اصلاح معاشرہ پر اجتماعی توجہ کی ضرورت

اصلاح معاشرہ پر اجتماعی توجہ کی ضرورت

حیات آباد کے ایک نجی سکول میں پیش آمدہ واقع کے بعد سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو جانے والے طلبہ کے والدین میں تشویش کی لہر دوڑ جانا فطری بات ہے۔ اگر چہ سکولوں میں خواہ وہ نجی ہوں یا سرکاری سکول وہاں کے مجموعی ماحول کے حوالے سے کسی تشویش کے اظہار کی ضرورت نہیں ۔اساتذہ اور طالب علموں کا تعلق والدین کے تعلق سے کم تقدس اور درجے کا نہیں لیکن کبھی کبھار ایک واقعہ ہو جاتا ہے تو معاشرے کی چولیں ہل جاتی ہیں اور والدین میں تشویش فطری امر ہے ۔صرف والدین ہی نہیں جملہ نجی و سرکاری سکولوں کے سربراہان کا بھی مشوش ہونا اس لئے بھی عجب نہیں کہ اس قسم کے امکان کی موجودگی ہی ان کیلئے سخت ذہنی کوفت اور تشویش کا باعث ہے ۔ گو کہ اس طرح کی صورتحال خارج از امکان ہی کیوں نہ ٹھہرے لیکن اس ایک واقعے کے بعد اس امر کی ضرورت بڑھ گئی ہے کہ سکولوں میں کیمروں کے ذریعے نگرانی کاعمل مزید بہتر بنایا جا ئے۔ سکولوں میں معمر اساتذہ اور استا نیوں کی ایک ٹیم اس امکان پر برابر نظر رکھے کہ نہ صرف محولہ قسم بلکہ علاوہ ازیں بھی کسی قسم کی کوئی ایسی سرگرمی نہ ہونے پائے جو ہماری سوچ اور امکان سے بھی بعید ہو ۔ حکومت جہاں تمام سر کار ی سکولوں میں ماحول کی بہتری اور اچھے ماحول کو بر قرار رکھنے کے حوالے سے ماہر اساتذة کرام اور والدین سے تجاویز طلب کر کے اس کی روشنی میں اقدامات اٹھائے وہا ں نجی سکولوں کے قیام کی اجازت دینے سے قبل اب مالکان اور منتظمین کی اخلاقی اقدار اور پس منظر کی چھان بین کی جائے ۔ نجی سکولوں کے مالکان کی تنظیم کو بھی نجی سکولوں میں انتظامی امور کیلئے قابل اعتماد ایماندار اور خوف خدا رکھنے والے عملے کی تقرری کو خاص طور پر یقینی بنانے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جو خود ان کے ادارے اور طالب علموں کے مفاد میں ہوگا ۔ معاشرے میں بعض اوقات سامنے آنے والے محیرالعقول واقعات کا سبب جہاں جہاں ان کے کرداروں کی اخلاقی و ذہنی گراوٹ کا مظہر گردانے جائیں وہاں وجوہات ان اسباب و علل پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر ہمارا معاشرہ کس جانب جارہا ہے اور کیوں جارہا ہے ۔ دین سے دوری ، اخلاقی تربیت کا فقدان اور معاشرے کی بے حسی اس کی بڑی وجوہات ہیں ۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم من حیث القوم اپنے دین و ملت اخلاقی اقدار اور معاشرتی تربیت کی اجتماعی ذمہ داری پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو دین و اخلاق کی تعلیم و تربیت پر خاص طور پر توجہ دیں ۔ ہم میں سے ہر ایک کو اس صورتحال پر غور کرنا چاہیئے اور اصلاح معاشرہ میں جتنا ہو سکے اپنا کردار ادا کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیئے ۔
نفرت کی سیاست کے پجاری
ایک سیاسی جماعت کے سینئر رہنما اور سابق صوبائی وزیر کا ایک خاص صوبے کے افراد او ربرداری کے بارے میں ناز یبا الفاظ کی مذمت اپنی جگہ ان کے بیان سے افغان وزیر دفاع کے الزامات کی تائید کا حامل ہونا باعث صد افسوس امرہے ۔ حیرت کا حامل امر یہ ہے کہ محولہ جماعت کے بعض معزز ارکان کی جانب سے ایسے خیالات کا اظہار کیا جاتا ہے جس کے باعث ماضی میں اس جماعت کو قابل اعتماد نہیں گردانا جاتا رہا ۔ اختلاف رائے کے حق سے کسی کو محروم نہیں کیا جا سکتا لیکن اظہار رائے کے حق کا اس طرح استعمال کہ ملک میں نفرت کی فضا قائم ہو اور دل شکنی و نفرت کے جذبات ابھر یں اس کی کسی طور اجاز ت نہیں دی جانی چاہیئے۔ حقوق کی ادائیگی بارے شکوہ شکایات اور محرومیوں کی شکایت ایک دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کرنے کی گنجائش ضرور رہتی ہے اور اس کا مختلف فورمز پر اظہار بھی سامنے آتا ہے مگر ایک جملے میں کسی صوبے کے عوام اور بڑی برادری کو دہشت گردوں سے جوڑنا ملک کے ایک پر امن علاقے کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ قرار دینا اور وہاں پر سترمراکز کی موجودگی کا دعویٰ قابل مذمت اور قابل توجہ ہے ۔ محولہ سیاسی جماعت کی قیادت کو اگر نفرت و تعصب سے علاقہ نہیں تو وہ اسے اپنے سینئر رہنما سے وضاحت طلب کرلینی چاہیئے۔ بہتر ہوگا کہ قابل احترام سابق صوبائی وزیر اپنے جذباتی الفاظ سے خود ہی رجوع کریں ۔ان کے صوبائی وزارت کے حلف نامے میں ملک وقوم سے وفاداری اور عہدے سے انصاف شامل تھا جس سے محولہ بیان پھرنے کا واضح اعتراف ہے بہتر ہوگا کہ ملک میں تعصب و نفرت کی سیاست کی بجائے محبت رواداری او راصولوں کی سیاست کی جائے ۔ خیبرپختونخوا کے عوام تاریخی ریفرنڈم میں اپنا واضح فیصلہ دے چکے ہیں اور اس طرح کی بیان بازی کرنے والے عناصر سے ان کا تعلق نہ ہونے کے برابر ہے ۔ صوبے میں سیاست میں حصہ لینا اور اپنے نظر یات و افکار کی سیاست کے حق کا ایسا استعمال نہ کیا جائے کہ لوگوں کو سیاست سے بیزاری اور نفرت ہو جائے ۔

متعلقہ خبریں