گورنر خیبر پختونخوا کی توجہ کے لئے

گورنر خیبر پختونخوا کی توجہ کے لئے


گورنر خیبر پختونخوا نجینئراقبال ظفر جھگڑا کے اس دعوے کو حقیقت کی کسوٹی پر جانچنے اور پرکھنے کے بعد ہی اس امر کا تعین کیا جاسکتا ہے کہ آیا واقعی قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرکے شہروں میں عارضی سکونت اختیار کرکے واپس جانے والے متاثرین کی واپسی کے بعد بحالی اور ترقیاتی عمل تیز کردیاگیا ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا اگر متعلقہ حکام کی بریفنگ سے ہٹ کر متاثرین سے براہ راست یا اپنے آزاد ذرائع سے معلوم کریں اور جو حقیقی صورتحال ان کے سامنے آئے اگر اس کی روشنی میں گورنر خیبر پختونخوا بحالی اور ترقیاتی کاموں میں تیزی اور فعالیت کا دعویٰ کریں تو اسے مبنی بر حقیقت تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی کمزوری ہی یہ ہے کہ وہ معروضی صورتحال کو معروضی انداز سے دیکھنے کے عادی نہیں بلکہ ان کو متعلقہ حکام اپنی کارکردگی پر پردہ ڈالتے ہوئے اور کرپشن و بدعنوانی کو چھپاتے ہوئے کاغذات اور خود تیار کردہ چارٹوں اور ڈیجیٹل ڈسپلے کی مدد سے جو کچھ حکام کو بتایا جاتا ہے وہ تصویر کا وہ رخ ہوتا ہے جو وہ دکھانا چاہتے ہیں ۔ دوسری جانب تصویر کا وہ رخ جو عوام کے جذبات و احساسات' ان کے مسائل اور سرکاری عمال کی کارکردگی سے متعلق ہوتا ہے۔ اس کی ہوا بھی حکمرانوں کو لگنے نہیں دی جاتی۔ گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا اگر میڈیا پر آنے والی رپورٹوں کا نوٹس لیا کریں اور ذرائع ابلاغ میں عوام کے مسائل کی جو نشاندہی سامنے آتی ہے اس کی روشنی میں سرکاری عمال کی کارکردگی کے دعوئوں کو جانچیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ ہمارے تئیں نقل مکانی کرنے والے متاثرین اپنے گھروں کو واپسی کے بعد مشکلات کا شکار ہیں۔ ترقیاتی کاموں کی انجام دہی تو در کنار بعض علاقوں میں تو بنیادی اساس کی بحالی کا کام بھی نہیں ہوسکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متاثرین کی بڑی تعداد کاغذات میں واپسی کاعمل مکمل کرنے کے بعد دوبارہ سے شہروں کو لوٹ رہی ہے۔ جب تک قبائلی علاقوں میں عوام کو مشکلات درپیش رہیں گی دیگر مسائل و مشکلات جس میں شدت پسندی بھی شامل ہے کسی نہ کسی طرح موجود رہے گی۔

متعلقہ خبریں