیدار میں فسق وفجور کی بنیاد خوب مستحکم ہوگئی ۔ کلاونت اور ڈوم ندیم ومصاحب بنے۔ لال کنور ایک بازاری عورت کو محل میں لا کر ممتاز کا خطاب دیا۔ اس کے بھائی خوشحال خان کو اکبر آباد کی صوبیداری اورمنصب پنجہزاری سہ ہزار سوار عنایت کیا۔ اسی طرح لال کنور کے اورکئی رشتہ داروں کو منصب اور جاگیر یں دیں۔آصف الاولہ اسد خان کا بیٹا ذوالفقار خان وزارت کے عہدہ پر تھا۔ اس نے ان ڈوموں اور کلاونتوں کے اسناد اورفرمان لکھنے میں عمداً توقف کیا۔ لال کنور کو خبر ہوئی۔ اس نے بادشاہ سے وزیر کی شکایت کی۔ جہانداد شاہ نے وزیر سے سبب پوچھا۔ وزیر نے کہا جب تک رشوت نہ ملے ہم کام نہیں کرتے۔ بادشاہ نے مسکرا کر کہا کیا رشوت لوگے۔ وزیر نے عرض کیا ہزار طنبورے جن پر استادوں نے نقاشی کا کام کیا ہو۔ بادشاہ نے کہا طنبورے کیا کروگے؟ ذوالفقار خان نے کہا جب قوال صوبیداری کا کام کریں اور کلاونت منصب دار کہلائیں اور ڈوم جاگیریں حاصل کریں توہم خانہ زاد بیکار بیٹھے کیا کریں گے۔ بادشاہ یہ سن کر ہنس پڑا اور اپنا حکم عطائے جاگیرات وغیرہ کا منسونخ کر دیا۔(تاریخ ہند)

متعلقہ خبریں