عالم پناہ ممنون حسین کا ٹرینی سفر

عالم پناہ ممنون حسین کا ٹرینی سفر

ہم اکیسویں صدی میں داخل ہوچکے ہیںزمانے کے انداز بدلے جارہے ہیں بہت سی پرانی روایات ختم ہوچکی ہیں سوچ بدل رہی ہے بہت سے تکلفات جو کبھی ہمارے لیے باعث تکلیف ہوا کرتے تھے آج ہماری زندگی سے نکل چکے ہیں ہم سادگی کی طرف بڑھ رہے ہیں یہ اور اس طرح کی دوسری بہت سی باتیں جب سننے کو ملتی ہیں تو حضرت انسان کی سوچ پر رشک آتا ہے جب مغرب کے کسی سربراہ مملکت کو سائیکل پر دفتر جاتے ہوئے دکھایا جاتا ہے یا جب یورپین ممالک کے صدور کو آپس میں مل بیٹھ کر کھانے کی میز پر دیکھتے ہیں تو ان کے سادہ سے کھانے کو دیکھ کر ذہن میں خیال آتا ہے کہ واقعی سادگی زبردست چیز ہے اور مغرب والوں نے یقینا اس سادگی کو اپنا لیا ہے جو کبھی ہمارے اسلاف کا طرہ امتیاز ہوا کرتی تھی پھر درمیان میں ایسے ادوار بھی آئے جب کروفر اور تکلفات کا دور دورہ رہا آج جب ہم ان تکلفات اور شان وشوکت کے حوالے سے پڑھتے ہیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ ہم کیا کرتے رہے ہیں ؟مغلیہ دور میں ہندوستان کے بادشاہ شاہجہان کی بیٹی جہاں آرا بیگم جب غسل صحت فرماتی ہیں تو کتنے تکلفات دیکھنے میں آتے ہیں شاہجہان نامہ کے مصنف لکھتے ہیں: ہزار ہزار شکر ہے کہ ملکہ حور صفات جہاں آرا بیگم کو جن کی ذات بابرکت اہل عالم کے لیے باعث فیض ہے شفائے کامل نصیب ہوئی جو لوگ مژدہ صحت سننے کے لیے منتظر تھے وہ ظل سبحانی کے جودو کرم سے بہرہ مند ہوئے۔ دنیا والوں پر عیش و عشرت کے دروازے کھل گئے اس مسرت افزا تاریخ پر ظل سبحانی نے اس مرصع تخت پر جلوس فرمایا جس کے سامنے ایران کے قدیم بادشاہوں کے تخت کوئی حیثیت نہیں رکھتے بادشاہ نے خدا کا شکر ادا کرنے کے بعد لعل، یاقوت، زمرد، موتی ، روپے اور اشرفیاں اس عفت سرشت خاتون کے سر پر نچھاور کیے مزید آٹھ دن تک جشن قائم رہا اور حضرت اسی طریقے سے دولت بکھیرتے رہے ۔اسی طرح جب بادشاہ سلامت کی سواری نکلتی تھی تو آمدورفت کے سارے راستے بند ہوجایا کرتے تھے عوام بہت بڑے عذاب میں مبتلا ہوجاتے تھے۔ کاروبار زندگی رک جایا کرتا تھا چونکہ بادشاہ کو ظل سبحانی کہا جاتا تھا اس لیے کسی کے ذہن میں ان تکالیف کے باوجود احتجاج یا فریاد کا تصور بھی نہیں آتا تھا ۔یہ سلسلے کئی صدیوں تک چلتے رہے پھر ہم اس دور میں داخل ہوئے جسے جدید دور کہا جاتا ہے نئی نئی باتیں سننے کو ملیں جمہوریت سے ہماری شناسائی ہوئی ہمیں یہ بتایا گیا کہ جمہوریت میں اصل حکمرانی عوام کی ہوتی ہے عوام کے ووٹ کی طاقت سے حکمران عالم وجود میں آتے ہیں اگر حکمران اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرے عوامی حقوق کا خیال نہ رکھے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ان کی بہتری کے لیے کام نہ کرے تو اگلے انتخابات میں عوام اسے ووٹ نہیں دیتے اب اس میں کتنا جھوٹ اور کتنا سچ ہے یہ تو ہم نہیں جانتے لیکن عوام کی حالت زار دیکھ کر کچھ کچھ اندازہ ہوتا ہے کہ جمہوریت میں بھی عام آدمی کی زبوں حالی میں کوئی بہتری نہیں آئی ساتھ ہی ذہن میں یہ خیال بھی آتا ہے کہ کیا ہمارے یہاں سچ مچ کی جمہوریت ہے یا پھر ہم جمہورت کی کاربن کاپی سے ہی کام چلانے کی کوشش کررہے ہیں؟کسی دانشور کا قول ہے: سورج نکلنے سے سورج غروب ہونے تک اتنے لوگوں کو نہیں چنا گیا جتنے لوگ سورج غروب ہونے سے سورج طلوع ہونے تک چنے گئے ! ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ اندھیرے کی پیداوار روشنیوں کے حوالے سے بانجھ ہوتے ہیں ان سے رہبری و رہنمائی کی توقع عبث ہوتی ہے ! یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی ایک نظر اس سفر پر بھی ڈال لیتے ہیں جو جمہوریہ پاکستان کے صدر ممنون حسین نے عوامی ٹرین میں عوامی انداز سے کیا بس ممنون حسین کے عوامی ٹرین میں کیے جانے والے سفر اور عام آدمی کے سفر میں معمولی سا فرق یہ تھا کہ عالم پناہ ممنون حسین کے ٹرینی سفر پر کروڑوں روپے خرچ ہوگئے مسافر بھی خوب خوار ہوئے! اس سفر میں چار اضافی انجن استعمال کیے گئے اور تین انجن مختلف سٹیشنوں پر سٹارٹ کھڑے رہے اور ریلوے کا پورا نظام درہم برہم ہوگیا ۔ 

لاہور میں کئی سڑکیں اور راولپنڈی تک تمام سٹیشنوں کو عوام کے لیے بند کردیا گیا ۔یہ یادگار ٹرینی سفر لاہور سے راولپنڈی تک کیا گیا جو مدتوں عوام کو صدر جمہوریہ پاکستان ممنون حسین کی یاد دلاتا رہے گا۔ اس سفر کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ ہزاروں اہل کار لاہور سے را ولپنڈی تک مختلف ریلوے سٹیشنوں پر ڈیڑھ کلو میٹر کے علاقہ میں ہر دس فٹ کے فاصلے پر تعینات رہے۔ اس کے علاوہ عالم پناہ کے ٹرینی سفر کے لیے گریڈ ایک سے گریڈ انیس تک کے پچاس سے زائد افسر ان کے پروٹوکول کے لیے لاہور ریلوے سٹیشن پر سارا دن کھڑے رہے جس کی وجہ سے ریلوے کا پورا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس سب کچھ کے باوجود عوام حکمران سے گلہ شکوہ اس لیے نہیں کرتے کہ وہ جانتے ہیں کہ جمہوریت کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں! عوام کے لیے ممنون حسین کی طرف سے یہ خوشخبری بھی آئی ہے کہ انہوں نے سفر کے اختتام پر اپنے تاریخی خطاب میں کہا کہ میرا ٹرین پر سفر کرنے کا مقصد اس موقع پر یہ تھا کہ لوگ ریلوے پر زیادہ سے زیادہ سفر کریں اور انہوں نے یہ خوشخبری بھی سنائی کہ ملک کے حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں!۔

متعلقہ خبریں