کیا لیگی صفوں میںکوئی بھلے مانس آدمی نہیں ہے!

کیا لیگی صفوں میںکوئی بھلے مانس آدمی نہیں ہے!

پنجابی میں کہاوت مشہور ہے کہ دو آدمیوں کا آپ کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ایک وہ جو منہ پر مُکر جائے اور دوسرا وہ جو نہر کے دوسرے کنارے پر کھڑے ہو کر آپ کو گالیاں دے۔ قوم کے سامنے ان لیڈروں کے اصلی چہرے بے نقاب ہو گئے ہیں جو کل تک اپنے آپ کو جمہوری حکمران کے طور پر پیش کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ان پر رتی بھر کوئی الزام ثابت ہو گیا تو وہ استعفیٰ دینے میں لمحہ بھر دیر نہیں کریں گے۔ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ نواز شریف اور ان کی فیملی کے خلاف مکمل چارج شیٹ ہی نہیں ہے بلکہ بعض ایسی دستاویزی ثبوت فراہم کرتی ہے جن کے سامنے آنے کے بعد میاں صاحب کو بحیثیت وزیر اعظم استعفیٰ دینے میں متامل نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن انہوں نے نہ صرف مستعفی ہونے سے انکار کر دیابلکہ جے آئی ٹی کے ساتھ اعلان جنگ کرتے ہوئے مزاحمت اور سرکشی کی راہ اپنانے کا فیصلہ کیا۔ وفاقی کابینہ میں سے کسی ایک مشیر نے کھڑے ہو کر ان سے اختلاف کرنے کی زحمت گوارہ نہ کی اور نہ ہی پارلیمانی پارٹی کے اراکین میں سے کوئی بولاکہ جناب وزیراعظم آپ اپنے عہدے پر رہنے کا اخلاقی جواز کھو بیٹھے ہیں۔مسلم لیگ ن کی صفوں میں کیا ایک بھی ''رجل رشید'' نہیںہے جو معروضی حالات کے تناظر میں قیادت کو صائب مشورے سے نواز سکے۔ راجہ محمد ظفر الحق جیسے لوگ کیاہوئے اور کہاں ہیں وہ چوہدری نثار علی خان جن کے بارے میں مشہور ہے کہ میاں صاحب کے منہ پر کھری بات کرنے کی جرأت رکھتے ہیں۔ یوں چپ کا روزہ رکھنے اور پارٹی اجلاسوں سے خاموش علیحدگی سے کیا فائدہ؟ وقت آگیا ہے کہ چوہدری نثار جیسے رہنما پاکستان کی خاطر اپنا کردار اداکریں۔ یہ بات طے ہے کہ وہ مسلم لیگ ن سے علیحدہ ہو کر کسی دوسری پارٹی میںنہیں جائیں گے البتہ مسلم لیگ ن کی قیادت کو اقتدار سے علیحدہ کرنے میں وہ لنکا ڈھانے کی پوری اہلیت اور صلاحیت رکھتے ہیں۔ واقفان حال جانتے ہیں کہ انہیں اول دن سے نواز شریف نے مایوس کیا ہے۔ چوہدری نثار 2013ء کے الیکشن کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کا خواب دیکھ رہے تھے لیکن ان کی تمنا کا احترام نہ کیا گیا۔ چوہدری صاحب اس حوالے سے اس قدر بے تاب تھے کہ انہوں نے دو صوبائی اسمبلیوں کا الیکشن لڑا، ایک حلقے سے وہ پارٹی نشان پر الیکشن لڑ رہے تھے جب کہ دوسرے حلقے میں پارٹی قیادت نے ٹکٹ دینے میں پس و پیش سے کام لیا تو انہوں نے ''گائے'' کے نشان پر بحیثیت آزاد امیدوار الیکشن لڑنے کو ترجیح تھی۔ یہ تھی ان کی بے تابی! وہ ''گائے'' کے نشان والے حلقے سے الیکشن جیت گئے لیکن میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے ان کی چاہت کے باوجود انہیں وزیر اعلیٰ پنجاب بننے سے محروم رکھا۔ یوں پارٹی کے سینئر ترین رہنما ہونے کے باوجود ان کے نصیب میں وفاقی وزارت ہی آئی، یعنی ان کا سیاسی سفر دائرے کا سفر ہی رہا۔ 1991ء میں وہ وفاقی وزیر آئل اینڈگیس تھے اور آج ان کووفاقی وزیر داخلہ بنا دیا گیا ہے۔ یہی حال راجہ محمد ظفر الحق کا ہے۔ 99ء میں جب نواز حکومت رخصت ہوئی تو اس وقت بھی وہ سینیٹ میں قائد ایوان تھے ، سینیٹ کی چیئرمین شپ کا مرحلہ آیا تونواز حکومت کی ترجیح اور تھی ۔ قبل ازیں صدر پاکستان کا منصب بھی ان کی بجائے ممنون حسین کا مقدر بنا حالانکہ راجہ صاحب اس منصب کے لیے سب سے اچھی چوائس تھے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ راجہ ظفر الحق جیسے قدر آور سیاسی رہنما اس صورت حال میں کیوں خاموش ہیں۔ پاکستان کے عوام ان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ صورت حال کو گمبھیر ہونے سے بچانے کے لیے آگے بڑھیں گے۔ راجہ صاحب اگر نواز شریف کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیں گے تو اور پارٹی رہنما بھی ان کے ہم آواز ہوجائیں گے ۔ چوہدری نثار کی بات البتہ مختلف ہے۔ چوہدری صاحب کو پارٹی کے اندر مخالفت کا سامنا ہے ، نواز شریف نے ان سے فاصلہ رکھا ہوا ہے چنانچہ اس مرحلے پر ان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ نواز شریف کے استعفیٰ کی بات کریں اور پارٹی رہنما فوری طور پر ان کے ہمنوا اور ہم خیال ہو جائیں۔ نواز حکومت پر لنکا ڈھانے کی ان کی صلاحیت تب بنے گی جب انہیں کوئی خفیہ اشارہ ملے گا۔ اب تک چوہدری صاحب اگر بے اثر ہیں تو اس کی وجہ بظاہر یہی ہے۔اس سے ایک اور بات سمجھ آتی ہے کہ فوج کی قیادت پر کسی سازش کا الزام بے جا ہے۔ مسلم لیگ ن کے کارپردازان نے اپنے بچاؤ کے لیے جس حکمت عملی کا سہارا لینے کی کوشش کی ہے اس کا بنیادی محور ہے کہ فوج کے اوپر کوئی الزام دھرا جائے کہ مسلم لیگ ن کے گرد شکنجہ کسنے میں اس کا ہاتھ ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے مسلم لیگی رہنما اشارے کنایوں میں اور کبھی کھل کھلا کر پاک فوج کو مورد الزام ٹھہراتے آ رہے ہیں حالانکہ اس سارے پراسس میں فوج کا کوئی عمل دخل دکھائی نہیں دیتا۔ بحیثیت پاکستانی یہ کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ اپنے آپ کوالزامات سے بچانے کے لیے آپ اداروں کو تباہی کی جانب دھکیل دیں۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے نتیجے میں یہ واضح ہو گیا ہے کہ نواز شریف اور ان کی فیملی نے عدالت عظمیٰ میں جھوٹ بولا اور غلط اعداد وشمار اور سر ٹیفکیٹ پیش کر کے عدالت کوگمراہ کرنے کی کوشش کی۔ اب جب کہ حقائق سامنے آ گئے ہیں تو واویلا مچا دیاگیا کہ ان کو منظرسے ہٹانے کے لیے سازش کی جا رہی ہے۔ فوج کے ترجمان کو مجبورہو کر وضاحت کرنا پڑی کہ فوج حکومت کے خلاف کسی سازش میں شریک نہیں ہے اور یہ کہ جے آئی ٹی میں شامل آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندوں نے اپنا کام ایمانداری سے انجام دیاہے۔ قوم جان چکی ہے کہ حکمرانوں کے نزدیک ریاست اور ریاستی اداروں کی دقعت ان کے اقتدار میں رہنے سے مشروط ہے ۔ عدالت کے احکامات کے تحت ان کی رخصتی لیکن نوشتہ دیوار ہے او ریہ ان کے اقتدار کا منطقی انجام ہوگا ۔ 

متعلقہ خبریں