مزدور کے حالات کب بدلیں گے

مزدور کے حالات کب بدلیں گے

وفا قی وزیر خزانہ اپنی حکومت کی کامیابیوں اور کامرانیوں کی طرف اشارہ کر تے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ کی حکومت نے مزدور کی تنخواہ 13ہزار سے بڑھا کر 15 ہزار کر دی۔ سمجھ نہیں آتی کہ وزیر خزانہ کس دنیا میں رہتے ہیں۔ ہمارے ملک میں خاندان کا مطلب 6افراد کا کنبہ ہوتا ہے۔ ایک مزدور اکیلے نہیں بلکہ 6افراد کو پال رہا ہوتا ہے ۔ مُجھے وزیر مو صوف بتا ئیں، کیا 15ہزار میں 6 لوگوں کا گزارہ ہو سکتا ہے۔ میں وزیر موصوف کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ کسی بھی ریاست کی یہ ذمہ داری ہو تی ہے کہ وہ اپنی رعایا کو روزگار، تعلیم اور صحت کی سہو لیات دے۔مگر بد قسمتی سے کوئی چیز خواہ تعلیم ہو یا صحت یا زندگی کی دوسری ضروریات میں وزیر خزانہ کے نو ٹس میں لانا چا ہتا ہوں کہ پاکستان میں90 فی صد آجر مزدور کو 5 اور 6 ہزار سے زیادہ نہیں دیتے۔ پاکستان میں پرائیویٹ سیکو رٹی والے ، پرائیویٹ سکول اور دوسرے نجی ادارے اپنے مزدوروں کو 15ہزار بھی نہیں دیتے بلکہ انکو بمشکل 5 یا 6 ہزار روپے دیتے ہیں۔یہ بات بھی میری سمجھ اور فہم سے بالاتر ہے کہ وزیر خزانہ کو مزدور کے ہاتھ میں پندرہ ہزار روپے نظر آتے ہیں مگران کواپنے ایم این اے، ایم پی ایز ، وزرائے کرام اور ایڈوائزروں ، پریذیڈنٹ ہائوس اور وزیر اعظم ہائوس کی بڑی بڑی تنخواہیں، مراعات نظر نہیں آتیں۔آج کل تو ایک غریب سے غریب تر کا بھی بجلی بل 4یا 5ہزار سے کم نہیں۔ دال اور لو بیا جو غریب کا کھانا تصور کیا جاتا تھا وہ بھی 200 روپے کلو ہے۔با قی سکول کالج کی فیسیں دوائیوں اور کھانے پینے کا خرچہ اسکے علاوہ ہے۔ میں وفاقی وزیر خزانہ سے استد عا کرتا ہوں کہ 15 ہزار میں ایک خاندان کا بجٹ تو ذرا بنائیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت قومی اسمبلی کے ممبران کی تعداد 342، سینیٹ کے ممبران کی تعداد 104،پنجاب اسمبلی کے ممبران کی تعداد 350، خیبر پختون خوا کی صوبائی اسمبلی کے ممبران کی تعداد248، سندھ کی 206، بلو چستان کی صوبائی اسمبلی کے ممبران کی تعداد 65ہے۔ اگر وفاقی اور صوبائی سطح پر وزرائے کرام کی تعداد دیکھیں تو اس وقت وفاقی سطح پر وفاقی وزرائے کرام، سٹیٹ منسٹر ، مشیران اور پارلیمانی سیکریٹریز کی تعداد 42، سندھ میں وزرائے کرام کی تعداد 41، خیبر پختونخوا میں وزرائے کرام اور مشیروں کی تعداد 19، پنجاب میں وزرائے کرام کی تعداد25 اور بلوچستان میں وزرائے کرام اور مشیروں کی تعداد 16 ہے ۔عمران خان اور دیگر سیاسی لیڈران کے مطابق وزیر اعظم سیکرٹیریٹ کا روزانہ خرچ ٣٥لاکھ روپے اور باہر ملکوں کے دورے پر جانے کے لئے دن کا خرچہ 47لاکھ روپے ہے جبکہ صدر سیکریٹریٹ 21 لاکھ روپے اور بیرون ممالک دوروں پر جانے کا ایک دن کا خرچہ 7 لاکھ 40 ہزار روپے ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں ٹیکس بھی غریب دیتے ہیں اور اس وقت1.7 ملین میں 1.6 ٹیکس دینے والے غریب لوگ اور زیادہ تر سرکاری ملازمین ہیں۔