مثبت تبدیلی

مثبت تبدیلی

پاکستا ن میں اگلے چندہفتے ہنگامہ خیز اور کئی حوالوں سے فیصلہ کُن ثابت ہونے والے ہیں۔اگلے چند دنوں میں آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق ایک اہم فیصلہ کیا جاناہے جبکہ دوسری طرف پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے اگلے مہینے تک کوئی فیصلہ آنے کی توقع کی جارہی ہے۔ اس فیصلے کے بعد کچھ لوگ خوش ہوں گے جبکہ کچھ ناخوش لیکن اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو جو فیصلہ بھی سامنے آیا وہ ہم سب کے لئے مثبت تبدیلی لے کر آئے گا۔ اسی طرح آرمی چیف کی تعیناتی بھی ہمارے لئے خوش آئند ثابت ہونے والی ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسا کیسے ہوگا ؟چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی کے حوالے سے وزیرِ اعظم کی طرف سے دو میں سے کوئی ایک فیصلہ سامنے آسکتا ہے، موجودہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع یا نئے چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی۔ اگر وزیرِ اعظم موجودہ چیف آف آرمی سٹاف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کرتے ہیں تو یہ ایک ایسا کام ہے جو وہ اپنے اختیارات کے دائرے میںرہتے ہوئے کر سکتے ہیں ۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ ان کے اس فیصلے کے بعد آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے سیاست ، ریاستی اداروں اور حکومت پر اثرات کے حوالے سے نئی بحث کا آغاز ہو جائے گا۔ لیکن جمہوریت ہی ایک ایسا سیاسی نظام ہے جو ایسے مباحثوں کے لئے جگہ مہیا کرتا ہے اور انہی مباحثوں کے ذریعے ہی کسی ملک میں جمہوریت کی جڑوں کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔دوسری جانب اگر وزیرِ اعظم نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا نوٹس جاری کرتے ہیں تو موجودہ آرمی چیف کو نہایت عزت و احترام اور عوام سے ملنے والی نیک خواہشات او رتشکر کے جذبات کیساتھ رخصت کیا جائیگا۔ موجودہ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے آرمی چیف کے لئے ان کی جگہ لینا ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا لیکن دنیا کی ہر بڑی شخصیت اپنے بعد آنے والوں کیلئے ایسے ہی چیلنج چھوڑ کر جاتی ہے۔ اوپر بیان کی گئی دونوں صورتوں میں مختلف شخصیات اور ان کی کارکردگی کے حوالے سے مختلف آراء کا اظہار ضرور کیا جائیگا لیکن نئے آرمی چیف کی تعیناتی یا موجودہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے فیصلے کو کسی ادارے یا نظام کی کمزوری نہیں کہا جاسکے گا۔ ایک ایسے موقع پر جب ہم ایک نازک دور سے گزر رہے ہیں ہمیں ملکی سلامتی کے بہت سے معاملات میں مضبوط ریاستی اداروں کی طرف سے کئے جانیوالے سخت فیصلوںکی ضرورت ہے۔پانامہ لیکس مقدمہ اگرچہ ایک پیچیدہ مقدمہ ہے لیکن اتنا پیچیدہ نہیں جتنا نظر آتا ہے۔یہاں ہم اس مقدمے کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لیتے ہیں جس میں پہلا نتیجہ مقدمے کا فیصلہ شریف خاندان کے خلاف آنا ہے جبکہ دوسری صورت میں کورٹ ملزمان کو تمام الزامات سے بری کر دیتی ہے۔ پہلے فیصلے کی دو اقسام ہو سکتی ہیں؛ پہلی قسم میں وزیرِ اعظم کے ایک یا ایک سے زیادہ بچوں کو قصور وار ٹھہرایا جائے جبکہ وزیرِ اعظم کو بے قصور قرار دیا جائے جبکہ دوسری قسم میں وزیرِ اعظم کو بھی قصور وار قرار دے دیا جائے۔ اگر وزیرِاعظم کے بچے قصووار پائے جاتے ہیں تو اس فیصلے کاوزیرِ اعظم کی ذات پر بھی بالواسطہ طورپر اس کا اثر پڑے گاجیسا کہ سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے مقدمے میں ہوا تھا۔ ایسی صورت میں پیپلز پارٹی کی طرح پاکستان مسلم لیگ ن کو بھی اپنی پارٹی میں سے کسی ایسے شخص کو وزیرِ اعظم کے امیدوار کے طور پر سامنے لانا ہوگا جسے پارلیمنٹ سے اکثریت کا ووٹ مل سکے۔ اگرچہ اس صورت میں حکمران سیاسی جماعت کی ساکھ کو نقصان ضرور پہنچے گا لیکن وہ اگلے انتخابات تک اپنی مدت پوری کرنے کے لئے اقتدار میں رہے گی۔ اس طرح پاکستان مسلم لیگ ن کے اندر اقتدار کی منتقلی ایک سیاسی نظام کے تحت ہوگی جس سے ہمیں یہ سیکھنے کا موقع ملے گا کہ مذکورہ صورتحال کو سیاسی انداز میں کیسے حل کیا جاتا ہے۔دوسرے نتیجے میں اگر وزیرِ اعظم اور ان کے بچوں کو سپریم کورٹ کی جانب سے کلین چٹ مل جاتی ہے تو عمران خان اور ان کی پارٹی شکست سے دوچار ہوگی اور اس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچے گا جس سے نمٹنے کیلئے عمران خان کے ساتھ ساتھ ان کی پارٹی کو بھی سخت محنت کرنی پڑے گی۔لیکن مذکورہ صورتحا ل بھی سیاسی نظام کی جیت ہوگی کیونکہ ایک بڑے سیاسی بحران کو کسی غیر آئینی اقدام کی بجائے سیاست کے ذریعے حل کیا جائیگا۔ پاکستان میں جمہوریت کی بلوغت کے حوالے سے بہت کچھ کہا جاچکا ہے لیکن 2018ء میں اقتدار کی پُر امن منتقلی جمہوری نظام کی بلوغت کیلئے ایک بہت بڑا سنگِ میل ثابت ہوگی۔ جمہوریت کے حوالے سے دوسرے مسلم ممالک سے موازنہ کیا جائے تو جمہوری انداز میں اقتدار کی منتقلی سے ہم اُن مسلم ممالک سے بہت آگے نکل جائیں گے جو اکیسویں صدی میں بھی بادشاہت یا آمریت کے شکنجوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اگر جمہوری روایات کا تسلسل جاری رہا تو مستقبل قریب میں ہم 'فوجی حکومت بمقابلہ جمہوریت' پر بحث کرنے کی بجائے 'خراب جمہوریت بمقابلہ بہتر جمہوریت' پر بحث کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ جمہوریت میں سنگِ میل عبور کرنے اور سیاسی نظام میں بہتری کے حوالے سے جمہوری انداز میں اقتدار کی منتقلی نہایت اہمیت کی حامل ہے جس سے ہم صرف ایک سال سے زائد عرصے کی دوری پر ہیں ۔ اگلے چند ہفتوں میں ہونے والے فیصلے ہمارے نظام میں تبدیلی ضرور لائیں گے لیکن یہ تبدیلی مثبت ہوگی۔

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں