مشرقیات

مشرقیات

مہدی نے ایک محل تعمیر کرایا ۔ بڑا خوشنما اورخوبصورت ! دیکھو تو جی چاہتا تھا بس دیکھتے ہی رہو ۔ مہدی ہارون رشید کا باپ تھا اور بڑی شان وشوکت والا حکمران ! محل بن کر تیار ہوگیا اور ہرطرح اسے بنا سنوار دیا گیا تو مہدی اس میں منتقل ہوگیا ۔ اس نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ کوئی محل دیکھنا چاہے تو اُسے مت روکو ۔ کسی کے پاس روپیہ ہو یا اقتدار تو پھر اُسے جی حضوریوں کی کمی نہیں رہتی ۔ ایک سے ایک بڑا چاپلوسیا در دولت پر حاضر رہتا ہے اور ایسی ایسی چکنی چپڑی باتیں کرتا ہے کہ کچھ نہ کہیئے ۔ انہی میں سے ایک خوشامدی نے ایک دن خلیفہ مہدی سے کہا کہ حضور ! سب کو محل دیکھنے کی اجازت نہ دی جائے ۔ ہاں جو آپ کے یار وفادار اور خدمت گزار ہوں صرف انہیں داخلے کی اجازت ہو ۔ مہدی نے پوچھا کیوں ؟ تو بولے حضور ! وہ محل دیکھ کے خوش ہوں گے ۔ آپ کیلئے دعا کریں گے کہ آپ کی شان و شوکت اور بڑھے ۔ اب ہم لوگوں ہی کودیکھیئے د عائیں دیتے آپ کے در دولت پر پڑے رہتے ہیں ۔ آپ کو خوش دیکھتے ہیں تو نہال ہو جاتے ہیں ۔ درباری اور خوشامدی ہمیشہ ایک دوسرے کی کاٹ میں رہتے ہیں ۔ ہمہ وقت انہیں یہ فکر رہتی ہے کہ کوئی دوسرا اظہار وفاداری میں ان سے نہ بڑھ جائے چنانچہ اس موقع پر بھی ایک اور چاپلوسیے نے کہا دُشمنوں اور جلنے والوں کو بھی محل دیکھنے کی اجازت ہونی چاہیئے ۔ مہدی نے پوچھا بھلا وہ کیوں ؟ اس نے کہا، عالیجاہ ! محل دیکھ کر ان کے سینوں پر سانپ لوٹ جائیں گے ۔ سرکار کی شان و شوکت دیکھ کر جو جلن انہیں ہوگی وہ دیکھنے کے قابل ہوگی ! مہدی نے کہا جو حکم ہم نے دیا تھا وہی ٹھیک ہے اپنے پرائے ، دوست دُشمن سب کو محل دیکھنے کی اجازت ہوگی ۔ اپنا ہوگا تو ہماری شان وشوکت دیکھ کر خوش ہوگا ۔ اس سے ہمیں بھی خوشی ہوگی ۔ کون ہے جو اپنے دوستوں کو خوش نہیں دیکھنا چاہتا ۔ رہ گئے ہمارے دشمن ! تو انہیں بھی یہ محل دیکھنے دو ۔ وہ ہماری آن بان دیکھ کر دل تنگ ہوں گے ، کڑھیں گے ، غصے اور حسد کی آگ میں جلتے بھنتے رہیں گے تو یہ ان کا اپنا فعل ہوگا ۔ ان کے حسد سے البتہ ایک فائدہ پہنچنے کا امکان ہے ۔ خوشامدیوں نے پوچھا وہ کیا ؟ مہدی نے کہا وہ محل کے عیب نکالیں گے ہمیں معلوم ہوگا تو ہم انہیں دور کرتے چلے جائیں گے ۔ اس بات چیت کو کچھ بہت زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ ایک شخص محل دیکھنے آیا ۔ دوست تھا یا دُشمن کچھ معلوم نہ ہوتا تھا مگر تھا وہ بڑا کڑ ہا ہوا آدمی !محل دیکھنے کے بعد اسے مہدی کے آگے پیش کیا گیا ، مہدی نے پوچھا کیسا ہے یہ محل۔ اس نے کہا بہت اچھا ہے مگر اس میں دو عیب ہیں ! مہدی نے پوچھا وہ کیا ؟ جواب ملا ایک تو یہ کہ تم اس میں ہمیشہ نہ رہو گے ۔ دوسرا یہ کہ یہ محل بھی ہمیشہ نہ رہے گا ۔ ہمیشہ رہے نام اللہ کا ! مہدی یہ سن کر اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا اور بے اختیار ٹہلنے لگا ۔ وقت کی بات تھی لمحوں میں اللہ تعالیٰ نے اس کا دل پھیر دیا ۔ وہ شخص چلا گیا تو مہدی نے حکم دیا کہ اس محل کو محتاج گھر بنا دیا جائے ۔ (روشنی)

متعلقہ خبریں