مشرقیات

مشرقیات


عالمگیر اپنے زمانے میں ایک دفعہ کشمیر کی سیر کرنے کے لئے چلے تو سفر مینا کی پلٹن بارہ میل آگے رہتی تھی ۔ جو بادشاہ کے خیمے نصب کرتی تھی اور وہاں دو تین دن قیام ہوتا تھا ، جب وہاں سے روانہ ہوا ، وہ سفر مینا کے لوگ آگے بڑھ جاتے تھے پھر انہوںنے آگے جا کر خیمے وغیرہ لگائے تو یہ جو پلٹن تھی ، جو خیمے وغیرہ لگاتی تھی ان کے انچارج آفیسر کا نام منعم تھا ۔
ایک موقع پر جا کر اس نے خیمے نصب کیے ، عالمگیر کو چوتھے ، پانچویں دن وہاں پہنچنا تھا ، سامان سب مرتب ہوگیا ۔
ایک فقیر کوپتہ چلا کہ یہ بادشاہ کا کیمپ پڑا ہوا ہے تو اس نے کسی سے معلوم کیا کہ انچارج آفیسر کانام کیا ہے ۔ اسے پتہ چلا کہ اس کا نام منعم ہے تو اس نے آکر بڑی خوش آوازی سے ایک شعر پڑھا:
منعم بدست کوہ و بیاں غریب نیست
ہر گاہ کہ رفت خیمہ زدوبارگاہ ساخت
منعم کسی جنگل میں بھی غریب نہیں ، جہاں جاتا ہے ، شہربنا ہوا تیار ہے ، خیمے شامیانے تیار، منعم کو خدا نے ایسی دولت اور انعام دیاہے کہ وہ پہاڑوں میں جائے جب بھی غریب نہیں ، جنگل میں جائے تب بھی غریب نہیں ، جہاں بھی جائے گا ، خیمے لگ جائیں گے ، بارگاہیں بن جائیں گی ، اس نے اس خوش آوازی سے جو پڑھا ، اس کی آواز سارے کیمپ میں پھیل گئی تو منعم کو بڑا پسند آیا ، حکم دیا ، اس فقیر کو حاضر کرو ، تو تین لاکھ درہم اس کو دیئے ، ایک غریب اور بھیک مانگنے والے کو ایک د م تین لاکھ روپے مل گئے ۔ اگلے دن صبح کے بعد اس نے آکر پھر اسی خوش آوازی سے شعر پڑھا ۔ اس نے پھر بلایا اور تین لاکھ دے دیئے ۔ تیسرے دن اس نے پھر شعر پڑھا تو تین لاکھ دے دیئے ، تین دن میں نو لاکھ درہم اس کے پا س پہنچ گئے ۔ چوتھے دن نہ آیا ۔ اب منعم انتظار میں بیٹھا ہوا ہے کہ وہ آئے تو میں دوں مگر وہ نہ آیا ، حکم دیا کہ اسے پکڑ کر لائو آج وہ کیوں نہیں آیا ، سپاہی اور پیادے دوڑے اور اسے پکڑ کر لائے ۔ منعم نے کہا تو کیوں نہیں آیا ؟اور تو بڑا بے وقوف ہے ، مجھے تو یہاں دس دن ٹھہرنا ہے اور میں نے ارادہ کرلیا تھا کہ دس دن تجھے روزانہ تین لاکھ درہم دوں گا ، بڑا احمق ہے ۔ اس نے کہا حضور ! بات یہ ہے کہ تین دن میں مجھے نولاکھ درہم ملے ہیں ، یہ اتنی بڑی دولت ہے کہ میری سات پشتوں کے لیے کافی ہے ۔
میں نے یہ سمجھا کہ یہ میرے لیے کافی ہے اور یہ بھی خیال تھا کہ حضور بادشاہ ہیں ، جذبے میں آکر دے دیا اور اگر کہیں یہ جذبہ آگیا چھین لو ں اس سے تو پھر ایک پائی بھی میرے پاس نہیں بچے گی ۔اس لیے قناعت بھی نہ آنے کا باعث ہوئی کہ میرے لیے کافی تھے اور خوف بھی باعث ہوا کہ کہیں چھین نہ لیں ۔ اس واسطے نہیں آیا ۔ اس نے کہا کہ یہ تیر ا عمل تھا ، مگر میں نے یہ تہیہ کرلیا تھا کہ دس دن روزانہ تجھے تین لاکھ دوں گا ۔
(تاریخی واقعات)

متعلقہ خبریں