رکھے ہیں مقتلوں میں جنازے سجے ہوئے

رکھے ہیں مقتلوں میں جنازے سجے ہوئے

غروروتکبر اللہ کو بہت نا پسند ہے ، چیمپئنز ٹرافی کے ابتدائی مقابلوں میں پاکستان بھار ت کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوا تو بھارتیوں کے اندر تفاخر کا ایک سمندر جیسے موجزن ہوگیا تھا ، اور صرف بھارتیوں پر کیا موقوف ، دنیا بھر کے کرکٹ حلقوں کے اند ر پاکستان کی ناقص کار کردگی پر انگلیاں اٹھ رہی تھیں اور کسی کو بھی اگلے میچوں میں پاکستان سے کسی اچھی کارکردگی کی توقع نہیں تھی مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت اپنی ہوتی ہے۔ آنے والے میچوں میں پاکستان ایک بار پھر ابھرتا محسوس ہوا ، یہاں تک کہ بارشوں نے بھی بعض میچوں پر اثر ڈالا اور ہار جیت کا فیصلہ کم اوورز کے فارمولے پر ہونے لگا ۔ یہاں تک کہ پاکستان فائنل میں پہنچ گیا ، جبکہ دوسری جانب بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین سیمی فائنل کا مقابلہ بھی بھارت نے جیت کر فائنل میں ایک با ر پھر پاکستان کا سامنا کرنے کی راہ دکھائی اور بھار پاکستان کا مذاق اڑانے کے خبط میں مبتلا ہوگیا ، کیا کھلاڑی ، کیا بھارتی عوام اور کیا بھارتی میڈیا یہاں تک کہ بھارتی فنکاروں نے بھی پاکستان کو طعنے دینے شروع کر دیئے تھے ، رشی کپور جیسے چوٹی کے اداکار سے لیکر ایک بھانڈ نما مزاحیہ فنکار راجو شری واسو تک کی زبانیں آگ اگل رہی تھیں ۔ پاکستان اور بھارت کے مختلف ٹی وی چینلز پر دونوں ملکوں کے سابقہ کرکٹ کھلاڑیوں اور تبصرہ نگاروں کے درمیان مشترکہ مکا لماتی پروگراموں میں بعض تلخ جملو ں کا تبادلہ بھی ہوا جن کی وجہ سے کھیل کے میدان میں سپورٹس مین سپرٹ کی جگہ نفرتوں کی آگ بھڑکتی دکھائی دی ، اور باپ بیٹے کے جملوں کے تبادلے نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ۔ مگر وہ جو کہا ہے کسی نے کہ تدبیر کند بندہ ، تقدیر زندخند ہ ، بھارت کو ایک عظیم الشان بلکہ عبرت ناک شکست سے دوچار ہو کر اپنے تکبر و غرور کو خاک چاٹتے ہوئے دنیا نے یوں دیکھا کہ پاکستان کو تو ایک طرف چھوڑیئے ، لندن میں غیر ملکیوں نے بھی پاکستان کی عظیم الشان فتح کا جشن منایا ، اس صورتحال پر یہ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے
شکست وفتح نصیبوں سے ہے ولے اے میر
مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا
اس لئے کہ یہاں بات نصیب کی نہیں تھی بلکہ بھارتی کھلاڑیوں سے لیکر پوری قوم کی ذلت آمیز شکست کا باعث ان کا عمومی تکبر تھا جو وہ خاص طور پر پاکستان کے حوالے سے اپنائے ہوئے ہے اس لئے وہی لوگ جنہوں نے باپ اور بیٹے کا فلسفہ ایجاد کیا ، اپنی عبرت ناک شکست کے بعد اپنے رویئے پر نہ صرف معافی مانگ رہے ہیں بلکہ بھارت کے طول و عرض میںجو صف ماتم بچھی ہے وہ خصوصاً دیدنی ہے ، حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ بھارت جس نے چند سال پہلے لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر دہشت گردانہ حملے (جس کے ڈانڈے بعد میں بھارت ہی سے جڑتے دکھائی دیئے )کے بعد پاکستان کے خلا ف زہر یلا پروپیگنڈہ کر کے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی راہیں کھوٹی کرنے میں بہت حد تک کامیابی حاصل کی ہے اور اسی کارن نہ تو خود پاکستان کے ساتھ معاہدے کے باوجود میچوں کی سیریز کھیلنے آتا ہے نہ ہی بھارت میں پاکستانی ٹیم کو آنے دیتا ہے ، یہاں تک کہ دوبئی ، شارجہ یا کسی بھی تیسرے ملک میں پاکستان کے ساتھ مقابلے کیلئے تیار نہیں ہے ، آئی پی ایل سے پاکستانی کھلاڑیوں کو نکال باہر کر کے پاکستان کرکٹ کو شدید نقصان سے دوچار کرچکا ہے ، بلکہ دوسرے ملکوں کو بھی اس قدر ڈرا چکا ہے کہ اب وہ بھی پاکستا ن سے کھیلنے پر آمادہ نہیں ہورہے ہیں ، اسی بھارت نے انگلینڈ میں حالیہ دنوں میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے باوجود وہاں کھیلنے سے انکار نہیں کیا ، حالانکہ خود انگلستان کی حکومت ان حملوں کو دہشت گردی سے تعبیر کر چکی ہے ۔ مگر بھارت کو پھر بھی ڈر نہیں لگا اور وہ ٹورنامنٹ سے یہ کہہ کر باہر نہیں گیا کہ انگلستان کی سرزمین کھلاڑیوں کیلئے خطرناک بن چکی ہے ۔ اب دنیا کو بھارت کے اس دوغلے رویئے کا نوٹس لیکر پاکستان کے کرکٹ میدانوں کو آباد کرنے پر ضرور غور کرنا چاہیئے کہ یہ دراصل صرف اور صرف بھارتی مذموم پرو پیگنڈہ ہے حالانکہ اس دوران باہرکی ٹیموں کے علاوہ پاکستان سپر لیگ کے فائنل میں بھی عالمی کھلاڑیوں نے شرکت کر کے بھارتی پروپیگنڈے کے بتو ں کو چکنا چور کر دیا ہے ۔ اور بھارتی اپنے زخموں کو چاٹ چاٹ کر ہلکان ہورہے ہیں ۔ بقول ساغر صدیقی
ہے اہتمام گریہ و ماتم چمن چمن
رکھے ہیں مقتلوں میں جنازے سجے ہوئے
اس صورتحال میں ہمارے ہاں بھی بعض واقعات قابل افسوس ہیں ، اور وہ بطور خاص میچ جیتنے کے باوجود بعض پاکستانیوں نے سٹیڈیم سے نکلتے ہوئے پاکستان سپر لیگ کے چیئر مین نجم سیٹھی کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا اس پر متعلقہ سیاسی جماعت ( جس کے یہ لوگ حامی قرار دیئے جارہے ہیں )کے رہنمائوں کو ضرور غور کرنا چاہیئے ۔ خصوصاً جب نہ صرف پارٹی لیڈر نے 35پنکچر والے الزام کو سیاسی بیان قرار دے کر جان چھڑالی ہے ، کہ آخر وہ کب تک اس قسم کے رویئے سے اپنے حامیوں کو منفی راستہ دکھائے گا ۔ دوسرا یہ کہ شکر ہے ہم میچ جیت گئے ہیں ورنہ مودی کی یاری کے طعنے مار مار کر وزیراعظم کے خلاف نہ جانے کتنا زہر اگلا جاتا ۔ بحیثیت قوم ہمیں سیاست اور کھیل کو الگ خانوں میں رکھنا پڑے گا یہی ایک سنجیدہ رویہ ہے اور اس جیت پر ہمیں اللہ رب العزت کا شکرگزار ہونا چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں