بارِ ثبوت

بارِ ثبوت

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان پاناما انکشافات کے حوالے سے وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت لانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ یہ بات صرف رانا ثناء اللہ نہیں بلکہ حکومت کے کئی وزراء اور ارکانِ پارلیمنٹ بھی پبلک جلسوں اور ٹی وی ٹاک شوز میں مسلسل کہہ رہے ہیں۔ اور اس بیان کے بعد بالعموم کہا جاتا ہے کہ اس طرح وزیر اعظم کے خلاف مقدمہ ختم ہو چکا ہے لیکن عدالت عظمیٰ میں اس مقدمے کی سماعت جاری ہے۔ پاناما انکشافات کا ذمہ دار تحقیقاتی صحافیوں کا بین الاقوامی کنسوریشئم ہے جس نے کئی سال کی دیدہ ریزی اور تحقیق کے بعد ان لوگوں کی فہرست جاری کی جن کی آف شور کمپنیاں ہیں۔ اس فہرست میں وزیر اعظم نواز شریف کا نام شامل نہیں ہے البتہ ان کی اولاد کے نام ہیں۔ یہ بات بھی یادداشت کا حصہ ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے خود اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو اس حوالے سے تحقیقات کے لیے پیش کیا ہے۔ اس پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر پیپلزپارٹی کے خورشید شاہ کے یہ ریمارکس بھی یادداشت کا حصہ ہیں کہ وزیر اعظم نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔ سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت جاری ہے جس میں تحریک انصاف کے عمران خان اور عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید نے بھی فریق مقدمہ بننے کے لیے درخواستیں دی ہوئی ہیں۔ عمران خان کے وکیل نے جو ''ثبوت'' پیش کیے ہیں اگرچہ وہ چھ سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل ہیں تاہم سپریم کورٹ کے بنچ کے ایک رکن نے کہا ہے کہ یہ پہلے سے شائع شدہ مواد ہے اور وکیل سے کہا ہے کہ آپ مقدمے کے بنیادی سوال پر توجہ مرکوز رکھیں۔ میڈیا میں ان ریمارکس کو بہت جگہ ملی اور وکیل صاحب نے مقدمے کی پیروی سے معذرت کر لی ہے۔ اب شنید ہے کہ عمران خان کو نیا وکیل تلاش کرنے میں دقت پیش آ رہی ہے۔ ایسی خبریں بھی شائع ہوئی ہیں کہ عمران خان اور شیخ رشید خود ثبوت تلاش کرنے لندن گئے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں کے وکیل نے ایک قطری شہزادے کا خط عدالت میں پیش کیا ہے جس کے بارے میں سینئر وکیل اعتزاز احسن کہہ رہے ہیں کہ شہزادہ صاحب خود عدالت میں بیان دیں اور جرح کا سامنا کریں تو اس کے نتائج کو قابل سماعت قرار دیا جائیگا۔ عدالت نے آئندہ سماعت کے لیے 29 نومبر کی تاریخ دی ہے اس دوران وزیر اعظم نواز شریف کو اہم ترین فیصلے یعنی آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد آئندہ آرمی چیف کے تقرر کا اعلان کرنا ہے۔ اب مختلف قسم کی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں ، کہا جا رہا ہے کہ لندن کے فلیٹس کی خریداری کے لیے رقم کہاں سے گئی ہے یہ طے ہو جائے تو مقدمہ کا فیصلہ ہو جائے گا۔ سوال یہ رہ جاتا ہے کہ اگر اس سوال کا جواب عدالت میں نہ پیش کیا جا سکا تو شاید عدالت تحقیقاتی کمیشن بنا دے۔ یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ بارِ ثبوت وزیراعظم نواز شریف اور ان کی اولاد پر ہے۔ الغرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر بارِ ثبوت وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی اولاد پر ہے تو یہ عمران خان اور شیخ رشید کیوں بھاگے پھر رہے ہیں اور جماعت اسلامی نے کرپشن کے حوالے سے کیوں الگ سے مقدمہ درج کرایا ہوا ہے۔ کرپشن کی نگرانی کے لیے ملک میں قوانین بھی ہیں اور نہایت بااختیار ادارے بھی موجود ہیں۔ قومی احتساب بیورو ہے۔ فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ہے۔ کمپنیوں کے بارے میں ایس ای سی پی اور سرمایہ کے بیرون ملک منتقلی کے حوالے سے سٹیٹ بینک سے مدد لی جا سکتی ہے۔ ملک کے وزیر اعظم کی اولادوں پر الزام ہے کہ ان کی آف شور کمپنیاں ہیں ۔ وزیر اعظم نے خود اپنے آپ کو اور اپنے اہلِ خانہ کو احتساب کے لیے پیش کرنے کا بیان دیا۔ سوال یہ ہے کہ ریاست پاکستان کے انتہائی اہم عہدیدار وزیر اعظم نے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا تو ریاست کی نیک نامی کے لیے یہ سب ادارے کیوں حرکت میں نہیں آئے۔ کیا واقعی متذکرہ بالا ادارے اس لائق نہیں ہیں کہ وہ اس معاملے کی بے لاگ تحقیقات کر سکیں۔ یہاں ملک کی تاریخ کا ایک بڑا سکینڈل یاد آ رہا ہے۔ ایک فرم تھی ایگزکٹ' اس پر الزام تھا کہ اس نے جعلی ڈگریوں کے کاروبار سے اربوں روپے غیر قانونی طور پر بنائے ۔ یہ سکینڈل منظرِ عام پر آتے ہی اس کے ذمہ دار کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس کے دفاتر پر چھاپے مارے گئے ۔ اور چند دن میں یہ باتیں منظرِ عام پر آ گئیں کہ اس فرم کے اتنے اکاؤنٹ فلاں فلاں ملک میں ہیں اور اتنے فلاں فلاں بینک میں ہیں۔ آخر یہ معلومات ہمارے تحقیقات اداروں نے حاصل کیں تھیں۔ اب یہ کیوں ممکن نہیں کہ یہ ادارے آف شور کمپنیوں میں پاکستانیوں کی سرمایہ کاری اور لندن میں مقدمہ میں مذکورہ فلیٹس کی خریداری کی تاریخ کیوں معلوم نہیں کر سکیں۔ کیوں یہ معلوم نہیں کر سکتے کہ ان فلیٹس کی خریداری کے لیے رقم کہاں سے گئی تھی اور اگر پاکستان سے گئی تھی تو اس پر ٹیکس ادا کیا گیا تھا یا نہیں؟ اس مقدمے میںریاست پاکستان کے اہم عہدیدار کے نام پر حرف آ رہا ہے ، ریاست کے اداروں کو بھی اس میں مطلوب تحقیقات کرنی چاہئیں۔ اس سے پہلے بھی نیب پاکستان سے باہر بھیجی جانے والی رقوم کے الزامات کی تحقیقات کر چکا ہے اور اس پر سنا ہے کروڑوں روپے غیر ملکی دوروں پر خرچ آئے تھے۔ اس مقدمے میں اہم سوال یہ ہے کہ آیا وزیر اعظم نواز شریف کی اولادوں کے فلیٹس کی خریداری پر رقم پاکستان سے گئی یا نہیں اور اگر گئی تو آیا اس پر ٹیکس ادا کیا گیا تھا یا نہیں۔ اس مقدمے کا فریق ریاست پاکستان کو ہونا چاہیے۔ یہ پاکستان کے عوام کا ایشو ہے ۔ رقم کے پاکستان کے جانے یا نہ جانے کے حوالے سے بھی اور ریاست پاکستان کے انتہائی اہم عہدیدار پر الزام کے حوالے سے بھی۔ فرض کیجئے تحریک انصاف کو کوئی وکیل نہیں ملتا تو کیا اس مقدمے کو ختم ہو جانا چاہیے؟ یہ مقدمہ پاکستان کے عوام کا مقدمہ ہے ۔ اور ریاست پاکستان کے اداروں کو اس مقدمے میں انصاف کی خاطر اپنی ذمہ داریاں اد اکرنی چاہئیں۔