ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

جیسے جیسے عدالت عظمیٰ میں پانامہ لیکس کے حوالے سے کارروائی آگے بڑھ رہی ہے فریقین کے اندر صبر کا مادہ بھی ختم ہوتا جا رہا ہے اور اس کی جگہ شدید غصہ لے رہا ہے۔ عدالتی ریمارکس پر جو تماشہ روزانہ کی بنیاد پر صبح سے دوپہر تک و قفے وقفے سے عوام کو دیکھنے کو ملتا ہے۔ شام کے اوقات میں مختلف چینلز پر ٹاک شوز میں ان ریمارکس کے حوالے سے مزید پیش رفت ہوتی ہے اور فریقین کے ساتھ ساتھ قانونی ماہرین اور تجزیہ کار بھی اپنی اپنی زنبیلوں کے منہ کھول کر ان ریمارکس کو نت نئے معنی پہنا کر ملکی سیاسی فضا کے ساتھ قانونی ماحول کو بھی تکدر کی نذر کرتے رہتے ہیں۔ ا یک پارٹی کے رہنما آکر فاضل جج صاحبان کے ریمارکس کو کچھ معنی پہنا دیتے ہیں تو کچھ ہی دیر بعد دوسری جماعت والے انہی ریمارکس کو اپنے حق اور مخالف جماعت کے الفاظ میں پوشیدہ نتائج کے برعکس قرار دے کر کچھ اور معنی پہنا کر تو چلے جاتے ہیں مگر عوام کو ان دونوں کے جوابات ایک الجھن میں مبتلا کردیتے ہیں۔ البتہ جماعت اسلامی کے رہنمائوں کا لہجہ شائستگی کے دائرے سے باہر نہیں جانے پاتا جبکہ ایک اور 'موٹر سائیکل پارٹی'' یعنی شیخ رشید کی جانب سے بھی جو حملے لیگ (ن) کے خلاف کئے جاتے ہیں میں اکثر عوام کے لئے یہ ''خوشخبری'' پوشیدہ ہوتی ہے کہ حکومت بس رخصت ہوا ہی چاہتی ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک اگر تحریک انصاف اور خود شیخ رشید کے دلائل جاری تھے جن سے حکومت کے چل چلائو کا اندازہ لگایا جا رہا تھا تو بعد میں لیگ(ن) کے وکیل نے عدالت کے سامنے جو بحث کی اور دلائل کے ساتھ دستاویزات بھی پیش کئے بلکہ تحریک کے وکلاء کے دلائل کو رد کرنے کی کوشش کی تو صورتحال میں تبدیلی کے آثار نظر آئے۔ اب جماعت اسلامی کے وکیل اپنے ثبوتوں اور دلائل کے ساتھ عدالت میں ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ وہ کیس کو کس سمت لے کر جاتے ہیں۔ اس پر ہمیں پشتو کی ایک ضرب المثل ضرور یاد آئی ہے جس کا اردو میں مطلب اتنا ہی ہے کہ مقدمے کے اختتام کا انتظار کرو۔ ظاہر ہے عدالت عظمیٰ نے شواہد' دلائل اور براہین پر ہی کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنا ہے نہ کہ کسی شخص یا اشخاص کی ذاتی خواہش پر۔ مگر اس کے باوجود عدالت کے باہر اب تک جو تماشا لگ جاتا تھا رفتہ رفتہ وہ غم و غصے کے جذبات سے معمور ہوتا ہوا شدید ترین مخالفت کے باعث ذاتیات میں ڈھل چکا ہے اور چند روز سے ایک دوسرے پر تبرہ بھیجنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جارہا ہے۔بہر حال وہ جو کہتے ہیں کہ حد ہوا کرتی ہے ہرچیز کی اے بندہ نواز۔ تو جب بات حد سے گزر گئی تو گزشتہ روز خواجہ سعد رفیق نے عمران خان کو پیشکش کی کہ اگر وہ چاہیں تو یہ ''جواب آں غزل'' والا سلسلہ بند کردیتے ہیں اور ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ روک لیتے ہیں۔ لیکن عمران خان نے یہ کہہ کر اس پیشکش کو رد کردیا کہ میں نے کوئی غلط بات نہیں کی صرف چور کو چور کہا ہے تو اس میں کیا غلط ہے؟ ۔ خیر عمران خان کی اپنی مرضی کیونکہ وہ ویسے بھی دھرنے اور جلسوں جلوسوں میں جس قسم کی زبان استعمال کرتے رہے ہیں ایسا سیاسی کلچر ملک میں پہلے کم کم ہی دیکھا گیاہے۔تاہم پیپلز پارٹی کے ایک اہم رہنما قمر زمان کائرہ نے عدالتی ریمارکس اور ان کے حوالے سے الزامات کے طومار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ انتخابات میں ان کی پارٹی کے امیج کو اس صورتحال سے بہت نقصان پہنچا تھا۔ اب عمران خان اگر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اور ان کے ساتھی لیگ (ن) کے رہنمائوں کے بارے میں مسلسل منفی پروپیگنڈہ سے ان کے امیج کو کمزور کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو انہیں یہ بات بھی ضرور یاد رکھنی چاہئے کہ خود ان کی پارٹی کا امیج بھی روز بروز کمزور سے کمزور تر ہوتا چلا جائے گا۔ انہیں اور ان کے مخالفین دونوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ایک دوسرے کے بارے میں جھوٹ کا پہاڑ کھڑا کرکے اس میں سے اپنے لئے سچ تلاش کرنا ممکن نہیں رہے گا۔
اس صورتحال سے ہمیں خان عبدالولی خان کا وہ جملہ یاد آگیا ہے جو بھٹو د ور میں ان کے خلاف حکومتی پروپیگنڈے کے حوالے سے انہوں نے کہا تھااور مرحوم بھٹو کو یہ کہہ کر خبردار کیا تھا کہ تم ہمارے باپ دادا کے بارے میں جھوٹ بولنا بند کردو ورنہ ہم تمہارے اجداد کے بارے میں سچ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے تو تم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہو گے۔ اگرچہ ناطق لکھنوی نے بڑی اچھی بات کی ہے کہ
کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت
جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے
تاہم لگتا کچھ ایسا ہے کہ ظرف کی دونوں جانب کمی ہے جبھی تو ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کرکے سیاست کے حمام میں ایک دوسرے کو بے لباس کیا جا رہا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ کچھ عرصہ پہلے بھی اس صورتحال کے حوالے سے میں نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی تھی کہ مقدمے کے تمام فریقین کو شٹ اپ کال دے د جائے کیونکہ عدالتی کارروائی پر عدالت کے باہر کسی بھی قسم کا تبصرہ توہین عدالت کے زمرے میں ہی شمار کیا جائے گا اور جب تک فیصلہ نہ ہو جائے صرف عدالتی ریمارکس کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا اخلاق سے بعید ہی ہوگا کیونکہ بیرون عدالت جو تماشے ہو رہے ہیں ان سے سیاسی ماحول میں تلخی بھی بہت بڑھ رہی ہے اور آنے والے انتخابات کے دوران سیاسی تصادم کی نوبت تک بات پہنچ سکتی ہے۔
خموش اے دل بھری محفل میں چلانا نہیں اچھا
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

متعلقہ خبریں