قصہ ایک نامکمل فلائی اوور کا

قصہ ایک نامکمل فلائی اوور کا

دورِ جدید میں وقت کے بدلتے تقاضوں کے باعث اگر ایک جانب لوگوں کی ضروریات میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری طرف ایسے اسباب اور وسائل پیدا کئے جا رہے ہیں جو ان ضروریات کو پورا کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوں۔ چند سال قبل تک پشاور یا مردان سے پنڈی ،اسلام آباد کے سفر کیلئے باقاعدہ تیاری کی ضرورت ہوتی تھی کیونکہ فاصلہ طویل اور ذرائع آمد و رفت محدود تھے۔ لیکن پھر موٹروے بنی اور اب یہ عالم ہے کہ لوگ گھر پر ناشتہ کرکے لنچ کیلئے آرام سے واپس گھر آسکتے ہیں۔ جب شہروں کی آبادیاں بڑھنے لگیںاور ٹریفک کے مسائل بے قابو ہونے لگے تو شہروں کے اندر ہی سیمنٹ اور آہن کے قوی الجثہ پل بنائے گئے جن کو فلائی اوور کا نام دیا گیا۔فلائی اوور اگرچہ ترقی یافتہ ممالک میں ایک عرصے سے زیرِ استعمال ہیں لیکن وطنِ عزیز میںابھی چند بڑے بڑے شہروں میں ہی فلائی اوور بنائے گئے ہیں۔تخت بھائی اگرچہ ایک بڑا شہر نہیں لیکن ایک انتہائی اہم اور تاریخی پس منظر رکھنے والا علاقہ ضرور ہے۔ 2012ء میں حکومت کو یہاں کے عوام کے مسائل حل کرنے کا خیال آیا اور فروری 2013ء میں فلائی اور پر کام شروع ہوا جو اگست 2014ء میں پایہ تکمیل تک پہنچنا تھا۔ لیکن گزشتہ چار سالوں سے اس کی تکمیل کی تاریخیں آگے ہی بڑھائی جارہی ہیں۔ پہلے یہ ایک کلو میٹر طویل اور 4 ارب روپے کا منصوبہ تھا۔ لیکن پھر اس کی لمبائی کم کر کے 500میٹر اور لاگت 1.2 بلین کردی گئی۔ اس کی طوالت اور لاگت تو کم کردی گئی لیکن مدتِ تکمیل مسلسل طویل ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ عدالت نے بھی اس حوالے سے احکامات جاری کئے بلکہ ایک بار تو پشاور ہائی کورٹ نے کام کی سست روی پربرہمی کا اظہار بھی کیا تھا اور اسی مسئلے پر بنائے گئے دو رکنی بنچ کے ایک معززرکن جسٹس قیصر رشید نے کہا تھا کہ یہ بڑی بدنصیبی ہے کہ کچھ منصوبے جو لوگوں کی آسانی کے لیے ہوتے ہیں وہ ان کے لئے وبالِ جان بن جاتے ہیں۔اس منصوبے کی اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کیونکہ یہ صرف تخت بھائی کے لوگوں کے لیے نہیں بلکہ سوات ،کالام، مدین، بحرین، مالم جبہ، باجوڑ ، دیر ، کوہستان ، شانگلہ، ملاکنڈ اور چترال کے لاکھوں لوگوں کے لیے بھی بہت اہم ہے کیونکہ اس راستے سے بنیادی آمد و رفت ان ہی کی ہوتی ہے۔اس فلائی اوور کے بارے میں جب بھی سوچتا ہوں تو مجھے پنڈی' اسلام آباد میٹرو یاد آتی ہے۔ 24 کلو میٹرطویل اور 24 سٹیشنوں پر مشتمل پنڈی' اسلام آباد میٹرو ایک سال میںمکمل ہوئی تھی۔ لیکن یہاں 500 میٹر کا ایک چھوٹا سا فلائی اوور نہ جانے کب مکمل ہوگا۔آج سے 436 سال قبل 1581ء میں مغل بادشاہ اکبر نے ضلع نوشہرہ اور اٹک کے سنگم پر دریائے سندھ کے کنارے اٹک کا تاریخی قلعہ تعمیر کیا تھا۔