منحصر مرنے پر ہو جسکی امید

منحصر مرنے پر ہو جسکی امید

آپ نے کبھی سنا ہے ؟ ہم نے بھی نہ کبھی سنا نہ دیکھا ہے کہ کسی جانور نے اپنی جان لینے کی کوشش کی ہو۔ کبھی کوئی ایسی خبر نظر سے نہیں گزری کہ شیر نے جو جنگل کا بادشاہ کہلاتا ہے کبھی کسی درخت سے لٹک کر خود کشی کی ہو ، کبھی کسی گدھے کو نہر میں کودتے نہیں دیکھا نہیں سنا اونٹ یا ہاتھی نے زہر کھالیا ہے ۔ انسان اسے کھلا دے یہ الگ بات ہے۔ یہ شرف صرف اشرف المخلوقات ہی کو حاصل ہے کہ وہ کبھی ایک کبھی دوسری وجہ سے مایوسی اور ناامیدی کی اُس انتہا کو پہنچ جاتا ہے ، جہاں فقط موت ہی میں اسے اپنی نجات نظر آتی ہے ۔ اپنی جان لینے کی وجوہات بے شمار ہو سکتی ہیں ، مگر جب ہم کسی انسان کو صرف غربت ، بے روزگاری ،بھوک کی وجہ سے موت کو گلے لگاتے سنتے ہیں تو اُس پر صرف افسوس ہی نہیں ہوتا شدید ذہنی اذیت سے بھی گزرنا پڑتا ہے ۔ ابھی کل ہی ایک اخبار میں خبر پڑھی جس میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب کے کسی علاقے میں، میاں بیوی دونوں نے اپنی دوسالہ بیٹی کے لئے دودھ کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے زہر یلی گولیاں کھا کر موت کو گلے لگا لیا ۔تفصیلات کے مطابق تھانہ کر کے چک نمبر 582میں رب نواز نامی ایک شخص اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ایک کمرے پر مشتمل مکان میں رہتا تھا ۔ پہلی بیوی کے فوت ہونے پر اس نے دوسری شادی کر لی تھی ۔ پہلی بیوی سے اس کے دو بیٹے بھی ساتھ ہی اسی کمرے میں رہتے تھے ۔ رب نواز مزدوری کر کے بمشکل زندگی کی گاڑی کھینچ رہا تھا۔ اُسے جو کام بھی مل جاتا ، وہ انکار نہ کرتا ۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے وہ مسلسل بے روزگاری کا شکار تھا ۔ 15جولائی کو رب نواز کی اہلیہ نے اُسے دو سالہ بچی کے لئے دودھ لانے کے لئے کہا ۔ اُس کے پاس پیسے نہ تھے اس پر میاں بیوی کے درمیان کچھ تلخ کلامی بھی ہوئی ۔ رب نواز بھوک سے بلکتی تڑپتی دوسالہ بیٹی کی اذیت کو مزید برداشت نہ کر سکا ۔ اُٹھا اور گندم میں پڑی گولیاں منہ میں ڈال لیں بیوی کو بتایا تو اُس نے بھی دوسرے ہی لمحے گندم میں رکھی جانے والی گولیاں نگل لیں،اور اس طرح دونوں نے بیک وقت قید حیات سے نجات حاصل کر لی ۔ غربت سے تنگ آکر خود کشی کرنے والوں کی یہ تو ایک مثال تھی اس طرح کی بے شمار خبریں ،اخبارات میں چھپتی رہتی ہیں ۔ ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق افلاس اور بے روزگاری سے خودکشی کے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں ۔ رپورٹ میںبتایا گیا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ دس سالوں کے دوران 10753خواتین 3754بچے اور 16842مرد مختلف وجوہات کی بناء پر اپنی زندگی کے چراغ گل کر چکے ہیں ۔ جن میں صوبہ بلوچستان میں 942، خیبرپختونخوا میں 2304، پنجاب میں 16727اور سندھ میں کل 11376خودکشی کے واقعات سامنے آچکے ہیں ۔ ایک خبر کے مطابق فیصل آباد کے دونوں سرکاری ہسپتالوں میں روزانہ کے حساب سے ایک درجن سے زیادہ خودکشی کے کیسز درج ہوتے ہیں ۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں خودکشیوں کے حوالے سے کراچی پہلے نمبر پر اور لاہور دوسرے نمبر ہے ،ماہرین نفسیات کے مطابق انسان کے ذہن میں خودکشی کا خیال صرف چند لمحوں کے لئے آتا ہے۔ ذہنی دبائو اور مایوسی کے عالم میں کسی شخص کے ذہن میں تین باتیں ہوتی ہیں ، یاتو وہ اُن معاملات یا حالات جو اُسکی فرسٹر یشن کی وجہ بنتے ہیں اپنے اعصاب پر قابو پا کر اُن سے سمجھوتہ کر لے ۔ اور صورت حال کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے ،دوسری صورت حالات سے مکمل فرار ہے اور یہی ذہنی کیفیت خودکشی پر انسان کو مجبور کردیتی ہے ۔ ماہرین نفسیات کے مطابق زہر خورانی خودکشی کا آسان ترین طریقہ ہے ۔ چنانچہ زندگی سے مایوس لوگ خود کشی کے لئے ، زہر خورانی کو ترجیح دیتے ہیں۔ سو باتوں کی ایک بات غالب معروف معنوں میں بالیقین نفسیات دان تھے ، لیکن اپنی بے پناہ ذہانت کی وجہ سے انسان کے نفسیاتی مسائل پر اُن کی گہری نظرتھی ۔ ویسے تو اُن کے دیوان میں اس موضوع پر بے شمار اشعار موجود ہیں لیکن آج کل جب ہماری نظر سے خود کشی کے دلدوز واقعات گزرتے ہیں تو جیسے کہ ہم عرض کرچکے ہیں ، اُن کی دیگر بے شمار وجوہات میں سے سب سے بڑی وجہ غربت اور بے روزگاری بتائی جاتی ہے۔ ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ غالب نے کم و بیش ڈیڑھ سو سال پہلے کتنے مئو ثر طریقے سے اس اہم مسئلے کی نشاندہی کر دی ہے ۔ کہتے ہیں 

