شکایات کی تحقیقات واحتساب کے تقاضے

شکایات کی تحقیقات واحتساب کے تقاضے

احتساب کمیشن خیبرپختونخوا میں تین سوچو بیس شکایات کی باقاعدہ تحقیقات شروع کرنے کا عمل جہاں حوصلہ افزاء اور خوش آئند ہے وہاں دوسری جانب اس سے یہ بات متر شح ہے کہ خیبر پختونخوا میں صورتحال میں زیادہ بہتری نہیں آئی او رصوبے میں اچھی حکمرانی رشوت و بد عنوانی کے خاتمے کے دعوئوں کو ابھی مزید امتحان سے گزار کر عملی طور پر صوبے کو بد عنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے پاک کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہمارے تئیں ان شکایات کا اندراج ان کا سامنے لا یا جانا اور اتنے بڑے پیمانے پر شکایات کی باقاعدہ تحقیقات حوصلہ افزاء خوش آئند اور صوبے کو رشوت و بد عنوانی سے پاک کرنے اور میرٹ و احتساب کو اولیت دینے کی سنجیدہ سعی ہے ۔ شکایات کی وصولی اور لوگوں کی جانب سے شکایات ارسال کرنے کی شرح یقینا زیادہ ہوگی۔ بہر حال چھان بین کے بعد جن تین سو چو بیس شکایات کی باقاعدہ تحقیقات کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اولاً اسی پر اکتفا نہیں کرنا چاہیئے بلکہ ان شکایات کی تحقیقات کے ساتھ باقی شکایات کی نوعیت اور حقیقت کا جائزہ لیکر ان شکایات کی روشنی میں بھی کارروائی کا آغاز ہونا چاہیئے۔ بلا شبہ موخر الذکر شکایات کو دوسری ترجیح کے طور پر رکھا جائے لیکن اس امر کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ان شکایات کی وجوہات اور حقیقت کیا تھی یہ شکایات کیوں پیدا ہوئیں ان شکایات کو سامنے لانے کا مقصد کیا تھا اگر ان شکایات کی حقیقت سامنے نہ آئی تو پھر ان کے داخل دفتر کئے جانے پر شکایات کنند گان کو اعتراض نہ ہوگا ۔جو شکایات غیر حقیقی اور معقولیت کی کسوٹی پر ابتداء ہی میں پورا نہ اتریں ان پر کارروائی وقت کا ضیاع ہوگا ۔ قطع نظر اس کے کہ ایک سال کے دوران بے قاعدگیوں اور اہم عہدوں پر منظور نظر افراد کی بھرتی سے متعلق وصول ہونے والی سات سو اٹھا نوے شکایات کس بات کا مظہر ہیں حقیقت یہ ہے کہ صوبے میں عوام کو سرکاری محکموں اور عمال سے شکایات میں کمی نہیں آئی لیکن اسی کے ساتھ اس امر کا اعتراف نہ کرنا قرین انصاف نہ ہوگا کہ صوبے میں رشوت و بد عنوانی کی شکایات عام نہیں اور عوامی سطح پر پیشرو حکومتوں کی طرح کی کہانیاں بیان نہیں ہوتیں لیکن درپردہ بد عنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے امکانات کو معدوم قرار دینا بھی حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا ۔اگر صورتحال کے بارے میں اس آراء کا اظہار کیا جائے کہ صوبے میں رشوت و بد عنوانی میں کمی آئی ہے لیکن اختیارات کے ناجائز استعمال اور میرٹ کے برعکس آسامیاں پر کرنے کے عمل میں بہتری کی صورت واضح نہیں تو غلط نہ ہوگا ۔ خیبر پختونخوا میں محکمہ ریو نیواینڈ سٹیٹ میں اصلاحات و تطہیری اقدمات کے جو دعوے کئے گئے تھے اس کی حقیقت اس بات سے از خود سامنے آگئی ہے جس میں ریونیو اینڈ سٹیٹ میں بھاری رقوم کے عوض پٹواریوں کے تبادلوں میں محکمے کے ذمہ داران اور بیوروکریٹس کے ملوث ہونے کی شکایات موجود ہیں ۔ محکمہ بلدیات کے دامن کا صالحین کے زیر سایہ ہونے کے باوجود پاک نہ ہونا اپنی جگہ لمحہ فکر یہ ہے۔ بعض ذیلی محکموں میں نیب کی جانب سے بار بار تحقیقات شروع کرنے کی سعی کو عدالتی احکامات کے ذریعے معطلی کا عمل از خود اس امر پر دال ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پر دہ داری ہے۔ اگر درون خانہ معاملات میں میرٹ اور شفافیت ہے تو پھر بجائے اس کے کہ نیب کو تحقیقات سے روکنے کے جتن کئے جائیں تحقیقات میں تعاون اور اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیئے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے ۔ جن معاملا ت میں طوعاً و کرھاً والی صورتحال ہوتی ہے وہاں پر معاملات کی شفافیت از خود شکوک کی زد میں آجاتی ہے ۔ محکمہ اعلیٰ تعلیم کا سر فہرست ہونے کے علاوہ تعلیم و صحت اور مواصلات سمیت دیگر سرکاری شعبوں کے حوالے سے بھی معقول تعداد میںشکایات کا اندراج ہوا ہے۔ سرکاری محکموں میں ہونے والی بد معاملگیوں میں وزراء ، بیوروکریٹس کے ملوث ہونے کی نشاندہی ملتی ہے ۔ اضلاع سے بھی کافی تعداد میں شکایات سامنے آئی ہیں ۔ شکایات کی حد تک معاملات پر کسی رائے کا قائم کرنا قرین انصاف نہیں بلاشبہ شکایات کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی شکایات کے درست ہونے اور معاملات کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی لیکن اہم سوال یہ ہے کہ صوبائی احتساب کمیشن کے پاس اس درجے کے اختیارات استعداد اہلیت اور جذبہ ہے کہ وہ شکایات کی چھان بین کی ذمہ داری احسن طریقے سے پورا کرے ۔ اور صوبائی احتساب کمیشن اپنے غیر مئوثر ہونے کے الزام اور تاثر کی نفی کرے ۔ ہمارے تئیں صوبائی حکومت کی جانب سے اپنے بھر پور عزم وارادے کے اعادے کے بغیر ان شکایات کے حوالے سے کافی و شافی کارروائی ممکن دکھائی نہیں دیتی لیکن دوسری جانب اس کی کوئی معقول وجہ بھی نظر نہیں آئی سوائے اس کے کہ صوبائی احتساب کمیشن کی سابقہ کار کردگی اور تاثر زیادہ مثبت نہیں ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ ہر بد عنوان کو احتساب کے کٹہرے میں لا کھڑ ا کرنے اور انصاف کو یقینی بنانے کے عزم کے تحت صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کے محکموں میں بد عنوانی کے مرتکب و اختیارات کے ناجائز استعمال کنند گان سے کسی طور رعایت نہیں کی جائے گی اور جن جن معاملا ت میں سابق و موجودہ وزراء و بیوروکریٹس اور عمال ملوث پائے جائیں ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔

متعلقہ خبریں