یہ ایک مربع میل رقبے پر محیط ہے۔ اس کے اندر شاہی محلات ، متعدد حمام اور مسافرخانے ہیں۔ یہ بڑا قلعہ اس دور میں صرف دو سال اور دو ماہ میں تعمیر ہواتھا۔ لیکن پتہ نہیں کیوں تخت بھائی فلائی اوور کی تکمیل کو اتنا طول دیا جارہا ہے۔شاید دیوارِ چین کا ریکارڈتوڑنے یا تاج محل سے ہمسری کی جا رہی ہو۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اتنا اہم اوربڑا منصوبہ شروع ہونے سے پہلے کسی نے بھی یہ نہیں سوچا کہ اس سڑک یا گزرگاہ کا کوئی متبادل تلاش کیا جائے تاکہ لوگوں کو اذیت سے بچایا جاسکے۔
خیر آج کے سیاسی دور میں اس قسم کی شکایات زبان پر لانا معقول نہیں کیونکہ حکمرانوں اور سیاستدانوںکی ترجیحات یکسر بدل چکی ہیں۔ ان کو عوام کی نہیں بلکہ ان مسائل سے زیادہ دلچسپی ہوگئی ہے جو میڈیا میں سرخیاں اور بریکنگ نیوز بننے میں کارگر ہوں۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اس کا ٹھیکہ لاہور سے تعلق رکھنے والے حکمران جماعت کے ایک ایم این اے کو دیا گیا ہے۔ اب کیا لاہور کے بجائے تخت بھائی ان کی پہلی ترجیح ہوگی، جو اب ہر کوئی جانتا ہے۔ سب سے بڑھ کر اذیت ناک بات یہ ہے کہ صوبائی اور وفاقی دونوں حکومتیں اپنی بساط کے مطابق اس منصوبے میں ایک دوسرے کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔ اورایسا لگتا ہے کہ تاخیر سے دونوں خوش دکھائی دیتی ہیں۔اب اگر تحریک انصاف کی صوبائی حکومت سے پوچھا جائے تو یہ کہہ کر گلو خلاصی کرتی ہے کہ یہ ہمارا نہیں بلکہ وفاق کا منصوبہ ہے۔ اور وفاق کے ساتھ بدقسمتی سے ایسی باتوں اور کاموں کے لیے اور پھر ایسے علاقوں کے لیے وقت ہی نہیں۔ نتیجتاً عوام رل رہے ہیں۔ گردو غبار کی وجہ سے سینے کے امراض پھیل چکے ہیں اور رش میں پھنسے لوگ تو روزانہ بد دعائیں ہی دیتے ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر امیر مقام بھی اپنے آبائی علاقے جاتے ہوئے یہی راستہ استعمال کرتے ہیں لیکن پتہ نہیں کیوں وہ بھی اس مسئلے سے کنارہ کشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔تخت بھائی اگرچہ دو ہزار سالہ آثارِ قدیمہ اورمشہور چپلی کباب کیلئے اپنی ایک پہچان رکھتاہے لیکن اب اس علاقے کو ''نا مکمل فلائی اوور ''کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔اگر ہماری ہائی ویز اور بڑی سڑکیں وفاق کے دائرہ اختیار میں آتی ہوں تو پھر ان کی ذمہ داری بھی اسے قبول کرنی ہوگی اورپسماندہ علاقوںکی طرف بھی متوجہ ہونا پڑے گا۔ کیونکہ اگر اسی طرح پسماندہ علاقوں سے آنکھیں چراتے رہیں گے تو نہ صرف لوگوں میں بدگمانیاں پیدا ہوں گی بلکہ پھر اداروں کی کارکردگی پر سوال بھی اٹھائے جائیں گے۔ عوام چاہتے ہیں کہ فلائی اوور کو قصوں اور افسانوں میں جگہ بنانے اور مسئلہ کشمیر بننے سے روکا جائے۔

متعلقہ خبریں