ایک محتا ط اندازے کے مطابق ایک صوبائی اور وفاقی وزیر کا ماہانہ خر چہ ایک کروڑ سے دو کروڑ روپے ہے۔اسکے علاوہ سینٹ اور قومی اسمبلی کی تقریباً 75 قائمہ کمیٹیاں اور ایوان بالا اور ایوان زیریں کے ممبران کی تعداد 442 ہے، جن میں چاروں صوبائی اسمبلی اور گلگت بلتستان کے ممبران اسکے علاوہ ہیں۔اکائونٹس اور آڈٹ کے ایک اعلیٰ اہل کا ر کے مطابق سینٹ اور قومی اسمبلی کے ایک ممبر کا ماہانہ خر چہ 4 سے 5لاکھ ہے ، جبکہ سینٹ ، قومی اور چاروں صوبائی اسمبلی کے ممبران کی تنخواہ جو ماہا نہ کروڑوں میں بنتی ہے اس کے علاوہ ہے۔علاوہ ازیں حکومتی سطح پر کچھ ایسے عہدے ہیں۔اسکے علاوہ سابقہ اور موجودہ حکومت نے کچھ خا ص اور منظور نظر سرکاری ملا زمین کو خو ش کر نے ا ور لا لچ دینے کے لئے ایم پی ون ، ایم پی ٹو اور ایم پی تھری سکیل دیئے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایم پی ون سکیل کی تنخواہ ساڑھے چار لا کھ سے 7 لاکھ تک، جبکہ ایم پی ٹو سکیل کی تنخواہ 3 سے 4لاکھ روپے اور ایم پی تھری سکیل کی تنخواہ ایک سے دو لاکھ ہے۔اگر ہم 25 ترقی یا فتہ ممالک کے وزیروں کی تعداد اور انکے وسائل کا موازنہ کریں تو وہ پا کستان کے بالکل بر عکس ہے۔دنیا کے 25 ترقی یا فتہ ممالک کی فی کس آمدنی 30 ہزار ڈالرہے جبکہ ان ممالک کے اوسط وزیروں کی تعداد 17 ہیں۔امریکہ ، کینیڈا اور سویڈن کی فی کس خالص قومی پیداوار بالترتیب 50 ہزار ڈالر، 56 ہزار ڈالر اور 37 ہزار ڈالر ہے ، جب کہ ان ممالک کے وزیروں کی تعداد 21، 28 اور 13 ہے۔اسی طر ح اسلامی ممالک جن میں سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں ان ممالک کی فی کس خا لص قومی پیداوار با لترتیب 17 ہزار ڈالر، 56 ہزار ڈالر اور 57 ہزار ڈا لر ہے ،جبکہ ان اسلامی برادر ممالک کی کابینہ کی تعداد بالترتیب 22، 12 اور 18 ہے۔اسکے علاوہ فرا نس ، آسڑیلیا، سنگا پور اور جر منی کی فی کس خا لص پیداوار 60 ہزار ڈالر، 37 ہزار ڈالر 49 ہزار ڈالراور 33 ہزارڈالر ہے، جبکہ ان کے وزیروں کی تعداد بالترتیب 19، 26،19اور 14 ہے۔یہ بھی ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمارے اوپر ایسے حاکم مسلط ہیں جن کواپنے مفادات کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ ہمارے غریب عوام حکمرانوں کی شاہ خر شیوں، لو ٹ کھسوٹ ، کرپشن اور بد عنوانیوں کے مزید مُتحمل نہیں ہو سکتے۔اس ملک کے غریب عوام کب تک غریب رہیں گے؟۔ اس دھرتی کے جوان کب تک بے رو زگار رہیں گے؟ آخر لوگ کب تک غُربت اور افلاس کی وجہ سے خود کشیوں پر مجبور ہونگے؟۔

متعلقہ خبریں