بھاشا ڈیم کی لاگت میں اضافہ

بھاشا ڈیم کی لاگت میں اضافہ

پاکستان میں بجلی کا بحران جس طرح عوام کے لئے سوہان روح بنا ہوا ہے اگرچہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے سابقہ اور موجودہ حکومتوں کی جانب سے اقدامات کیے گئے ہیں مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ہر دور میں ''بیماری'' کو جڑ سے اکھاڑنے کے برعکس اقدامات سے ''مرض'' پر قابو پانے میں ناکامی کا ہی سامنا رہا ہے۔ قدرت نے ملک کو پانی کے وافر ذخائر سے مالا مال کر رکھا ہے اور دنیا بھر میں سستی ترین بجلی صرف اور صرف پانی کے ان منابع کو بروئے کار لا کر ہی اس مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے جبکہ ہمارے ہاں سستی ترین بجلی کے برعکس دیگر ذرائع سے مہنگی بجلی کے حصول پر زور دیا جا رہا ہے اور اس کے پیچھے ایک مخصوص لابی کی جانب سے ضد اور انا پر مبنی منفی رویہ ہے۔ ایک مخصوص علاقے کے ریگستان کو ہر حربے کو بروئے کار لا کر سیراب کرنے کے لئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر بضد بیورو کریسی کا ایک مخصوص طبقہ صرف اس لئے آبی وسائل کے دیگر ذرائع اور منابع کو استعمال کرنے کی راہ میں رووڑے اٹکاتا آرہا ہے کہ اگر دیگر ڈیمز یا پھر پانی کے منابع کو جنریٹ کرکے بجلی پیدا کی گئی تو کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی ان کی تمام کوششیں ناکامی سے دو چار ہو جائیں گی۔ حالانکہ ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں نہ صرف بڑے ڈیمز بنانے بلکہ چھوٹے چھوٹے واٹر فالز (آبشار) ایسے علاقے اور پانی کے بہائو کے قدرتی وسائل موجود ہیں کہ اگر کالا باغ ڈیم پر تینوں چھوٹے صوبوں کی جانب سے اعتراضات کے بعد ان منصوبوں پر بھرپور اور بروقت توجہ دی جاتی تو اب تک نہ صرف پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے اقدامات کیے جا چکے ہوتے بلکہ اس قدر وافر مقدار میں سستی ترین بجلی بنانے میں ہم کامیاب ہو چکے ہوتے کہ چین کی طرح صنعتی زونز کو مفت فراہمی کو بھی یقینی بنا کر ملک کو ترقی کی شاہراہ پر بہت آگے لے جا چکے ہوتے۔ عوام کو بھی اس قدر مہنگی بجلی کی بجائے انتہائی سستے داموں فراہمی کو یقینی بنایا جا چکا ہوتا بلکہ فالتو بجلی ہمسایہ ممالک پر فروخت کرکے قیمتی زر مبادلہ کمانے کے بھی قابل ہو چکے ہوتے۔ لیکن محولہ مخصوص لابی صرف اور صرف کالا باغ ڈیم بنانے کی مخالفت کی سزا پورے پاکستان کو دینا چاہتی ہے اور فرنس آئل' کوئلہ' گیس اور دیگر مہنگے ذرائع سے بجلی بنانے کے منصوبے لگوا کر ملک کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔ بھاشا ڈیم کا منصوبہ بہت عرصہ پہلے بن چکا ہے اور جنرل مشرف کے دور میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لئے قومی یکجہتی پیدا کرنے میں چھوٹے صوبوں کے اعتراضات کے بعد بھاشا ڈیم کی تعمیر کا حتمی حکم صادر کیا گیا مگر وہی مخصوص لابی اس منصوبے کی تعمیر کے آڑے آتی رہی اور کسی نہ کسی طور اس کی راہ کھوٹی کرنے کی سازشیں کرتی رہی۔ درایں حالات منصوبے کی لاگت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ اس کے برعکس دریائے سندھ اور دیگر دریائوں پر ہمارا دشمن بھارت پاکستان کے حصے پر قبضہ جماتے ہوئے سینکڑوں ایسے چھوٹے بڑے ڈیمز یا دیگر منصوبے بناتا رہا کہ ایک جانب پاکستان کے پانی کے حصے کو اپنے استعمال میں لاتا رہا بلکہ کچھ عرصہ پہلے بھارتی وزیر اعظم نے بر ملا یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ بھارت پاکستان کو ایک ایک بوند پانی سے محروم کردے گا کہ ان دریائوں پر صرف بھارت کا حق ہے لیکن ان دھمکیوں کے باوجود ہمارے پالیسی سازوں کو احساس نہیں ہو رہا باوجود یہ کہ ماہرین خدشات ظاہر کر رہے ہیں کہ آنے والے دور میں پاکستان کے عوام کو پانی کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بھارت صرف کشمیر اور ہمالیہ سے آنے والے دریائوں کا رخ ہی تبدیل نہیں کر رہا بلکہ وہ افغانستان میں بھی دریائے کابل اور دیگر آبی منابع پر ڈیمز تعمیر کرنے کے لئے سرمایہ کاری کرکے پاکستان کو خشک سالی کا شکار بنانے میں مصروف ہے۔ ان حالات کا تقاضا ہے کہ نہ صرف بھاشا ڈیم بلکہ دیگر چھوٹے بڑے منصوبوں پر ہم اپنی توجہ مبذول کرکے پانی کے وافر ذخائر کا اہتمام کریں بلکہ انہیں بروئے کار لا کر سستی ترین بجلی پیدا کرنے کا اہتمام کریں۔ یہ کتنی بد نصیبی ہے اس قوم کی کہ بھاشا ڈیم کے لئے جب 2009ء میں پی سی ون بنا تو اس کی تعمیر پر 894 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا مگر مسلسل نظر انداز کئے جانے کی وجہ سے اب اس کی لاگت 1400 ارب روپے کے لگ بھگ پہنچ چکی ہے اور اگر منصوبہ بنانے کے فوری بعد اس کی تعمیر شروع کردی جاتی تو اب سے تقریباً تین سال پہلے یہ منصوبہ تکمیل پذیر ہو کر نہ صرف پانی ذخیرہ کرنے کے قابل ہوچکا ہوتا بلکہ اس کی تعمیر سے تر بیلا ڈیم کی زندگی میں 20 سال کا اضافہ ہو چکا ہوتا۔ سستی ترین بجلی سے ملک لوڈشیڈنگ کے عذاب سے چھٹکارا پا چکا ہوتا۔ ملک صنعتی ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہوتا بلکہ ہم یہی بجلی دیگر ملکوں پر فروخت کرکے زر مبادلہ کمانے کے بھی قابل ہوچکے ہوتے۔ اس لئے جن لوگوں نے اس ڈیم یا دیگر آبی ذخائر سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر توجہ نہیں دی وہ یقینا اس ملک کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار اور قومی مجرم گردانے جائیں گے۔ اب بھی وقت ہے کہ بھاشا ڈیم کی تعمیر پر مزید وقت ضائع کئے بغیر فوری توجہ دی جائے تاکہ ہمارے مسائل کا حل نکل آئے۔

متعلقہ خبریں