نیا پاکستان بنانے کی ضرورت

نیا پاکستان بنانے کی ضرورت

مردان شہر کے ٹریفک انچار ج ہمارے مہربان ہیں جب بھی ہمیں ٹریفک کی روانی میں کوئی بے قاعدگی نظر آتی ہے ، اُن سے ٹیلی فون پر رابطہ قائم کرتے ہیں ۔ ہمارے تصور سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ اُ ن کا جواب آتا ہے ۔ اُس واخلئی سر اورسیدم ۔ ابھی لیجئے جناب پہنچ گیا ہوں ۔ اور دوسرے ہی لمحے وہ حالات پر قابو پالیتے ہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اُن کی توجہ اورتندہی کی وجہ سے شہر کی ٹریفک روا ں دواں رہتی ہے ۔ مردان کی ٹریفک پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں شہر کے جواں سال ڈی پی او کی خصوصی دلچسپی کا بھی بڑا ہاتھ ہے ۔ ہمیں یاد ہے یہی کوئی 25، 30سال پہلے کی بات ہے جب ہم کالج آنے کے لیے گھر سے نکلتے ، تو ہمارے گائوں کے چورا ہے پر دو ایک تانگوں میں کوچبان سواریوں کے انتظار میں اونگتے نظرآتے ۔ہمارے پاس تو سواری کے لئے اپنی ذاتی مرسیڈیز بینز تھی ۔ معاف کرنا ہمارے مرحوم دوست پروفیسر محمود احمد طارق نے ہماری کٹھارا سائیکل کویہی کا نام دے رکھا تھا جس روز وہ چلنے سے انکار کر دیتی تو مجبوراً تانگے میں جانا پڑتا ۔ اور ہمیں توتحصیل بازار کے تانگے کیلئے کافی انتظار کرنا پڑتا تانگوں کا زمانہ خیر اب نہیں رہا ۔ سڑک پر آج کل کوئی تانگہ دکھائی نہیں دیتا رکشے دوڑ رہے ہیں سوزوکی گاڑیوں ویگنوں کی بھر مار ہے اور پرائیویٹ گاڑیوں کی قطار میں سے گزرنا مشکل ہوگیا ہے ۔ جنکی وجہ سے شہر کے اندرٹریفک کا بہائو کم وبیش بے قابو ہو چکا ہے ۔ کالج چوک جوکسی زمانے میں ویران پڑ ا رہتا اب وہاں ہر وقت ٹریفک جام رہتی ہے ۔ ویرانی پر یاد آیا ہمارے مہربان پروفیسر عبدالحئی کو کالج کے قریب شمسی روڈ پر دن دیہاڑے جیب میں پڑے جمع پونجی سے محروم کر دیا گیا تھا اور یہ صدیوں پہلے کا واقعہ نہیں یہی کوئی چالیس سال پہلے کی بات ہے ۔ شہروں میں بے ہنگم اور بے قابو ٹریفک کی ایک بڑی وجہ اگر آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہے ۔ وہاں پرائیویٹ گاڑیوں کی کثرت بھی ہے ۔ تما م کمرشل بینکوں نے قرض پر گاڑیاں دینے کی سکیمیں شروع کر رکھی ہیں ۔قرض کی مے نوشی کا صرف حضرت غالب کو چسکہ اور پھر اپنی فاقہ مستی پر فخر نہ تھا پشتو محاورے کی رو سے قرض دا رے چا وجلے نہ دے ۔ یعنی اپنے قرضے کے ڈوبنے کے خوف سے کوئی قرض دار کی جان نہیں لیتا ۔ اگر سرکار کو آئی ایم ایف سے دھڑا دھڑ قرض لینے میں کوئی عار نہیں تو ہم پاکستانی قوم کو بھی بینکوں سے قرض پر گاڑیاں لینے میں کیا ترد دہو سکتاہے ۔ جب بینک والے قرض داروں سے قرض کی واپسی کا تقاضا کرتے ہیں تو اُنہیں جو اب ملتا ہے سر مے دخدائے اور ۔۔۔ یہاں قرض دار ایک ایسی چیز کی پیشکش کرتا ہے ۔ جسکا ہم یہاںبوجود ذ کر کرنا مناسب نہیں سمجھتے ۔ شہر کے بے ہنگم ٹریفک سے بات بینکو ں سے قرض پر حاصل کی گئی گاڑیوں تک پہنچ گئی ۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ بڑے شہروں میں بے قابواور بے ہنگم ٹریفک کی ایک وجہ یہ قرض کی گاڑیاں بھی ہیں۔ ظاہر ہے کہ بینک کے مہا جن گھاٹے کا سودا نہیں کرتے ہم سوچتے ہیں کہ پہلے یہ جو بینکوں میں چیک بک مفت دی جاتی تھی ،ا ب اسکی بھی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے ۔ ایک خاص حد سے زیادہ رقم نکلوانے پر آپکو باقاعدہ بھتہ دینا پڑتا ہے ۔ اور بنک سسٹم میں کھاتہ داروں کی مردم آزاری کے جو نت نئے طریقے داخل کئے گئے ہیں یہ دراصل بنک والوں کے اپنے ڈوبے ہوئے قرضوں کے نقصان کو بالواسطہ پور ے کرنے کے حربے ہیں ۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ پچاس سالوں میں کسی بھی حکومت نے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ٹریفک کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی۔ ہم اپنے شہر کی بات کرتے ہیں یہاں نہ کوئی انڈر پاس تعمیرکیا گیا نہ کوئی اوور ہیڈ پل بنایا گیا اور نہ سروس روڈ بچھائی گئی وہ سڑکیں جن پر پہلے اکا دکا تانگے چند ایک سائیکل سوار اور دو ایک پرائیویٹ گاڑیا ں نظر آتیں اب ان پر ٹریفک کا ایک سیلاب ہوتا ہے ۔اس صورت حال کے پیش نظر ٹریفک انچارج کی اعلیٰ کار کردگی اور اُن کے ماتحت عملے کی کاوشوں کے باوجود بے ہنگم ٹریفک کو قابو میں رکھنا اُن کے بس کی بات نہیں ۔یہ صرف مردان پشاور مینگورہ اور چارسدہ کا مسئلہ نہیں۔ لاہور جیسا شہر جہاں گزشتہ چند سالوں میں میڑوبس چلانے کے علاوہ بے شمار انڈر پاسزز اوور ہیڈ پل بنائے گئے ہیں ، لیکن وہا ں بھی ٹریفک جام کا مسئلہ وبال جان بن چکا ہے ۔ طلبہ وقت پر سکول نہیں پہنچ سکتے اور ملازمین کی دفتر تک وقت پر رسائی ممکن نہیںرہی ۔ اس کے علاوہ احتجاجی جلسوں دھرنوں اور وی آئی پی کی آمد ورفت کی وجہ سے بھی ٹریفک کے مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔ظاہر ہے جو سڑکیں پانچ کروڑ آباد ی والے پاکستان کے لئے بنائی گئی تھیں وہ اب 25کروڑ لوگوں کے لئے کیسے کار آمد ہو سکتی ہیں ۔ آئندہ دنوں میں یہ مسئلہ مزید گھمبیر ہو جائے گا ۔جانے سرکار اب اس کا کیا حال نکالے گی ۔صرف تبدیلی سے کام نہیں ہوگا ، باقاعدہ نیا پاکستان بنانے کی ضرورت پڑے گی ۔ 

متعلقہ خبریں