کبھی تنہا ئی میں اپنی خطاء کو

کبھی تنہا ئی میں اپنی خطاء کو

نیا ز فتح پو ری نے فرمایا ہے کہ ''انسان آ گے بڑھ ر ہا ہے ، انسانیت پیچھے ہٹ رہی ہے ۔ دما غ ترقی کر رہا ہے ، روح تنزل کر رہی ہے ۔ اس وقت کا انسان ایک ایسا مستقی (پیا سا)ہے جس کے سامنے دریا جاری ہے اور وہ پانی پینے کے لیے آزاد ،لیکن اس کی ر وح جس چیز کے لیے بیتا ب ہے اس کا کہیں پتا نہیں ۔ امریکاکی پالیسیو ں کو دیکھ کر نیا ز فتح پو ری کے افکا ر کی تشریح خودبخود ہو جا تی ہے ، ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر منتخب ہو نے پر دنیا بھر میں ہا ہا کا ر مچی ہوئی تھی ۔ ایک دوسرے کے گر دے سر خ ہو رہے تھے گو سب یہ جانتے ہیںکہ ایک سیا ست دان کی انتخابی مہم کے دوران اس کے بیانا ت کو محض اس کی انتخابی مہم کا حصہ ہی سمجھنا چاہیے اصل کر دار تو اس کا حلف اٹھا نے سے شروع ہو تا ہے ، ٹرمپ کو امریکی صدر کے نا تے سے جو اعزاز حاصل ہے اس میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کا انتخاب نہ صرف دنیا میں جہا ں مقبولیت کا باعث ہے تو وہا ں نفرت وکدورت کا بھی باعث رہا ہے ۔خاص طورپر اسلا می دنیا میں اسی نظر سے دیکھا گیا ہے ، جو کافی حد تک درست بھی تھا۔ ان کے بارے میں تو بہت پہلے سے بہت زیا دہ تبصرہ کیا جا رہا تھا اور کیا جا رہا ہے تاہم ایک ہی بات سمجھ میں آرہی ہے کہ اگلے بر س اسلا می ریا ستوں کے لیے آزما ئش زدہ ہی ہو ں گے۔ انہو ںنے حلف اٹھا تے ہی فرمایا ہے کہ وہ اسلامی شدت پسندی کا خاتمہ کریں گے۔ پرانے اتحادیو ں کو مضبوط کرنے کے علا وہ نئے اتحادی بھی بنا ئیں گے۔ یہ نئے اتحادی کو ن ہو ں گے اس جا نب کوئی اشارہ نہیںکیا گیا ہے۔ تاہم ایک بات نظر آتی ہے کہ جس طر ح امریکا نے افغانستان پر اقوام متحدہ سے پر مٹ حاصل کر کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ چڑھا ئی کی گویا وہ اسی دہشت گردی کے نا م پر دوسرے ممالک پر چڑھائی کے لیے نئے اتحادیو ںکو بھی شامل کر یں گے۔ امریکا نے اب تک چین کے گھیر اؤ کے لیے جنوبی ایشیا بعید میں جو نیا اتحاد تشکیل دیا تھا ، اس میںسے اب تک فلپائن تو نکل گیا ہے اور کھرے جو اب کے ساتھ گیا۔ ہاں ایک بھارت ہے جو اس معاملے کے علا وہ ساتھ چل رہا اور چلنے کو تیارہے ، اور امریکا بھی اس امر کو اہمیت دیتا ہے ۔ بھارت کے وزیراعظم نے گزشتہ تقریباًتین سالو ں کے دوران امریکا کے صدر اوباما سے آٹھ بار ملا قاتیں کی ہیں شایدہی کسی دوسرے غیر ملکی حکمر ان اور امریکی صدر کے درمیا ن اتنی ملاقاتیں رہی ہو ں۔ صدر ٹرمپ کے عزائم کیا ہیںاب یہ زیر بحث آنے کی چیز نہیںرہی انتخابی مہم کی زبان اور ہوتی ہے اور ایک ذمہ دار عہدے کوسنبھال کر زبان اور ہو جاتی ہے اوروہ ہو گئی انہو ں نے حلف اٹھانے کے بعد جو بیا ن دیا ہے اس بارے میں ممتاز دانشور خلیل جبران ایّام مرور میں تبصرہ کر گئے ہیں ، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جانتے تھے کہ آنے والی صدی میں کیا ہو نے جا رہا ہے ۔خلیل جبران نے کہا تھا کہ 

'' اس نے کہایقین آیا ،زور دے کر کہا تو شک ہو ا ، قسم کھا ئی تو جا نا جھو ٹا ہے ''
امریکی خفیہ ایجنسیو ں نے اپنی رپو رٹ میں تسلیم کیا ہے کہ اب امریکا سے دنیامیں جتنی نفر ت کی جا تی ہے اس سے پہلے نہیں کی جا تی تھی۔ امن کے خواہش مند امریکا نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کے بعد خود ہی اعتراف کیا تھا کہ عراق میں زہر یلے و خطرنا ک ہتھیا ر نہیںپا ئے گئے۔ کارروائی خفیہ ایجنسی کی غلط رپورٹوںکی بنیاد پر ہوئی کیا اقوام متحدہ کے ادارے نے امریکا پر کوئی پا بندی لگا ئی کے جب امر یکا کو عراق پر چڑھائی کا لائسنس بھی نہ دیا ، کوئی ثبوت بھی نہ تھا پھر اس نے عراق پرکیو ںحملہ کیا۔ امریکا کا یہ اعتراف ندامت نہ تھا بلکہ اس ڈھٹائی کا مظہر تھا کہ ہم اچھا کریں یا بد ہما ری مرضی جو کر نا ہو وہ کر لو ۔ ٹرمپ کا پہلا صدارتی بیا ن بھی اسی امر کا مظہر ہے ۔ اس سے پو چھنے والا کوئی نہیں ہے کہ یہ ا سلا می شدت پسند کی اصطلا ح کیو ں اختراع کی ہے۔ اس کے مقاصد کیا ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اہل اسلا م کے پاس کوئی مرکزی قیا دت نہیںہے جو ان قوتو ں سے مبحث کر سکے ، ایک موقع قیا دت کے لیے آیا تھا مگر اس کو اصولو ں کی بنیا دپر گنوا دیا گیا۔ وہ یہ تھا کہ ایک مر تبہ شام کے صدر بشار الا سد نے پاکستان کی آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ جنرل محمو د سے کہا کہ مسلم ممالک کے پاس کوئی قیا دت نہیں ہے کیا پا کستان مسلمانو ںکی قیادت کے لیے تیا ر ہے ،تو اس بارے میں پیش رفت کی جا ئے ۔ جنرل ( ر)محمو د نے اس بارے میں جنرل پر ویز مشرف سے کوئی ذکر نہیںکیا ، کیو ں کہ وہ سمجھتے تھے کہ پرویز مشرف عالم اسلا م کی قیا دت کااہل نہیں ہے ۔ ٹرمپ کے بیا ن کی روشنی میں اس وقت عالم اسلام کی مر کزی قیا دت کی بے حد ضرورت ہے ، کیو ں کہ ٹرمپ نے جو نئے اتحادی بنا نے کی بات کی ہے اس سے اس امر کی غما زی ہو رہی ہے کہ وہ نئے اتحاد میں روس کو شامل کر نے کا ارادہ رکھتا ہے اور ٹرمپ بار بار روس کے ساتھ تعلقات کو امریکا کے مفاد میں قر ار دے رہا ہے مگر یہ بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آرہی ہے کیو ں کہ روس کویہ معلو م ہے کہ مفاد میں دوستی سچی دوستی کی طر ح نہیں ہو تی۔ اس کا مفاد اس میں ہے کہ علا قے کے ممالک کے ساتھ تعلقات میں گہر ائی پید ا کی جا ئے جس میں چین ، کو ریا ، ویت نام ، فلپائن ، پاکستان ، ایران ، اور ترکی وغیر ہ شامل ہیں ۔ ٹرمپ کی پا لیسی کیا ہو گی وہ وزیر دفاع کی تقرری سے عیاںہوگئی ہے۔ جیمز میٹس کو ایر ان دشمن کہا جا تا ہے مگر وہ ایران دشمن ہی نہیں قرا ر پا تا اس نے افغانستان میںبھی جنگ کی ہے اور وہ اس لحاظ اسلامی ممالک سے دوستی کا الگ ہی معیار رکھتا ہے ، پھر اس کو وزیر دفاع بنا نے کے لیے قانون میں نر می بھی دی گئی ہے ایسے میں کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ٹرمپ دنیا میں امن لائے گا ۔ بھارت کی ایک ممتا ز شاعرہ لتا حیا ء نے کیاخوب شعر کا کہا ہے
کبھی سوچا ہے تم کو لو گ اچھا کیو ں نہیں کہتے
کبھی تنہا ئی میں اپنی خطا کو یا د کر لینا

متعلقہ خبریں