منحصر مرنے پہ ہو جسکی امید
ناا مید ی اُسکی دیکھا چاہیئے
امید سے نا امید ی کے اس ذہنی سفر میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ زندگی جیسی قیمتی نعمت کو بھی دائو پر لگا دیتے ہیں۔ ایک طبقاتی معاشرے میں جب ایک مفلس ، سہ اوخورو، کیا کھائیں دوسرے شخص کو سنگہ اوخرو۔۔۔کیسے کھائیں ، کی انتہا پر دیکھتا ہے تو پھر اُسے ، گندم میں رکھی جانے والی زہر یلی گولیاں کھانے سے کون روک سکتا ہے۔ اس صورت حال کا نقشہ عبدالرحمن بابا نے ان الفاظ میں کھینچا ہے ۔
گاہ پہ غار مہ سوزی گھے ریگدی پہ ساڑہ
کلہ مری لہ لوگے ، کلہ مری پہ ڈیر خواڑہ
کوئی دھوپ میںکھڑا جل رہا ہے ، تو کوئی سردی سے کانپتا ہے ، کسی کو پیٹ کے لالے پڑے ہیں تو کسی کے لئے خوراک کی زیادتی موت کا پیغام بن جاتی ہیں اور یہی آج کے طبقاتی معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ہے غربت اور افلاس سے خود کشیوں کے رجحان کو روکنے کے لئے کوئی طریقہ ڈھونڈ نا ضروری ہو گیا ہے ورنہ ، خود کشی کی خبر یں روزانہ اخبارات میں چھپتی رہیں گی اور پڑھتے رہیںگے۔

متعلقہ خبریں