سی پیک !!!بھارت نے ابھی ہار نہیں مانی؟

سی پیک !!!بھارت نے ابھی ہار نہیں مانی؟

گلگت بلتستان کے آئی جی پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ سیکورٹی اداروں نے علاقے میں پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف بڑی کارروائی کی تیاریاں کر نے والے گروہ کے بار ہ افراد کو گرفتار کیا ہے ۔یہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کی ایما پر سرگرم گروہ تھا جسے ایجنسی نے منظم ہونے اور کارروائیاں کرنے کے لئے تیس کروڑ کی ادائیگی بھی کر دی تھی ۔اس گروہ کے قبضے سے کئی کلاشنکوف ،حساس مقامات کے نقشے اور ٹیلی سکوپ برآمد کئے گئے ۔اس گروہ نے بیلجئم ،نیپال، بنگلہ دیش اورتھائی لینڈ میں کئی اجلاس منعقد کئے تھے ۔ ملک کے مختلف حصوں میںابھی اس گروہ کے ساٹھ افراد کا سراغ لگانا باقی ہے۔پاکستان میں ان این جی اوز کی کمی نہیں جو اس خبر کے بعد ہی اسے سیاسی انتقام گیری اور ایجنسیوں کی افسانہ طرازی کا راگ الاپنا شروع کردیں گی مگر اس کا کیا کیجئے کہ بھارت کے تمام دفاعی ماہرین اب تک اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ بھارت کو اقتصادی راہداری کو ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے یا اسے پاکستان اور چین کے لئے ا س قدر گراں بنا دینا چاہئے کہ وہ یہ بھاری پتھر چوم کر چھوڑدیں ۔ پاک چین اقتصادی راہداری کو اگر گیم چینجر کہا جاتا ہے تو گلگت بلتستان کو اس کی پوری عمارت کا پہلا پتھر کہنا بے جا نہ ہوگا۔چین کے صوبے سنکیانگ کاشغر سے یہ جب پاکستان کی عملداری کی حدود میں داخل ہوتی ہے تو یہ گلگت بلتستان کا علاقہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ بھارت نے سی پیک کو ناکام بنانے کے لئے خصوصیت کے ساتھ جن دومقامات کا انتخاب کیا تھا وہ پاکستان کی حدود کا پہلا پڑائو گلگت اور آخری مقام گوادر تھے ۔گلگت بلتستان کے بارے میں بھارت نے یہ موقف اختیارکیا کہ یہ متنازعہ علاقہ ہے اور پاکستان کو کسی تیسرے ملک کے ساتھ مل کر یہاں اس قدر بڑی سرگرمی کا حق حاصل نہیں ۔دوسری دلیل یہ دی جاتی رہی کہ مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ کی دستاویز الحاق کی رو سے پوری ریاست جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اس لئے بھی پاکستان کو اس علاقے میں سرگرمی کرنے کا حق نہیں اور یہ کہ اس نوعیت کی سرگرمی بھارتی دعوے کے چیتھڑے اُڑانے کے متراد ف ہے ۔سی پیک کے آخری پڑائو کے یعنی گوادر کے حوالے سے یہ افسانہ گھڑا گیا کہ بلوچستان بلوچوں کی سرزمین ہے اور اس ریاست قلات کو زبردستی پاکستان میں ضم کیا گیا ہے اور اب پاکستان چین کے ساتھ مل کر بلوچوں کے وسائل لوٹنا اور انہیں اپنی سرزمین پر ریڈ انڈینز کے انجام سے دوچار کرنا چاہتا ہے ۔بلوچستان میں بھارت کو یہ چورن بیچنے کے لئے ناراض بلوچوں کی ایک اچھی خاصی تعداد میسر آگئی ۔افغانستان کی صورت میں بلوچستان کو ٹارگٹ کرنے کے لئے ایک ''بیس کیمپ '' کی سہولت بھی حاصل ہوگئی ۔ بلوچستان میں ایک طرف بلوچ لبریشن آرمی اور دوسرے زیر زمین گروہوں کی مدد سے قتل وغارت کرائی جانے لگی اور دوسری طرف فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دی جانے لگی ۔گلگت بلتستان میں بھارتی ایجنسی کو بیرونی دنیا کے لئے چندچہرے تو دستیاب ہو گئے جنہوں نے جنیوا میں بیٹھ کر پاکستان اور چین کے خلاف پروپیگنڈے کا طوفان اُٹھادیا مگر وہ ان علاقوں میں بلوچستان کی طرح کوئی مزاحمت کھڑی کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔البتہ اس علاقے میں فرقہ وارانہ تشدد کو جم کر ہوا دی گئی ۔جس سے ایک مدت تک علاقہ تقسیم اور خوف کا شکار رہا ۔گوادر اور گلگت کی یہ کھچڑی اس وقت کچھ اور عیاں ہو کر سامنے آئی جب جنیوا اور دوسرے یورپی ملکوں میں منعقد ہونے والے سیمیناروں اور مظاہروں میںبلوچ علیحدگی پسند اور گلگت کے لوگ شانہ بشانہ کھڑے نظر آنے لگے یہی نہیں بلکہ آزادکشمیر کے چند چہرے بھی یہاں بیٹھے دکھائی دینے لگے ۔تب یہ راز کھلنے لگا کہ انسانی حقوق اور پاکستان کے'' مظالم ''کی دہائی دینے کے پیچھے کون ہے؟ اور اس کے اصل مقاصد کیا ہیں اور اس کے ڈانڈے کہا ں جا ملتے ہیں؟گلگت بلتستان کے عوام نے حکومت و ریاست کی تمام تر نا انصافیوں کے باوجود دشمن کے ہاتھ میں کھیلنے سے انکارکرکے بے مثال ہمت اور استقامت کا مظاہرہ کیا ۔ اس سے بڑی نا انصافی اور کیا ہو سکتی ہے کہ عشروں تک یہ علاقہ سرزمین بے آئین بنا رہا ۔جب دنیا ووٹ کی طاقت سے اپنے حکمران منتخب کر رہی تھی تو گلگت کے عوام نامزدحکمرانوں کا بوجھ اُٹھائے پھر رہے تھے ۔خدانخواستہ اگر گلگت میں بھی دشمن نقب لگانے میں کامیاب ہوتا تو اقتصادی راہداری محض ایک خواب اور سراب ہی رہتی۔
اقتصادی راہداری اب ذہنوں میں مقید ایک خواب اور کاغذوں میں بند ایک خاکہ نہیں رہا بلکہ عملی شکل میں ڈھلتی ہوئی ایک زمینی حقیقت ہے ۔دنیا میںاس سے فائدہ اُٹھانے اور مستفید ہونے کے خواہش مندملکوںکی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے ۔پاکستان کے سیکورٹی ادارے اس منصوبے کے خلاف سازشیں کرنے والے بھارت کو بھی اپنی معاندانہ روش ترک کرکے اس سے مستفید ہونے کی دعوت دے چکے ہیں ۔بلوچستان میں اُٹھایا جا نے والا سرکشی کا طوفان تھم چکا ہے ۔ریاست سے اس کی لہروں کا رخ واپس موڑ دیا گیا ہے مگر بھارت اب بھی سازشوں سے باز نہیں آرہا ۔وہ اس منصوبے کو اپنے دل کا داغ بنا کر بدستور پِٹی ہوئی چالیں چل رہا ہے۔یوٹیوب پر بھارت کے دفاعی ماہر کی وہ تقریر آج بھی سنی جا سکتی ہے جس میں وہ سی پیک کے مقاصد ،اہمیت کی منظر کشی کرنے کے بعد سامعین سے رائے پوچھتا ہے کہ وہ بتائیں کہ بھارت کو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئے سی پیک کو قبول کرنا چاہئے یا اسے ناکام بنانے کی تدابیر جا ری رکھنی چاہئیں۔یوں لگتا ہے کہ بھارت ابھی تک دوسرے آپشن کو ہی واحد آپشن سمجھ رہا ہے ۔

متعلقہ خبریں