مشرقیات

مشرقیات

حضرت ذی الجوشن صنبابی وغیرہ حضرات فرماتے ہیں (عمرو) ابن بقیلہ کے ساتھ اس کا ایک خادم تھا جس کی پیٹی میں ایک تھیلی لٹکی ہوئی تھی۔ حضرت خالد نے وہ تھیلی لی اور اس میں جو کچھ تھاوہ اپنی ہتھیلی پر ڈالا اور عمرو سے کہا اے عمرو ! یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا اللہ کی قسم ! یہ ایسا زہر ہے جو انسان کو فوراً مار دیتا ہے۔ حضرت خالد نے کہا تم نے زہر اپنے ساتھ کیوں رکھا ہوا ہے ؟ اس نے کہا مجھے یہ خطرہ تھا کہ آپ لوگوں کو میری رائے کے خلاف فتح مل جائے گی تو میں اس سے پہلے ہی زہر کھا کر مرجائو ں گا کیونکہ یوں خود کشی کرلینا مجھے اپنی قوم اور اپنے شہر والوں کی ذلت آمیز شکست کا ذریعہ بننے سے زیادہ محبوب ہے۔ حضرت خالد نے فرمایا کوئی انسان اپنے وقت سے پہلے نہیں مر سکتا پھر حضرت خالد نے یہ دعا پڑھی ترجمہ(اللہ کا نام لے کر میں یہ زہر پیتا ہوں لفظ اللہ اس کے ناموں میں سب سے بہترین نام ہے جو زمین اور آسمان کا رب ہے اور اس کے نام کے ساتھ کوئی بیماری نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ نہایت مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے )اس پر لوگ حضرت خالد کو روکنے کے لئے آگے بڑھے لیکن حضرت خالد لوگوں کے آنے سے پہلے ہی جلدی سے وہ زہر پی گئے اور انہیں کچھ بھی نہ ہوا ۔یہ دیکھ کر عمرو نے کہا اے جماعت عرب ! جب تک تم صحابہ میں سے ایک آدمی بھی باقی رہے گا اس وقت تک تم جو چاہو گے حاصل کر لو گے۔ پھر عمرو نے حیرہ والوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا میں نے آج جیسا واضح اقبال والا دن نہیں دیکھا ۔
(حیاةالصحابہ حصہ سوم)
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں حضرت عمر بن خطاب نے ایک مرتبہ فرمایا آئو اپنی قوم کی زمین پر چلتے ہیں یعنی ذرا اپنے دیہات دیکھ لیتے ہیں چنانچہ ہم لوگ چل پڑے۔ میں اور حضرت ابی بن کعب جماعت سے کچھ پیچھے رہ گئے تھے۔ اتنے میں ایک بادل تیزی سے آیا اور برسنے لگا۔ حضرت ابی نے دعا مانگی اے اللہ ! اس بارش کی تکلیف ہم سے دور فرما دے (چنانچہ ہم بارش میں چلتے رہے لیکن ہماری کوئی چیز بارش سے نہ بھیگی )جب ہم حضرت عمر اور باقی ساتھیوں کے پاس پہنچے تو ان کے جانور اور کجا وے اور سامان وغیرہ سب کچھ بھیگاہواتھا۔ حضرت عمر نے فرمایا ہمیں تو راستہ میں بہت بارش ملی تو کیا آپ لوگوں کو نہیں ملی ؟ میں نے کہا ابو المنذر یعنی حضرت اُبی نے اللہ سے یہ دعا کی تھی کہ اس بارش کی تکلیف ہم سے دور فرمادے ۔حضرت عمر نے فرمایا تم لوگوں نے اپنے ساتھ ہمارے لئے دعا کیوں نہیں کی ؟ ۔
حضرت زید بن اسلم وغیرہ حضرات فرماتے ہیں جنگ بد رکے دن حضرت عکاشہ بن محصن کی تلوار ٹوٹ گئی تھی حضور ۖ نے ان کو درخت کی ایک ٹہنی دی جو ان کے ہاتھ میں جاتے ہی کاٹنے والی تلوار بن گئی جس کا لوہا بڑا صاف اور مضبوط تھا ۔
(حیاة الصحابہ حصہ سوم)

متعلقہ خبریں