اقوام متحدہ بھارتی مظالم رکوائے

اقوام متحدہ بھارتی مظالم رکوائے

پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی کشیدگی کے باعث جہاں دونوں طرف کی مسلح افوا ج کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے وہاں اس سے سرحد ی علاقوں میں مقیم سویلین آبادی، لوگوں کی املاک اور مال مویشیوں تک کو سخت خطرات لاحق ہیں۔ گزشتہ روز بھارتی فائرنگ سے چار بچوں کی شہادت کا واقعہ نہایت رنج دہ اور تکلیف دہ امر ہے ۔ پاکستانی حکام نے اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کو صورتحال سے آگاہ کر کے معصوم بچوں کی شہادت کے واقع کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔حکام نے بھارتی فائرنگ کے حوالے سے ٹھوس شواہد اور دستاویزات بھی اقوام متحدہ کی ٹیم کے حوالے کردی ہیں ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوج چھائونی پر حریت پسندوں کے حملے کے بعد اس اب تک جس طرح سرحدی علاقوں میں مقیم معصوم افراد پر غصہ اتا رہا ہے اس کا دور بیٹھے افراد کو اندازہ ہی نہیں ہو سکتا ۔تھوڑی دیر کیلئے اگر غور کیا جائے کہ ایک ایسے علاقے میں جہاں دشمن ملک کے فوجی وحشیانہ طور پر مختلف درجے کے اسلحہ سے اچانک کسی بھی وقت حملہ آور ہو ں یا فائرنگ کرنے لگے تو ان علاقوں کے لوگوں میں کیا کیفیت ہوسکتی ہے ۔ اس کے باوجود پاکستان کے سرحد ی علاقوں میں لوگوں کا گھبر ا کر انخلاء کی بجائے استقامت کے ساتھ ان علاقوں میں مقیم رہنما دل گردے ہی کا کام ہے جس کا ہر کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ بھارتی فوج کی اند ھا دھند فائرنگ سے علاقے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع معمول بنتا جارہا ہے گو کہ اس کا مسکت جواب ہماری طرف سے بھی دیا جارہا ہے لیکن شاید ایک خاص حد تک ہی ایسا کرنا مصلحت کا تقاضا ہے ۔اگر بھارت کو اسی کی زبان میں جواب دیا جاتا ہے تو جنگ چھڑ جانے کا خطرہ ہے اور اگر ایسانہ کیا جائے تو لا توں کے بھوت باتوں سے نہیں ماننے والا معاملہ ہے ۔بھارتی گنوں کو خاموش کرنے کے لئے بہر حال جو ابی کارروائی ہونی چاہئے اور ہو رہی ہے ۔ سرحدوں پر کشیدگی اور سرحدی حالات کو پوری طرح سے میڈیا میں نہ لا نے یا نہ آسکنے کی کئی ایک مصلحتیں اور وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ان مظالم سے متاثرہونے والے افراد خاص طور پر بچوں کو ظالمانہ طریقے سے نشانہ بنانے اور بھارتی فائرنگ سے مویشیوں اور جانوروں تک کا محفوظ نہ ہونے کے واقعات کو پوری طرح سے سامنے لانا اس لئے ضروری ہے کہ بھارتی مظالم عالمی دنیا کے سامنے آئیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں ہماری وزارت خارجہ بھی مصلحت کاشکار ہے ۔ بھارت اقوام متحدہ کے مبصرین کوکنٹرول لائن کا دورہ کرنے اور حالات کا جائزہ لینے کا مو قع ہی نہیں دیتا اور مقبوضہ کشمیر میں عالمی مبصر کی ٹیم کو جانے کی اجاز ت ہی نہیں دی جارہی ہے تاکہ بھارتی مظالم دنیا کے سامنے نہ آسکیں ۔شاید یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ میں بھارتی مظالم اور ظلم و زیادتیوں کے خلاف کوئی مئو ثر آواز نہیں اٹھتی۔ اس امر کے لئے ضروری ہے کہ بھارتی مظالم کی حقیقی صورتحال کو دنیا کے سامنے لانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا جائے اور دفتر خارجہ روایتی طریقوں سے ہٹ کر مئو ثر اور صریح انداز میں بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے رکھے۔ ملکی سیاسی جماعتوں اور رائے عامہ سے متعلق اداروں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں آواز اٹھائیں اور مقبوضہ کشمیر سمیت کنٹرول لائن پر بھارتی فائرنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال کا اقوام متحدہ کو نوٹس لینے پرزور دیں ۔ بھارت شاید یہ بھول رہا ہے کہ دو طرفہ جنگ کتنی ہولناک ہوگی اور اس کے خطے پر اثر ات کیا ہوں گے سادہ الفاظ میں یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ کنٹرول لائن پر کشیدگی کی آگ سے خدا نخواستہ پورا خطہ بھسم ہو سکتا ہے مگر مشکل یہ ہے کہ بھارت کو اس کا احساس نہیں ۔ خطہ کشمیر دنیا میں پہلے فلیش پوائنٹ بن چکا ہے اور دنیا کو ہر وقت یہ دھڑ کا لگا رہتا ہے کہ خدا نخواستہ جنگ کی آگ بھڑکے تو دونوں قوموں کے درمیان صرف روایتی جنگ نہیں ہو گی بلکہ اس کے غیر روایتی جنگ میں بدلنے میں دیر نہیں لگے گی جس کے نتیجے میں سارا خطہ تباہ کاریوں کی لپیٹ میں آجائے گا ۔ ایسا لگتاہے کہ بھارتی وزیر اعظم مودی نے عملی طور پر تو خطے کو را کھ کا ڈھیر بنانے کا تہہ کر رکھا ہے لیکن دکھاوے کیلئے اپنی تقریر وں میں عوام کی فلاح وبہود کی بات کرتے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم مودی کو منہ میں رام رام بغل میں چھری کی پالیسی ترک کر کے خطے کو جنگ کی لپیٹ میںدھکیلنے کا باعث بننے والے اقدامات سے گریز کرنا چاہیئے ۔ اقوام متحدہ کی مبصر ٹیم کی ذمہ داری ہے کہ پاکستان نے جو شواہد دیئے ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں پلیٹ گن کے استعمال کے جو مظالم سامنے آئے ہیں ان سب کا حقیقت پسندا نہ انداز میں جائزہ لیکر اقوام متحدہ کے ممبر ملکوں کو اس ذمہ داری کو نبھانے پر زورمجبور کرے جس کے نتیجے میں نہ صرف بھارتی مظالم فوری طور پررک جائیں بلکہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیر ی عوام کو اپنی مرضی ومنشاء کے مطابق آزادانہ اظہار کا موقع دیا جائے ۔ وقت آگیا ہے کہ بھار ت وحشیانہ حرکتوں سے باز آئے۔ یہ دنیا کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی روک تھام اور خطے میں منڈلاتے خطرات کے بادلوں کو مزید گہرے ہونے نہ دے ۔

متعلقہ خبریں