شکار پر پابندی کی خلاف ورزی

شکار پر پابندی کی خلاف ورزی


تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے احکامات کو ہوا میں اڑا دینے والے رکن صوبائی اسمبلی نے شکار سندھ کے کسی علاقے میں کیا یا یہ خیبر پختونخوا ہی کا کوئی علاقہ ہے اس سے قطع نظر ان کی جانب سے اپنے چیئر مین کو شرمسار کرنے والا اقدام ضرور کیا گیا ہے۔ ہمارے تئیں سرکاری قوانین کی پابندی کے ساتھ شکار کرنا کوئی معیوب بات نہیں لیکن پرندوں کی نسل کشی روکنے کے لئے اس عمل پر ناقدین کی بات میں بھی وزن ہے۔ اگرچہ شکار کے عمل میں سیاست کو عمل دخل نہیں لیکن خود تحریک انصاف کی جانب سے قطری شہزادوں کی شکار کے لئے آمد کو جس انداز میں سیاسی بنا دیاگیا تھا اس کے تناظر میں کم از کم تحریک انصاف کے فاضل ممبر اسمبلی کو بالخصوص اور دیگر کو بالعموم محتاط رویہ اختیار کرنے کی ضرورت تھی تاکہ مخالفین کو پھبتی کسنے کا موقع نہ ملے۔ بعض اطلاعات کے مطابق صوبے میں مخصوص عناصر کو محدود پیمانے پر شکار کے پرمٹ جاری کئے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ممکن ہے یہ اطلاع درست نہ ہو اگر صوبائی حکومت ایسا کرچکی یا کرنے کا ارادہ ہے تو اسے مخفی رکھنے سے شکوک و شبہات بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ اس لئے اس ضمن میں واضح پالیسی اختیار کی جائے تاکہ محولہ قسم کی صورتحال پیش نہ آئے۔

متعلقہ خبریں