عربی کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے کی ضرورت و اہمیت

عربی کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے کی ضرورت و اہمیت

قرآن پاک کی تلاوت اگر قرآنی مطالب کو سمجھے بغیر کی جائے تو ثواب تو حاصل ہوجاتا ہے لیکن قرآن پاک جس مقصد کے حصول کے لیے نازل کیا گیا ہے وہ مقصد یقینا فوت ہوجاتا ہے۔ جب کبھی قرآن پاک سے باخبر عالم کے ساتھ بیٹھنے کا موقع ملتا ہے تو یقین کیجیے اپنی جہالت مکمل طور پر کھل کر سامنے آجاتی ہے اور اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ قرآن پاک کو بغیر سمجھے پڑھنے والا کتنی روشن اور نورانی تعلیمات سے محروم رہ جاتا ہے ۔کل گورنمنٹ کالج میں ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا جو شعبہ زوالوجی کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا تھا۔ زوالوجی سائنس کا وہ شعبہ ہے جو جانوروں کی زندگی، ان کی پیدائش ،عادات اور رویوں کے حوالے سے بحث کرتا ہے مقرر تھے جناب پروفیسر ڈاکٹر فضل سبحانی !ڈاکٹر صاحب سے جب بھی اس حوالے سے گفتگو کا موقع ملتا ہے اپنی کم مائیگی اور کم علمی کا احساس بڑھ جاتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے ساری زندگی قرآن پاک کے مطالعے کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن پاک سائنس کی کتاب نہیں ہے لیکن سائنٹیفک کتاب ہے جس میں نماز قائم کرنے کے حوالے سے سات سو آیہ مبارکہ ہیںاور تحقیق کا ذکر سات سو پچاس مرتبہ آیا ہے اللہ پاک انسان سے اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ وہ اس کی بنائی ہوئی کائنات کا مطالعہ کرے مشاہدہ کرے سب سے زیادہ پڑھی جانے والی آخری آسمانی کتاب قرآن مجید فرقان حمید کتاب رشد وہدایت اور سرچشمہ علوم و فنون ہے جو انسان کی دنیوی و اخروی زندگی کی فلاح کا ضامن ہے۔ نزول قرآن کا حقیقی مقصد معرفت الہٰی ہے اور اس میںقیامت تک پیش آنے والے مسائل کا حل موجود ہے ۔تخلیق آدم کے بعد''علم الاشیاء ''میں فرشتوں پر برتری کی بدولت انسان سجدہ تعظیم کا مستحق قرار پایا اس سے معلوم ہوا کہ فضیلت انسان کا انحصار صلاحیت غوروفکر پر ہے یہی انسان کی وہ صلاحیت ہے جس کی وجہ سے تاقیامت راز حقائق منکشف ہوتے چلے جائیں گے قرآن مجید علم و تحقیق اور غوروفکر پر بار بار زور دیتا ہے ''کیا تم غوروفکر نہیںکرتے ''''کیا وہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے یا پھر ان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں''حضورپاکۖ کا فرمان ہے تفسیر قرآن زمانہ خود ہے یعنی جو کچھ اس دنیا میں خالق کائنات نے تخلیق کیا ہے وہ سب کچھ قرآن پاک میں بڑی وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔ حیات و کائنات کے بارے میں چند سوالات شعوری یا غیر شعوری طور پر ہر انسان کے ذہن میں موجود رہتے ہیںجن کے بارے میں صحیح تصور کا حصول انسان کی بنیادی ضرورت ہے اللہ پاک کی تربیت سے غفلت والا علم حرام ہے۔ اکیسویں صدی سائنس و ٹیکنالوجی کی صدی ہے اس کے جدید علمی و سائنسی انکشافات کے تناظر میں تدبیر اور غورو فکر کرنا اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت تک رسائی حاصل کرنا انتہائی ناگزیر ہے۔قرآن پاک میں سائلین و مفکرین کے لیے خالق کائنات کی طرف تمام راستے بالآخر سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کے وسیلے ہیں اور اہل مشرق و مغرب کے لیے دعوت فکرو حق کیونکہ اللہ تعالیٰ ارض و سماوات میں جستجو کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے ۔ قرآن کتاب ہدایت میں زندگی کے جملہ انفرادی و اجتماعی میدانوں کی اجمالی اور تفصیلی ہدایات ابدی و دائمی حیات کے فوزوفلاح کی ضامن ہیں۔ مذہب اور سائنس حقیقت تک پہنچنے کے دو راستے ہیں مادیت میں تمام تر ترقی روحانی تشنگی کا سبب ہے مذہب براہ راست حقیقت تک پہنچنے کا راستہ ہے جبکہ سائنس مشاہدات اورتجربات کے سہارے کی محتاج ہے سائنسی ایجادات اور اسلامی تعلیمات میں کوئی تصادم و تضاد نہیں ہے۔ قرآن پاک کی تعلیمات اٹل حقیقت ہیں سائنس اس حقیقت کا کھوج لگانے کا ایک ذریعہ! لیکن سائنس ہمیں مقصد حیات اور اہمیت حیات بتانے سے قاصر ہے لیکن اسلام ہماری عارضی اور ابدی حیات میں کامیابی کا ضامن ہے۔ مطالعہ قرآن اور معراج انسانیت یہ ہے کہ انسان غورو فکر کے زینے سے مدارج طے کرتا ہوا خالق حقیقی تک رسائی حاصل کرے قرآن پاک کی جامعیت بے مثال ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ''اور ہم نے آپۖ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کا بیان ہے''(نحل)سورة العنکبوت میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ''اور جن لوگوں نے ہمارے لیے کوشش کی ہم ان کو ضرور اپنے راستے دکھائیں گے'' وہ کونسا علم ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں نہیں ہے اور وہ کونسا راز ہے جس کا اشارہ قرآن مجید میں نہیں ہے کیونکہ یہ کتاب الہٰی انداز بیان و خطابت میں لاثانی ہے۔ یہ دعوت فکر و جستجو ہے اور اس کا انداز بیاں تحریری نہیں تقریری ہے علم قرآن وسیع و عمیق ہے اور اس کا انداز بیاں جامع اور پرمغز ہے۔اگر عربی زبان کو ہمارے تعلیمی نصاب کا حصہ بنادیا جائے تو طلبہ کی رسائی قرآن پاک کے اسرارورموز تک باآسانی ہوسکے گی اور اسی میں ہماری دنیوی اور اخروی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے ۔

متعلقہ خبریں