جیل یا قانون کی حکمرانی کی گمنام قبر؟

جیل یا قانون کی حکمرانی کی گمنام قبر؟

کراچی سینٹرل جیل میں بھٹائی رینجرز کے آپریشن کے دوران قیدیوں سے حیرت زدہ کردینے والا تعیشات کا ایک وسیع ذخیرہ برآمد ہوا ہے ۔جیل میں گھنٹوں کے آپریشن کے بعد رینجرز نے چھ ہزار قیدیوں کی جامہ تلاشی کے ساتھ ساتھ کمروں اور کونے کھدروں کو چھان مارا۔اس دوران 449ٹی وی اور ایل سی ڈیز 18ڈیپ فریزر،150گیس سلنڈر31واٹر ڈ سپنسر ز ،102قیمتی موبائل،موبائل جیمرز کو ناکام بنانے والے آلات،ڈی وی ڈی پلیئرز، سپیکر، سگریٹ کے چار سو پیکٹ اور انتظامیہ کے کچن کے علاوہ مخصوص افراد کے دس اضافی کچن بھی دریافت ہوئے۔مسجد کی کتابیں موبائل فون اور منشیات چھپانے کے لئے استعمال کی جاتی رہیں۔سینٹرل جیل سے برآمد ہونے والے اس سامان کی جو تصویر جاری کی گئی اس پر کسی بڑے کاروباری مرکز کا گمان ہوتا ہے ۔اسے سینٹرل جیل کراچی میں 1990ئکے بعد پہلا بڑا آپریشن کہا گیا گویاکہ ستائیس سال سے جیل کی دیواروں کے پیچھے کیا کھیل چلتا رہا کسی کو اس سے غرض تھی نہ اس کو ختم کرنے میں دلچسپی۔کراچی کی اس جیل میں لیاری گینگ وار سمیت مختلف سیاسی اور لسانی اور فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث قیدی ہیں اور ان میں اکثریت کا بارسوخ ہونا یقینی ہے کیونکہ یہ جرم کی کسی انفردی دنیا کے باسی نہیں جو بھول بھٹک کر ادھر آنکلے ہوں ۔یہ منظم گروہوں کے کارندے ہیں جن کی اجازت کے بغیر اپنے علاقوں میں کبھی چڑیا پر نہیں ما رسکتی تھی ۔جیل کی زندگی کسی جرم کی سزا کا نام اور کسی برے کام کا انجام ہوتی ہے ۔ایک عام شخص کے لئے آزادی بھری زندگی تج کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانے کا تصور ہی سوہان ِروح ہوتا ہے ۔جیل کی مشقت،تنہائی ،سردی اور گرمی ،دنیا ومافیہا سے بے گانہ ہوجانے کا احسا س ہی ایک عام آدمی کو قانون پسند بنانے اور اسے قانون شکنی سے باز رکھنے میں ممد ومعاون ثابت ہوتا ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ جو سیاست دان جیل جا کر کند ن بنتے تھے اور لوگ ان کی جدوجہد کے آگے احتراماََ سر جھکاتے تھے ان کا تعلق جیل کی انہی سختیوں اور کھٹنا ئیوں سے ہوتا تھا ۔عمومی طور پر لوگ یہ سمجھتے تھے کہ قیادت نے جیل کی سختیوں ،تنہائیوں کو صرف عوام کی محبت اور حقوق کے لئے ہی گلے لگایا ۔انگریز کے دور میں کالا پانی جیل کی سزا کسی سیاست دان کے لئے اعزاز سے کم نہیں ہوتی تھی اب لگتا ہے کہ پاکستان کی حدتک جیل کا تصور یکسر تبدیل ہو گیا ہے ۔عام آدمی اور بے وسیلہ مجرم کے لئے نہ سہی مگر کرپشن کے الزام میں دھرلئے جانے والے سیاسی قیدیوںفرقہ وارانہ اور لسانی کشمکش میں جیل کی دہلیز پار کرنے والوں کے لئے جیل سہولتوں کے لحاظ سے دوسرا گھر بن کر رہ گیا ہے ۔کراچی جیل اس دیگ کا ایک دانہ تھی ۔وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ ملک بھر کی جیلیں کم یازیادہ مگر یہ منظر پیش کر رہی ہوں گی کیونکہ صرف کراچی ہی قانون کی حکمرانی سے محروم نہیں بلکہ ملک بھر میں قانون کی حکمرانی کا تصور معدو م کر نہیں تو کمزور ضرور ہو چکا ہے ۔پچھلی چند دہائیوں سے پاکستان منظم انارکی کی طرف بڑھتا جا رہا ہے ۔ملک کا کوئی سیاسی یا عسکری ادارہ اسے اونر شپ دینے کو تیا رنہیں تھا جس کی وجہ سے پاکستان کے ادارے زوال پذیر ہوتے جا رہے تھے ۔قانون اور ریاست کی طاقت محض مذاق بن کر رہ گئی تھی ۔چونکہ پورا ملک اس کیفیت کا شکار تھا اس لئے یہ مناظر جابجا موجودہونا لازمی ہیں۔جس قیدی کو دنیا سے منسلک اور اہل خانہ سے جڑے رہنے کے لئے ٹی وی اور موبائل اور انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہوگی ۔پسند کا کھانا کھانے کے لئے ڈیپ فریزر اور گیس سلنڈروں سے مزین وی آئی پی کچن میسر ہوگا اور من بھاتا پکانے اور منگوانے کے لئے بے حساب پیسہ دستیاب ہو گا ،نشے کی لت پوری کرنے کے لئے منشیات اور سگریٹ کی سہولت میسر ہو گی اسے چھوٹی جیل سے بڑی جیل میں آنے میں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے ؟۔اس کے لئے تو جیل تمام جرائم کے انعام سے کم نہیں ۔کراچی ،کی ایک جیل سے سامان تعیشات برآمد نہیں ہوا بلکہ یہ اس ملک میں قانون کی حکمرانی کی ایک اور گمنام قبر دریافت ہوئی ہے۔ چوبیس گھنٹے قانون اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناک کے نیچے رہنے والے ایک چھوٹے سے ادارے کا حال یہ ہے کہ جہاں قدم قدم پر قانون کا مذاق اُڑانے کا سامان ہورہا ہے تو باقی اداروں کا حال کیا ہوگا ؟اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔کراچی جیل کے سب قیدی شاید ان سہولیات سے یکساں مستفید نہیں ہورہے ہوں گے ۔ قسمت کی یہ مہربانی صرف بااثر اور مضبوط سیاسی اور سماجی پس منظر والے قیدیوں کے لئے مختص رہی ہوگی ۔کیونکہ ملک میں بہت سی جیلوں میں قیدیوں کے خراب حالات کی رپورٹیں بھی سامنے آتی ہیں ۔یہ شاید بے وسیلہ اور عام قیدیوں پر مشتمل جیلیں اور بیرکیں ہوتی ہیں ۔یوں لگتا ہے ملک میں جاری طبقاتی نظام اب جیلوں کے اندر تک اپنی راہ پا چکا ہے ۔جہاں ایک طبقے کے قیدی کو گھر سے اچھا ماحول اور سہولیات دستیاب ہوتی ہیں اور لامحالہ ایک طبقہ کا مقدر پانی والی دال ،مچھر کھٹمل اور جسمانی مشقت ہوگی ۔جس معاشرے میں کراچی جیل کی طرح آئے روز قانون کی حکمرانی اور بالادستی کی گمنام قبریں یوں برآمد ہورہی ہوں اس معاشرے کا اللہ ہی حافظ ہے۔پاکستان کے قیام کو معجزہ کہا جاتا ہے مگر قانون اور ریاست کی اس عملداری کے ساتھ پاکستان کا برسوں سے چلتے چلے جانا اس سے بھی بڑا معجزہ ہے۔اس طرز عمل کو جلد یا بدیر بدلنا ہوگا نہ بدلنے والوں کواشہبِ زمانہ روند کر نکل جاتاہے۔

متعلقہ خبریں