تحفے بے سبب نہیں ملتے

تحفے بے سبب نہیں ملتے

امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی سراج الحق کے اس سوال کہ وہ بھی عرب ممالک جاتے رہتے ہیں لیکن ان کو سوائے زم زم اور کھجور وں کا کوئی تحفہ نہیں ملا ، کاجواب تو تحفے تحائف دینے والے ہی دے سکتے ہیںیا جن کو تحائف ملتے ہیں ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ محض تحفے تحائف ہوتے ہیں یا پھر ان کا بدلہ چکانا پڑتا ہے ۔ تحفہ اور رشوت میں فرق یہی ہوتا ہے کہ تحفہ محض دوسرے کو خوش کرنے کیلئے کسی لالچ اور غرض و غایت کے بغیر دیا جاتا ہے اور تحفہ وصول کرنے والا اگر اپنے ہاں کی کوئی سوغات اور مشہور چیز پیش کرے خواہ وہ قیمتی ہو یا نہ ہو تحفہ کہلاتا ہے مگر جہاں معاملات اس حد سے بڑھ کر ہو وہ تحفے کے ذیل میں نہیں آتا خاص طور پر حکمرانوں کوملنے والے اور دیئے جانے والے تحفے کسی نہ کسی عوض اور کسی نہ کسی مقصد کے تحت ہی دیئے جاتے ہیں وگرنہ امیر جماعت اسلامی بھی ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں ان کو بھی تحفہ ملناچاہئے آخر یہ تحفے سابق صدر جنرل پرویز مشرف ، سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم پاکستان نواز شریف اور ایوان اقتدار سے وابستہ افراد ہی کو کیوں ملتے ہیں ۔وطن عزیز پاکستان کے حکمران پاکستان کے عوام کی امانت اور وسائل تک کو تحفتاً وہد یتاً پیش کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ یہاں نہ صرف عرب شیوخ کو شکار گاہیں دی جاتی ہیں اور ان کو شکار کا شوق فرمانے کا موقع دیا جاتا ہے بلکہ ملکی پالیسیوں اور تجارت میں بھی ان کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ۔ اس بارے میں زیادہ تفصیل میں جانا مناسب نہ ہوگا پاکستان کے عوام کو یہ بخوبی معلوم ہے کہ ملکی وقار اور مفادات تک بھی خطرے میں ڈالے جاتے رہے ہیں ۔ اگر ایسا نہیں تو پھر کسی سے تحفہ لینا اور کسی کو تحفہ دینا کوئی بری بات نہیں اور نہ ہی حکمران خاندانوں کے تعلقات اور کاروبار پر کسی کو معترض ہونے کی ضرورت ہے ۔ اعتراض کی بات یہ ہے کہ تحفے تحائف کے بدلے ایسے معاملات طے نہ ہو نے پائیں جو اختیارات سے تجاوز ہو اور جس کی آئین و دستور اور قانون میں گنجائش نہ ہو۔
کیا شہر بند کئے بغیر سیکورٹی ممکن نہیں ؟
چہلم کے موقع پر سیکورٹی کے نام پر پورے شہر کو بند کر کے اور موبائل سروس ایک دن غیر اعلانیہ اور دوسرے دن ا علانیہ معطل کر کے شہریوں کو جن مشکلات سے دو چار کیا گیا اس کے پس پردہ و جوہات اور حکمت سے متعلقہ حکام ہی واقف ہوںگے ۔ عاشورہ اور چہلم امام حسین کے موقع پر سیکورٹی خطرات اور اس کی ضروریات دونوں ہی سنجیدہ امور ہیں لیکن پولیس اور انتظامیہ جس طور یہ ضرورت پوری کرنے کا طریقہ اختیار کرتی ہے اس سے نہ صرف شہری آبادی بلکہ جن کے تحفظ کیلئے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے ان کو بھی اتفاق نہیں بلکہ وہ اسے غیر ضروری اور تکلیف دہ امر سمجھتے ہیں۔ عام مشاہد ہ ہے کہ پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات کرنے کے باوجود سیکورٹی کا مقصد راستوں کی بندش اور شہریوں کو سخت اذیت سے دو چار کئے بغیر کیو ں ممکن نہیں ۔ کسی شہری کی شنا خت کر کے ان کو گزرنے دینے میں کیا امر مانع ہے ۔ ایک نہتا شہری امن عامہ کیلئے کسی طور خطرہ نہیں بن سکتا اور نہ ہی شہری امن عامہ کے دشمن ہوتے ہیں مشکوک عناصر اور شناختی دستاویزات نہ رکھنے اور پولیس کومطمئن نہ کر سکنے والوں کو روکنے کی مخالفت نہیں کی جاسکتی مگر شہر کو محاصرے میں لا کر قید خانے میں تبدیل کرنا کوئی سیکورٹی نہیں ۔گزشہ روز اے این پی کے سینئر رہنما کے جنازے کے موقع پر جس طرح جناح پارک کے ارد گرد سڑکیں بند کی گئیں یا چہلم کے موقع پر شہر کو جس طرح قید خانے میں تبدیل کر دیا گیا اس سے حکام کو شہریوں کی مشکلات سے اعراض کرنے پر محمول نہیں کیا جا سکتا بلکہ شہریوں کو جان بوجھ کر محصور کرنے اور ان کو اذیت دینے پر محمول کرنا غلط نہ ہوگا۔ ہمارے سیکورٹی اداروں کو شہر بند موبائل سروس معطل اورشہریوں کو گھروں میں بند کر کے سیکورٹی دینے کے طریقہ کار پر نظر ثانی کر لینی چاہیئے ۔
آوے کا آوا بگڑا ٹائون ٹو
ٹائو ن ٹو میں سرکاری جائیداد کے کاغذات ہی غائب نہیں ہوئے بلکہ اس کی زیر نگرانی خوشحال باغ سے لاکھوں روپے مالیت کے جھولوں کی حفاظت میں بھی ان کی نا اہل ونا کامی سامنے آئی ہے جس کا متعلقہ حکام کو سخت نوٹس لینا چاہئے ۔ خوشحال باغ سے نہ صرف قیمتی تنصیبات اڑالی گئی ہیں بلکہ اس کی حفاظت اور توجہ نہ ہونے سے پریمیوں کی آمد اور ان کی حرکات سے علاقے کے لوگوں کا ذہنی کوفت میںمبتلا ہونا اور شرمندگی چوری سے زیادہ سنگین مسئلہ ہے ۔ چوری کی تحقیقات کیلئے کمیٹی کا قیام مسئلہ کا حل نہیں اس طرح سے معاملے کو دبا دیا جائے گا اور یہ امر قصہ پارینہ بن جائے گا وزیر بلدیات کو ٹائون ٹو کے معاملات کی تحقیقات اور سرکاری املاک اور جائیدا دوں کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ذمہ داری میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے ۔

متعلقہ خبریں