چین کی پیشکش اور بھارت کا استرداد

چین کی پیشکش اور بھارت کا استرداد

کیا چین نے علاقائی تنازعات میں کردار ادا کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے ؟یہ سوال پہلی بار اس وقت پیدا ہوا تھا جب چین نے برسہا برس سے خانہ جنگی اور شورش کا شکار علاقے کے اہم مسئلے افغانستان کو ایک نئے انداز اور ڈھب سے حل کرنے کی ٹھان لی تھی اور مسئلے کے ایک اہم فریق یعنی طالبان مزاحمت کاروں اور افغان حکومت کو اس حل کا حصہ بنانے کا راستہ اختیار کیا تھا گوکہ یہ کوشش پوری طرح کامیاب نہیں ہوئی مگر اسے مکمل ناکام بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ چین کابل حکومت ،پاکستان اور طالبان کے ساتھ رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔یہ افپاک کے نام پر امریکہ کی اپنائی گئی حکمت عملی سے قطعی مختلف سوچ اور راستہ ہے جس میں طاقت کے استعمال کا کوئی آپشن ہی نہیں۔ افغانستان کی طرح کشمیربھی علاقے کا ایک ایسا سلگتا ہو امسئلہ ہے جس کی حدت چین باآسانی محسوس کر سکتا ہے ۔چین کی سرحدیں اس متنازعہ ریاست کے ساتھ ملتی ہیں اور خود ریاست کا ایک حصہ تاتصفیہ چین کے کنٹرول میں ہے ۔چین ہمیشہ سے اس تنازعے میں ایک فریق کے طور پر موجود رہا ہے یہ الگ بات کہ چین کی پالیسی حد درجہ احتیاط کی رہی ہے اور بیتے ہوئے ماہ وسال چین علاقائی تنازعات سے بظاہر لاتعلق رہ کر اپنی توجہ معیشت پر مرکوز کئے رہا۔ آج 2017 ء ہے اور حالات اور زمانہ اس قدر بدل گئے ہیں کہ چین پاکستان سے دوقدم آگے بڑھ کر کشمیر پر بات کرتا ہے اور زوردار انداز میں کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہا رکررہا ہے جس کا ایک ثبوت چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گنگ شونگ کا بیان ہے جس میں بہت کھلے لفظوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کی پیشکش کرکے دنیا کو چونکا دیا ہے ۔چینی ترجمان کا کہنا تھا کہ کنٹرول لائن پر کشیدگی بڑھنے کے بعد دنیا کی توجہ جنوبی ایشیا کے دواہم ملکوں کی جانب ہو رہی ہے ۔یہ صورت حال صرف دو ملکوں پر ہی اثر انداز نہیں ہو رہی بلکہ پورے خطے کے امن واستحکام کے لئے خطرناک ہے ۔چین اس صورت حال میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے ۔چین کی اس پیشکش کے جواب میں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے کا کہنا تھا کہ مسئلے کی جڑ سرحد پار دراندازی ہے جس کا ذمہ دار ایک مخصوص ملک ہے ۔جس سے امن اور استحکام کو خطرہ ہے ۔بھارت دوطرفہ فریم ورک کے تحت مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہے۔اس طرح بھارت نے چین کی پیشکش مسترد تو کردی مگر کشمیر پر بات چیت کرنے کا عندیہ دے کر دبے لفظوں میں کشمیر کے متنازعہ ہونے کا اعتراف بھی کیا ۔چین اور بھارت کے درمیان کشمیر کے نام پر لفظوں اور جملوں کا اس انداز سے تبادلہ ہونے سے کچھ ہی دن پہلے چین کے اخبار ''گلوبل ٹائمز '' نے یہ معنی خیز جملہ لکھا تھا کہ بھوٹان کی درخواست پر بھارت کے سکم میں فوج داخل کرنے سے یہ مثال قائم ہو گئی کہ پاکستان کی درخواست پر کسی تیسرے ملک کی فوج کشمیر جیسے متنازعہ علاقے میں داخل ہو سکتی ہے ۔چینی اخبار کے اس جملے پر بھارتی میڈیا اور سیاست دانوں کو سانپ سونگھ گیا تھا ۔چین کی طرف یہ انداز فکر اور طرز اظہار بھارتیوں کے لیئے قطعی نیا ہے ۔ایک طرف پاکستان اور بھارت کے درمیان کنٹرول لائن پر کشیدگی پورے عروج پر ہے تو دوسری طرف چین اور بھارت کی افواج کے درمیان سکم کی سرحد پر پیدا ہونے والا تنازعہ بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔چین بھارتی فوج کی واپسی کے بغیر بھارت سے کسی قسم کی بات چیت کرنے کو تیار نہیں ۔چین ایک متنازعہ علاقے میں بھارت کی فوج کے داخلے کو اپنی انا کے لئے چیلنج اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دے رہا ہے ۔ چین کا میڈیا 1962کی ہند چین جنگ کی تصویریں اورواقعات کو دوبارہ لوح حافظہ پر تازہ کرکے بھارت کو بین السطور کچھ پیغامات دینے میں مصروف ہے ۔بھارتی ٹی وی چینلز بحث مباحثے میں وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے شرکاء سے پوچھتے ہیں کہ اگر چین اور بھارت کا تصادم ہوگیا تو وہ کس کا ساتھ دیں گے ؟۔انہیں اس کا من پسند جواب سننے میں دلچسپی ہوتی ہے مگر ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوتی ۔بھارت میں چھوٹی جنگوں کے لئے تیاررہنے اوروسائل کی فراہمی کے لئے منظوری کے پرت در پرت نظام سے ہٹ کر اسے سریع الحرکت اور براہ راست بنانے کے لئے فوج کے وائس چیف کو ضروری اسلحہ کی خریداری اور فوری فیصلہ سازی کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ان میں لڑاکا جنگی طیارے اور ٹینک جیسا اسلحہ بھی شامل ہے۔اوڑی حملے کے بعد یہ اختیار ایک کمیٹی سے لے کر تینوں افواج کے سربراہوں یعنی تین افراد کو منتقل کیاگیا اور اب اسے مزید تیز رفتار بنانے کے لئے ایک ہی شخص وائس چیف کو سونپ دیا گیا ۔اس جیو پولیٹیکل صورت حال میں کشمیر کا تنازعہ بہت اہم ہوتا جا رہا ہے ۔ علاقائی امن واستحکام کے نام پر چین کی کشمیر میں بڑھتی ہوئی دلچسپی بھارت کے رویے اور مظالم کا مکافات عمل ہے ۔امریکہ نے یونی پولر طاقت بن کر کشمیر کے تنازعے کو حل کرنے کا نادر موقع گنوا دیا ۔وہ بھارت کی منڈیوں کے لالچ میں اس قدر مسحور ہو گیا کہ کشمیر پر اپنے روایتی اور دیرینہ موقف کو بھی ترک کر بیٹھا ۔اب چین ایک اُبھرتی ہوئی عالمی معاشی طاقت ہونے کی حیثیت سے اپنی سرحدوں پر تنازعہ کشمیر کے رستے ہوئے زخم کو مندمل کرنے کا خواہش مند ہے تو دنیا کو اس کوشش کا ساتھ دینا چاہئے کیونکہ خطے میں امن چین کی اپنی ضرورت ہے محض ایک تصوراتی اور افسانوی بات نہیں۔

متعلقہ خبریں