جے آئی ٹی اور 2018ء کے انتخابات

جے آئی ٹی اور 2018ء کے انتخابات

پانامہ پیپر کی جے آئی ٹی کے سامنے تین گھنٹے کی پیشی کے بعد وزیرِ اعظم نوازشریف کی جانب سے پریس کو دیا جانے والا بیان دراصل مسلم لیگ (ن) کے ووٹروں کے لئے دیاگیا تھا۔ اس بیان کا مقصد مسلم لیگ۔ن کے ووٹروں کے علاوہ کسی اور کو پیغام دینا نہیں تھا کیونکہ ایسے بیان سے کسی اور کا ذہن تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اس بیان کا مقصد اپنی جماعت کو قانون کا احترام کرنے والی جماعت کے طور پر بھی پیش کرنا تھا۔ اس پیغام کا مقصد اپنے حمایتوں کویقین دہانی کروانا تھا کہ ہم اس سارے عمل سے سرخرو ہوکر نکلیں گے کیونکہ ایسی رپورٹس سامنے آرہی تھیں کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے کچھ کارکن اس ساری کارروائی کی وجہ سے اپنی جماعت سے بدظن نظر آرہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیرِ اعظم نواز شریف بار بار اگلے عام انتخابات کو اصل جے آئی ٹی کہتے رہے۔ جے آئی ٹی کی حالیہ کارروائی سے اس بات کا اندازہ لگانا ناممکن ہے کہ یہ کارروائی اگلے عام انتخابات پر کس طرح اثر انداز ہوگی۔ اگر پاکستان مسلم لیگ کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایک مبہم سا فیصلہ ہی اگلے انتخابات کے لئے سود مند ہوگا۔ دوسری طرف پاکستان تحریکِ انصاف کے لئے جے آئی ٹی کی تفتیش اور پانامہ پیپرز سکینڈل نظریاتی جنگ کے ساتھ ساتھ اپنی جماعت کو انتخابات کی دوڑ میں شامل رکھنے کا محرک بھی ہیں۔ اگر پانامہ پیپرز کا سکینڈل سامنے نہ آتا تو دھرنے کے بعد سامنے آنے والے سیاسی منظر نامے کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) 2023ء کے انتخابات تک اقتدار میںرہے گی اور کوئی دوسری جماعت اس کا مقابلہ نہیں کرسکے گی۔ اس سکینڈل نے ملکی سیاست میں ایک توازن کی فضا پید اکی ہے جو جمہوریت کی بقاء کے لئے بھی انتہائی اہم ہے۔اگرچہ مثالی جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کو ان کے سکینڈلوں کی بجائے ان کے منشوروں کی بناء پر پرکھا جاتا ہے لیکن پاکستان کی جمہوریت کو کسی بھی حوالے سے مثالی نہیں کہا جاسکتا۔جیسا کہ انتخابات میں دھاندلی کے خلاف ہونے والے دھرنوں میں ووٹروں کی رائے کو موجودہ حکومت کے خلاف کرنے کی کوشش کی گئی تھی اسی طرح آج بھی جے آئی ٹی کی تفتیش کو حکمران جماعت کے ووٹ توڑنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ موجودہ حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں اور خاص طور پر پاکستان تحریکِ انصاف کی جدوجہد کی بات کی جائے تو اگلے انتخابات جیتنے کا راستہ کسی بھی طرح آسان نہیں ہے۔ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کا راستہ پنجاب کی 148 سیٹوں سے ہو کر گزرتا ہے جن میں اکثریت حاصل کرنا پاکستان تحریکِ انصاف سمیت کسی بھی جماعت کے لئے ایک چیلنج سے کم نہیں ہے۔ 2013ء میں جب عام انتخابات کے بعد پنجاب کی سیٹوں کو دیکھا گیا تھا تو پاکستان تحریکِ انصاف نے پنجاب میں صرف 8 سیٹیں حاصل کی تھیں جب کہ پاکستان مسلم لیگ 117 سیٹوں کے ساتھ کلین سویپ کرچکی تھی۔ ن لیگ کی جیت کے بعد ان 117 سیٹوں میں 15 آزاد امیدوار بھی شامل ہو گئے تھے۔ اگر سیاسی زبان میں بات کی جائے تو یہ ایک اتنی بڑی خلیج ہے جو کسی نارمل جمہوریت میں کم سے کم دو عام انتخابات کے بعد پاٹی جاسکتی ہے ۔ یہاں پر یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ2015ء میں پنجاب میں ہونے والے لوکل گورنمنٹ انتخابات میں بھی مذکورہ خلیج کی وسعت میں کمی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔2013ء میں پاکستان مسلم لیگ( ن) نے پنجاب میں نہ صرف اپنی سیٹیں جیتیں بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی تما م سیٹیں بھی جیت لیں ۔ اگر اگلے انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف (ن )لیگ سے پی پی پی کی سیٹیں چھین کر پنجاب سے 42 سیٹیں لے جاتی ہے اور دوسرے صوبوں میں موجودہ صورتحال کے مطابق اپنی سیٹوں کی تعداد برقرار رکھنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تب بھی وہ نیشنل اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے گی۔ اگر نیشنل اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے کے دیگر طریقوں کو دیکھا جائے تو وہ بھی پیچیدہ اور دشوار گزار ہیں ۔ سندھ اور کراچی میں پاکستان تحریکِ انصاف پچھلے انتخابات کے مقابلے میں زیادہ سیٹیں لینے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔2013ء میں سندھ اور کراچی میں جیتنے والے امیدواروں کے ووٹوں کی شرح 44 فیصد سے کم ہو کر 30 فیصد رہ گئی تھی جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان علاقوں میں بھی پاکستان تحریکِ انصاف کو جیتنے کے لئے سخت محنت کرنی ہوگی۔ کوئی بھی طریقہ کار یا زاویہ ایسا نہیں ہے جو موجودہ حکمران جماعت کو اگلے انتخابات میں شکست سے دوچار کرتا ہو۔ صرف وزیرِ اعظم کی نااہلی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں تبدیلی ہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے حکمران جماعت میں پھوٹ پڑ سکتی ہے جس کا فائدہ پی ٹی آئی کو ہوگا۔ پاکستان میں صاحبِ اقتدار حلقوں کی جانب سے انتخابات کو جمہوریت اور احتساب کا پیمانہ قرار دینے کی کوششیں ہمیشہ سے کی جاتی رہی ہیں لیکن ہمیں یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ جمہوریت کی بقاء اور ترقی کے لئے انتخابات سے زیادہ عدلیہ کے ذریعے ہونے والا احتساب ضروری ہے۔ 

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں