کرکٹ ٹیم کی حوصلہ افزائی

کرکٹ ٹیم کی حوصلہ افزائی

اوول (انگلستان )کے میدان میں چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میچ میں بھارتی کرکٹ ٹیم کو عبرتناک شکست سے دوچار کرنے اور بھارتی غرور کو خاک میں ملا کر پوری بھارتی قوم کو دھول چٹانے پر مجبور کرنے والی قابل فخر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی ملک بھر میں جس طرح پذیرائی کی جارہی ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے کھلاڑیوں پر انعام و اکرام کی برسات واقعی ان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کا باعث ہو گی ۔ آرمی چیف نے تمام کھلاڑیوں کو عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب بھیجے کا اعلان کر کے جس طرح پذیرائی کی ابتدا کی ، اس کے بعد بحریہ ٹائون کی جانب سے فخر پاکستان فخر زمان کیلئے ایک کنال کا پلاٹ اور کھلاڑیوں کیلئے دس دس لاکھ روپے نقد انعام ، حاجی غلام احمد بلو ر کی جانب سے ٹیم کی حوصلہ افزائی کیلئے نقد انعام اور اب وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے ہر کھلاڑی کیلئے ایک ایک کروڑ کے انعام کا اعلان بڑاہی خوش آئند ہے ، جس سے ٹیم ممبران کا حوصلہ بلند ہوگا اور وہ آنے والے دنوں میں اپنی کار کردگی کو مزید بہتر بنانے پر توجہ دیں گے ۔ ملک کانام روشن کرنے والوں کی اس طرح حوصلہ افزائی آنے والے دور میں نئے اور نوجوان کھلاڑیوں میں تازہ ولولہ پیدا کرنے کا باعث بنے گا اور پاکستان میں حقیقی معنوں میں ٹیلنٹ کو آگے آنے کا حوصلہ بخشے گا ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بعض حلقوں کو وزیر اعظم کی جانب سے ہر کھلاڑی کو ایک ایک کروڑ کے اعلان پر دل کے پھپھولے پھوڑنے کا موقع مل گیا ہے اور وہ صرف وزیراعظم کی ذاتی مخالفت میں اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے طنزاً اس قسم کی پوسٹیں لگا رہے ہیں کہ رقم وزیر اعظم جیب سے تو نہیں دے گا ۔ تاہم لوگ یہ بات بھول رہے ہیں کہ کھلاڑیوں نے جو کارنامہ انجام دیا ہے اور پاکستان کانام جس طرح روشن کیا ہے ، پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو دھول چٹا دی ہے ، جس نے حالیہ برسوں میں پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے الزامات کی آڑ میں یہاں انٹر نیشنل کر کٹ پر قد غنیں لگادی ہیں ، اس جیت سے بھارت دنیا بھر میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا ، اور اس شاندار فتح کے بعد پاکستان میں عالمی کرکٹ کی بحالی کے امکانات خاصے روشن ہوگئے ہیں ، اس لئے اگر حکومتیں (موجودہ اور سابقہ ) اپنے اللوں تللوں کے برعکس قومی کرکٹ ٹیم کی حوصلہ افزائی کیلئے انعام و اکرام دیتی ہیں تو یہ دراصل قوم کی جانب سے اپنے ہی کھلاڑیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا ایک مثالی نمونہ ہے اور ہربات پر اعتراضات کر کے کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی کا باعث کسی کو نہیں بننا چاہیئے ۔
طویل بجلی بریک ڈائون
ویسے تو بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں نے وفاقی حکومت کے اس واضح اعلان کے باوجود کہ رمضان المبارک کے دوران کم از کم سحری اور افطاری سے لیکر نماز تراویح کے اختتام تک کہیں بھی لوڈ شیڈنگ نہیں کی جائے گی ، عوام پر حسب سابق لوڈ شیڈنگ کا عذاب مسلط کر رکھا ہے اور ملک بھرمیں اس صورتحال پر عوام احتجاج پر مجبور ہو رہے ہیں ، یہاں تک کہ پاکستان اور بھارت کے مابین کرکٹ فائنل کے دوران وزیر اعظم نواز شریف لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے حکم کو بھی پرکاہ کے برابر اہمیت نہ دیتے ہوئے اکثر شہروں اور قصبات میں باقاعدگی بلکہ عمومی اوقات سے زیادہ لوڈشیڈنگ کر کے لوگوں کو کرکٹ کے اس اہم مقابلے کو دیکھنے سے محروم کئے رکھا ۔ مگر گزشتہ روز یعنی منگل کے روز پشاور کے بیشتر علاقوں میں رات لگ بھگ پونے دس بجے سے بلا جواز اور بغیر پیشگی اطلاع یا اعلان کے بجلی کا طویل بریک ڈائون کر کے جس طرح عوام کو عذاب سے دو چار کیا گیا ، یہاں تک کہ عوام کو اندھیر ے ہی میں سحری اور فجر کی نماز کا اہتمام کرنا پڑا اور ساڑھے سات گھنٹے بعد اگلی صبح ساڑھے آٹھ بجے کے بعد ہی واپس آئی ، اس قدر طویل بریک ڈائون سے عوام کس اذیت میں مبتلا رہے اس کا اندازہ صرف ان کو معلوم ہے جن پر یہ صورتحال ''نازل'' کی گئی ۔ حد تو یہ ہے کہ اس حوالے سے پیسکو کی جانب سے تا دم تحریر کوئی وضاحت بھی سامنے نہیں آئی ۔ تاکہ عوام کچھ تو مطمئن ہو سکیں۔ ہم متعلقہ حکام سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں اور نہ صرف اس طویل بریک ڈائون کے بارے میں وضاحتی بیان جاری کریں بلکہ آئندہ اس طرح کے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کو روکنے کیلئے بھی اقدام اٹھائیں ۔ خاص طور پر جبکہ گزشتہ رات موسمی صورتحال بھی ایسی نہیں تھی کہ کسی گرڈ سٹیشن کے ٹر پ کرنے کی نوبت آتی ۔ اس کے باوجود گل بہار اور ملحقہ علاقوں کے لوگوں کو اتنے طویل بریک ڈائون کا سامنا کرنے پر مجبور کرنے کا آخر کیا جواز بنتا ہے ؟ اس صورتحال کی وضاحت پیسکو حکام پر لازم آتی ہے تاکہ عوام مطمئن ہو سکیں ۔

متعلقہ خبریں