امریکی صدر کا افتتاحی خطاب

امریکی صدر کا افتتاحی خطاب


امریکی تاریخ کے سب سے متنازعہ صدر ڈ ونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہدے کا چارج اپنے خلاف ہونے والے مظاہروں اور امریکیوں کی ایک خاصی تعداد کی جانب سے اظہار نا پسندیدگی کے عالم میں سنبھالا۔ ان کے خلاف خواتین کا ایک بڑا مظاہرہ بھی متوقع ہے جس میں دو لاکھ افراد کی شرکت کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو صرف عوامی نا پسندیدگی ہی کا سامنا نہیں بلکہ ان کے حوالے سے امریکی انتظامیہ اور حساس اداروں کی آراء بھی کچھ مثبت نہیں بلکہ ان پر ابھی سے بد اعتمادی اوران کی شخصیت کو نا قابل اعتبار و ناقابل اعتماد قرار دیا جا رہا ہے جس سے آمدہ دنوں میں مشکلات کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ صدارت سنبھالنے کے موقع پر بیشتر مبصرین کا خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو مواخذے کی تحریک کاسامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ان کے سیاسی مخالفین کی ایوان میں حمایت میں اضافہ اور اکثریت میں آنا بھی غیر متوقع نہیں۔ ان تمام نا مساعد حالات کے باوجود اس امر کی پیشگوئی قبل از وقت ہوگی کہ ٹرمپ اپنے مقاصد میں کس حد تک کامیاب ہوں گے البتہ یہ بات ابھی سے واضح ہے کہ وہ متنازعہ صدر ضرور ہوں گے اور آگے چل کر تضادات میں اضافہ ہوگا۔ ٹرمپ کے بطور پنتالیسویں امریکی صدر کے حلف اٹھانے کے موقع پر سینکڑوں افراد کا واشنگٹن میں احتجاج اچھی شروعات نہیں۔ امریکہ کے صدرکا بلا شبہ مضبوط ترین عہدہ ہوتا ہے مگر اس عہدے پر براجمان شخصیت کا کردار و عمل اگر اس کے لئے مشکلات اور خجالت کا باعث بن رہا ہو تو اس کی اخلاقی ساکھ کمزور ہونے سے ملکی اور عالمی سطح پر اس کی قدر و منزلت پر کسی نہ کسی طرح اثر انداز ہونا فطری امر ہوگا۔ فی الوقت نو منتخب امریکی صدر کو اس کی کوئی پرواہ نظر نہیں آتی مگر ان کی جس طرح سے مخالفت دکھائی دیتی ہے اور جن ریاستی اداروں میں ان کی اخلاقی حیثیت اور اعتماد کو شک کی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے یہ طاقتور ترین عہدے پر براجمان شخصیت کے لئے کوئی نیک شگون نہیں۔ ممکن ہے آگے چل کر کچھ ایسے معاملات سامنے آئیں جن کا دفاع ٹرمپ کے لئے آسان نہ ہو نو منتخب امریکی صدر ٹرمپ کی روس سے قربت اور روسی ہیکرز کی جانب سے انتخابی نتائج کو ان کے حق میں پلٹنے میں کردار سنگین معاملہ ہے اور روس سے ان کی قربت ان پر امریکیوں کے اعتماد کے متزلزل ہونے کا سبب بننا اچنبھے کی بات نہ ہوگی۔ چین کے حوالے سے بھی ٹرمپ کا رویہ مبنی بر اعتدال نہیں بلکہ چین ابھی سے ٹرمپ کی سرکش خارجہ پالیسی کی حرارت کا شاکی ہے کیونکہ انہوں نے بطور منتخب صدر تائیوان کے صدر کو بھی فون کرکے ون چائنا کی پالیسی کی خلاف ورزی کی۔ گزشتہ تمام امریکی حکومتیں خواہ وہ ری پبلکنز کی تھیں یا ڈیموکریٹس کی 1979ء سے وہ ون چائنا کی پالیسی پر قائم رہی ہیں۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران تلخیوں کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات کشیدگی کی بجائے بہتری کی طرف گامزن رہے لیکن اب ایسا نظر نہیں آتا۔ ٹرمپ کے تائیوان کی جانب پر تپاک رویوں اور ا شاروں سے ایک بار پھر ٹو چائنا کا مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے۔ یہ بات بیجنگ کے لئے بھی شدید غصے کاباعث بنی ہے اور اس کے یقینی طور پر زبردست علاقائی اور عالمی اثرات مرتب ہوں گے۔ چین نے ٹرمپ پر آگ سے کھیلنے کاالزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیاہے کہ بیجنگ کے پاس پھر اپنی طاقت دکھانے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں بچے گا۔ ٹرمپ کی بریگزٹ کے لئے عالمی سطح پر حمایت اور بیانات میں دیگر یورپی ملکوں کو بھی برطانیہ کے نقش قدم پر چلنے کا مشورہ دینے کی وجہ سے انہیں یورپی ممالک کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف سے خوشگوار ٹیلی فونی گفتگو کے باوجود پاکستان کے حوالے سے بھی ہمیں کسی خوش گمانی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان امریکہ کی جانب سے پاکستان میں اپنی سر زمین پر انتہا پسند گروپوں کے خلاف امریکی تشریح اور فرمائشوں کے مطابق کارروائی پر زور اور افغانستان کی صورتحال میں بگاڑ کے باعث پاکستان اور امریکہ کے درمیان اختلافات اور نا خوشگواریت کا امکان کافی سے زیادہ ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ماضی میں بھی امریکہ اور پاکستان اتحادی ممالک ہونے کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات میں اعتماد کا فقدان شکوک و شبہات اور بد اعتمادی کا عنصر چھایا رہا ہے۔ ان بادلوں کے چھٹنے کا اب بھی امکان نہیں ۔ ممکن ہے ڈونلڈ ٹرمپ جیسے غیر متوقع مزاج صدر کی آمد سے ان میں اضافہ ہو اور خلیج بڑھ جائے۔ علاوہ ازیں دنیا بھر میں بنیاد پرست اسلامی دہشت گردی کو مٹانے کے جس عزم کا انہوں نے افتتاحی صدارتی تقریر میں اظہار کیا ہے ہر امریکی صدر اس کا ایک عرصے سے اظہار کرتا آیاہے۔ مگر اب تک بش سینئر سے لے کر سبکدوش ہونے والے صدر اوبامہ تک کسی کو خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوسکی ہے اور یہ انتہا پسندی سکڑنے کی بجائے پھیلنے لگی ہے۔ اگر اس جن کو قابو کرنا امریکہ کے بس میں ہوتا تو ایسا ہوچکا ہوتا۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنے پیشوئوںکی طرح اس جن کو مسلم ممالک کو اعتماد میں لے کرقابو کرنے کی بجائے ان کو بھی مشکوک گردان کر خود سے کرنے کی ٹھان لے تو اس بیل کا منڈھے چڑھنا شاید ممکن نہ ہو البتہ اگر عالم اسلام اور غیر مسلم دنیا سبھی کسی فارمولے پر اعتماد کے ساتھ اتفاق کرلیں تو آسانی ممکن ہے۔ جہاں تک امریکہ کے داخلی معاملات بارے ٹرمپ کے خیالات کا تعلق ہے ایک امریکی صدرہونے کے ناتے امریکیوں کو روز گار اور تحفظ دینے کی ان کی ہرسعی خواہ اس سے غیر امریکیوں کو نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑے ان کا فیصلہ ہوگا۔ امریکیوں کو بہتری کی طرف لانا ان کی ذمہ داری بھی ہے۔ نو منتخب امریکی صدر ایک کاروباری شخص ہیں اور ہر کام میں مفادات کو مقدم رکھنے کی فطرت ان کی فطرت ثانیہ بن چکی ہوگی مگر اس سے دوسروں کو متاثر نہیں ہونا چاہئے تاکہ تضادات میں اضافہ نہ ہو۔ تمام تر معاملات اور تناظر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت' بیانات اور پالیسیاں عدم استحکام کا باعث بننے کے خطرات واضح ہیں۔ کانگریس اور مضبوط امریکی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ انہیں قابو میں نہ رکھ سکے اور ٹرمپ کو اپنی کرنے دیا جائے تو ایک نئی دنیا متعارف ہوگی مگر کانگریس اور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی موجودگی میں ٹرمپ کے لئے وہ سب کچھ کرنا شاید ممکن نہ ہوگا جس کا اب تک وہ اظہار کرتے آئے ہیں۔ ٹرمپ کے خیالات اور بیانات کا امریکہ کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھاتے ہوئے ٹرمپ سے مختلف ہونا فطری امر ہوگا۔ اندازہ ہے کہ وہ اپنی شخصیت کے برعکس امریکی صدر ہی رہیں اور مصلحت سے ہی کام لیں گے۔

متعلقہ خبریں