مستقبل کا پاکستان

مستقبل کا پاکستان

پانامہ لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ کی اب تک کی کارروائی سے یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے کیس شریف فیملی کے حق میں جا رہا ہے جس کی بڑی وجہ وہ ناکافی ثبوت ہیں جو مدعیوں کی طرف سے اب تک پیش کئے گئے ہیں۔ محض اخباری تراشوں کی بنیاد پر اس کیس سے امیدیں وابستہ کر لینا عجیب سا لگتا ہے لیکن پینتیس پنکچرز کی طرح یہ معاملہ بھی تحریک انصاف کی افتاد طبع کا شاہکار نظر آتا ہے جسے شائد یہ اندازہ بھی نہیں کہ اگر نواز شریف اس معاملے سے بری ہو گئے تو اگلے الیکشن میں ان کی پارٹی کی جیت یقینی ہو جائے گی جس کی متعدد وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ کیس سے نجات ملنے کے کچھ ہی عرصے بعد وہ ملک سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کر دیں گے اور عوام میں ان کی قدرومنزلت بڑھ جائے گی۔ دو ہزار سترہ کے آخر تک بہت سے ترقیاتی منصوبے مکمل ہو جائیں گے ۔ گوادر کی بندرگاہ فعال ہو جائے گی ۔ سی پیک ایک بہتر سطح پر آچکا ہو گا اور عوام ایک بہتر مستقبل کا خواب دیکھ رہے ہوں گے۔سی پیک کو بہت سے لوگ نہیں جانتے اس لئے تھوڑی سی وضاحت ضروری ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے وقت پورے پاکستان میں نیا ریلوے ٹریک سامنے آچکا ہوگا اور ریلوے کا نظام جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو چکا ہوگا۔موٹر وے سارے صوبوں کو لنک کر رہی ہوگی اور جی ٹی روڈز کا نظام بھی بہت بہتر ہو چکا ہوگا۔لاکھوں نوجوان اور انجنیئرز باعزت روزگار پر فائز ہو چکے ہوں گے۔ انڈسