پاک افغان تعلقات۔۔چند قابل توجہ معاملات

پاک افغان تعلقات۔۔چند قابل توجہ معاملات

پاک افغان تعلقات کی سرد مہری جب بھی میڈیا کا موضوع بنتی ہے یار لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگتے ہیں۔ ایک طبقے کا من پسند راگ یہ ہے ''افغانوں سے بڑا محسن کش کوئی نہیں'' دوسرا طبقہ بھارت نوازی کا راگ الاپنے لگتا ہے۔ فقیر راحموں کہتے ہیں '' فکری ارتقا کا سفر رک جائے تو من گھڑت روایات کی تال پر جاری خونی رقص تیز ہو جاتا ہے'' کچھ کڑواہٹ ہے فقیر کی بات میں مگر سچائی سے آنکھیں چرانا ممکن نہیں۔ ذاتی طور پر ہمیشہ یہ عرض کرتا رہتا ہوں کہ ممالک کے درمیان تعلقات باہمی مفادات پر استوار ہوتے ہیں مذہب ' زبان اور جغرافیائی اہمیت پر نہیں۔ مذہب اگر بالا تر تعلقات کی ضمانت ہوتا تو بلاد عرب میں جاری فسادات کے سوتے کبھی نہ پھوٹتے۔ قومیت اور جغرافیہ کا معاملہ بھی یہی ہے۔ عرب ممالک ایک دوسرے کے ساتھ ہی نہیں جڑے ہوئے بلکہ اپنی قدیم عرب شناخت پر بھی نازاں رہتے ہیں۔ اس کے باوجود شام سے یمن اور عراق سے لیبیا تک جو ہو رہا ہے وہ ہمارے عصر کا خونی باب ہے۔ آنے والے زمانوں میں تاریخ دان اسے کس انداز میں دیکھیں اور رائے دیں یہ قابل فہم ہے۔ مگر آج کا سوال یہ ہے کہ برادر کشی کے اس کھیل میں ضائع ہوئی جانیں اور بار ود ہوا سرمایہ دونوں کو بچایا جاسکتا تھا مگر حق حکمرانی کے زعم کے مارے ہوئوں کو کون سمجھائے۔ ہم بہت آسانی کے ساتھ اسلامی دنیا کے معاملات کی ابتری کا ملبہ عالمی سازشوں پر ڈال کر پتلی گلی سے نکل لیتے ہیں۔ کاش کبھی اس امر پر غور کرنے کی ضرورت بھی محسوس کرتے کہ عالمی سازش کو مہرے کہاں سے ملتے ہیں۔ وسائل اور میدان کون فراہم کرتا ہے؟ بات کچھ دور نکل گئی ہم اپنے موضوع کی طرف پلٹتے ہیں۔ پاک افغان تعلقات بر صغیر کی تقسیم کے وقت سے کبھی مثالی نہیں رہے۔ وجوہات ایک نہیں درجنوں ہیں سادہ اور آسانی سے سمجھ میں آنے والی وجہ ڈیورنڈ لائن ہے۔ بر صغیر کی 1947ء والی تقسیم سے قبل کی تاریخ کے مختلف ادوار میں اس پورے خطے کا جغرافیہ ٹوٹتا بنتا سنورتا رہا۔ جغرافیہ تبدیل ہوتاہے تین وجوہات پر۔ اولاً حملہ آوروں کی فتوحات' ثانیاً حکمرانوں کے غیر عادلانہ نظام سے پھوٹی بغاوتوں اور ثالثاً تاریخ کے مل سے۔ جنوبی ایشیاء نے پچھلے ہزار برس میں تینوں ادوار دیکھے۔

ہمیں بہت زیادہ اوراق الٹنے کی ضرورت نہیں۔ 1947ء میں بر صغیر کی تقسیم کے نتیجے میں پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس وقت کے افغان حکمران شاکی تھے کہ ان سے ڈیورنڈ لائن کے متنازعہ معاملات طے کئے بغیر ان پشتون علاقوں کو پاکستان میں شامل کیا گیا جن پر تاریخی' نسلی' لسانی اور جغرافیائی طور پر ان کا حق تھا۔ تاریخ اور جغرافیہ اپنا راستہ خود بناتے ہیں کے اصول کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔ اختلافات کم زیادہ ہوتے رہے۔ درمیان میں انہیں طے کرنے کی کوششیں بھی ہوئیں لیکن پھر 1979ء کا انقلاب ثور '' سرخ انقلاب'' برپا ہوگیا۔ اس انقلاب کو امریکی سامراج اور اس کے لے پالکوں نے سوویت یونین کے توسیع پسندانہ عزائم کا بیانیا قرار دیتے ہوئے اس کے قدم افغانستان میں روکنے کی حکمت عملی اپنائی ۔ اسلامی دنیا اور پاکستان( چند مسلم ممالک کے سوا) امریکہ کے ساتھ کھڑے ہوئے انقلاب مخالف افغان مذہبی طبقات پر دست شفقت رکھا گیا نتیجہ اس جہاد کی صورت میں برپا ہوا جو طرفین کو جنیوا میں معاہدے کی میز پر لے آیا۔ جہاد کے برسوں میں افغان عوام پر کیا گزری اور جہاد سازوں نے کتنا مال کمایا یہ ایک الگ داستان ہے۔ دفتر کے دفتر لکھے جا چکے اس کے حق اور مخالفت میں مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ جنیوا معاہدہ سے انحراف کرنے والوں نے افغانستان کے اندر خانہ جنگی برپا کروادی۔ طالبان کے اقتدار کو 9/11 نے نگلا اور 9/11 کے بعد سے اب تک کے افغانستان بارود پھٹنے' لاشیں گرنے ' گھر ہی نہیں بستیاں برباد ہونے کے سوا کیا ہوا۔ افغانوں کی ایک نہیں دو نسلیں آج کی نوجوان نسل اور ان کی بزرگ نسل شاکی ہے کہ افغان انقلاب ثور سے آج تک ان کا وطن جن عذابوں سے دو چار ہے پاکستان اس کا ذمہ دار ہے۔ بحث یہ نہیں کہ یہ موقف درست ہے یا فقط تعصب کا نتیجہ اصل سوال یہ ے کہ کیا اس سوچ کو بدلنے کے لئے ہمارے یہاں سے کبھی کوئی سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات ہوئے؟ یہی وہ نکتہ ہے جو یہ عرض کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہمارے یہاں جو لوگ بات بات پر افغانوں کو احسان فراموشی کا طعنہ دیتے نہیں تھکتے انہوں نے کبھی اپنے قومی مفادات کے گریبان میں جھانکنے کی زحمت کی ہے؟ سادہ سا جواب یہ ہے جی نہیں۔ وجہ یہ ے کہ پچھلے 38 برسوں سے کتنی بار افغان پالیسی پاکستان کے منتخب اداروں میں زیر بحث لائی گئی اور منتخب نمائندوں نے اسے شرف قبولیت بخشی؟ ایک بار بھی نہیں۔ اس سے آگے کی کڑوی بات یہ ہے کہ خارجہ پالیسی وضع کرنے کا اختیار منتخب اداروں کو جولائی 1977ء کے بعد سے آج تک نہیں ملا۔ سو جب عوام کے منتخب نمائندے خارجہ پالیسی کی الف ب پر بات کرنے اور فیصلہ سازی کا اختیار ہی نہیں رکھتے تو اصلاح احوال کیسے ہو۔ اس پر ستم یہ ہے کہ اپنی خامیوں اور خواہشوں کی پردہ پوشی بھارت نوازی کے راگ سے کی جاتی ہے۔ دوسری طرف افغان عوام میں پاکستان کے لئے تحفظات بڑھتے جا رہے ہیں۔ کہیں کہیں ان تحفظات کو نفرت اور تعصب کی غذا بھی ملتی ہے۔ اندریں حالات عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے یہاں کے منتخب ادارے جیسے بھی ہیں انہیں ہوش کے ناخن لینا ہوں گے۔ افغان عوام کی شکایات دور کرنے کی ضرورت ہے اس سے یہ توقع نہیں کی جانی چاہئے کہ وہ بھوٹان بن کر رہے یا نیپال بن کر دو طرفہ تعلقات میں بہتری اور اعتماد سازی کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔ اس لئے براہ کرم تقدیس کے گھوڑے سے اترئیے اور زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر فیصلے کیجئے۔

متعلقہ خبریں