سرکاری سکولوں کے نتائج ایک جائزہ

سرکاری سکولوں کے نتائج ایک جائزہ

پچھلے دنوں پختونخوا کے آٹھ بورڈوں کے میٹرک کے نتائج کا اعلان ہوا تو پتہ چلا کہ ہر بورڈ میں ٹاپ ٹونٹی پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کا تعلق پرائیویٹ سکیٹر کے سکولوں سے ہے ۔ کچھ پوزیشنیں کیڈٹ کالج سسٹم کے طلباء نے حاصل کیں جو ایک روٹین کی بات ہے کیونکہ ان کا اپنا کڑا اور منظم نظام ہے لہٰذا اُن کے طلباء کو پوزیشن حاصل کرنا فطری بھی ہے اور ضروری بھی ۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کے سکولوں کے طلباء گیارہ سو میں سے 1010سے لیکر 1052تک نمبرات کیسے حاصل کر لیتے ہیں ؟ ۔ اور سرکاری سکولوں کے طلبہ و طالبات کیوں وہ سکور کرنے میں ناکام رہ جاتے ہیں جس کے لئے حکومت اربوں کا فنڈ مختص کر کے خواہشمند ہے ۔ میٹرک کے نتائج آنے کے بعد مختلف اخبارات کے کالموں اور خبروں اور ٹی وی چینلز پر جو تبصرے شائع ہوئے اور ٹاک شوز میں سامنے آئے ، اُن میں اعتدال و میا نہ روی کی کمی تھی ۔ اس کے علاوہ بعض زمینی حقائق کو بھی مد نظر نہیں رکھا گیا تھا ۔ اس سلسلے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب تک اس ملک میں طبقاتی نظام تعلیم جاری رہے گا ۔ نتائج کم وبیش اس طرح آتے رہیں گے ۔ پختونخوا میں سماجی اور معاشی لحاظ سے طبقاتی تقسیم ہے ، اُس نے معاشرے کو ایسے حصوں اور خانوں میں تقسیم کیا ہے کہ اس کے مطابق غربت میں پلنے والے بچے جو بمشکل سرکاری سکولوں میں داخل کرائے جاتے ہیں ، شاید ہی کبھی اُن سکولوں کے بچوں کے برابر آسکیں جو صبح بہترین قسم کا ناشتہ کرکے یونیفارم زیب تن کئے اپنی یا کرائے کی گاڑی میں ایک ایسے سکول پہنچتے ہیں جہاں صاف ستھرا ماحول ، بجلی ، پانی ، کینٹین اور میز کرسی اور دیگر سہولیات فراہم کئے ہوئے ہوتے ہیں ۔ موجودہ حکومت سے قبل اساتذہ کو جس تھوک کے حساب سے بغیر کسی ٹیسٹ و آزمائش اور امتحان کی چھلنی سے گزارے صرف سیاسی بنیادوں پر اپنے ووٹروں کے خاندان کے فرد کو باروز گار بنانے کے لئے سکولوں میں تعینات کر وایا گیا ، اُس نے سرکاری سکولوں میں پڑھنا پڑھانا تو دور ایک خوشگوار تعلیمی ماحول کی فراہمی میںبھی بڑی رکاوٹ پیدا کی ، اس سے مستزاد حکومتوں کی طرف سے سکولوں پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے سبب اساتذہ اپنی من مانیوں میں لگ گئے ۔ پچھلے دو عشروں میں پاکستان میں قانون کی حکمرانی کو جو نقصان پہنچا یا گیا اس کا اثر ہر شعبہ زندگی میں ظاہر ہوا لیکن تعلیم کے شعبے کو بہت بُری طرح متاثر کر گیا کیونکہ پاکستان میں یہ شعبہ شروع ہی سے زبوں حالی کا شکار تھا اگر چہ پھر بھی تھوڑا بہت کام چل رہا تھا ۔ کسی زمانے میں جب پرائیویٹ سکول کا نظام نہیں تھا تو سرکاری سکولوں کے ہیڈ ماسٹر اپنے سکول کے اساتذہ کی کڑی نگرانی کرتے تھے اور اساتذہ ہیڈ ماسٹر (جو آج کل پرنسپل کہلاتے ہیں ) سے تھر تھر کا نپتے تھے ۔ ہیڈ ماسٹر وں کی نگرانی اور سکولوں کی کارکردگی کی جانچ پڑتال کے لئے سہ ماہی ششماہی اور سالانہ بنیادوں پر دورے اور معائنے ہوتے تھے ۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ انسپکٹر آف سکولز کے معائنے کی آمد سے ایک ہفتہ قبل سکول کی صفائی ستھرائی ڈسپلن ، طلبہ کو صفائی اور سوالات کے جوابات دینے کی باقاعدہ مشق کرائی جاتی تھی ۔ اس دن ہیڈ ماسٹر اور اساتذہ بہترین صاف ستھر ے کپڑوں میں ملبوس قراقلی سر پر سجائے ہوشیار باش ہوتے تھے لیکن سیاسی اُتھل پتھل نے معاملات اس انہج پر پہنچائے کہ ہیڈ ماسٹر بعض اساتذہ سے اور ڈی ای او وغیرہ ہیڈ ماسٹروں سے جان کی امان پانے کی دعائیں مانگنے لگے ۔ یوں اُ س نظام کی چو لیں ڈھیلی پڑگئیں جو کئی ایک کمزور یوں کے باجود آج کے نتائج سے بہتر نتائج دے رہے تھے ۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت نے کم از کم دو شعبوں میں اپنی توانائیاں اور وسائل لگانے میں کوئی کسر اٹھا ئے نہیں رکھی ۔ صحت اور تعلیم کے لئے جو بجٹ مختص ہوا وہ شاید ہی اس سے پہلے کبھی ہوا تھا ۔ اس کے علاوہ سکولوں میں ہزاروں نوجوان اساتذہ کو این ٹی ایس کے ذریعے اہلیت و قابلیت کی بنیادوں پر تعینات کرنا بہت بڑا کارنامہ ہے ۔ ان اقدامات کے حوصلہ افزاء نتائج ضرورآئیں گے ، لیکن اس میںذرا صبر کی ضرورت ہے ۔ اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ شعبہ تعلیم میںکئی ایک اہم اقدامات کے باوجود بہت کچھ کرنا ابھی باقی ہے ، جس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ تعلیم کو کم از کم سیاست سے مستثنیٰ رکھا جائے اور حکومت کو شش کرے کہ اساتذہ کی تعیناتی قابلیت پر ہو۔ ایک استاد جو سفارش پر کسی سکول میں داخل ہوتا ہے وہ چالیس برس تک اپنے مضمون میں طلباء اور قوم کا ستیا ناس کرتا ہے ۔ سرکاری سکولوں کو پرائیویٹ سکولو ں کے مقابلے میں لانا اب بہت مشکل کام ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تعلیم اب صنعت و تجارت اورا نڈسٹری میں تبدیل ہوچکی ہے اور اس کا نفع بہت میٹھا ہے اوراس سلسلے میں پلوں کے نیچے اتنا پانی گزراہے کہ اسے واپس نہیں لایا جا سکتا ۔ لیکن بہتری کے لئے اقدامات ممکن ہیں ۔اگرسرکاری سکولوں کے درمیان مقابلوں کے رجحان کو پروان چڑھا یا جائے اور نگرانی کو سخت کیا جائے تو امید ہے کہ رفتہ رفتہ حالات بہتر ہوتے چلے چائیں گے ۔ لیکن یہ ایک صبر آزما ، جہد مسلسل اور ان تھک کام ہے لہٰذا ہر حکومت کو شش جاری رکھے ۔اور پرائیویٹ سکولوں پر نگاہ بھی رکھے کہ آخر ان کے ان ٹرینڈ اور کم تنخواہ پانے والے اساتذہ کیوں بہتر نتائج دیتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں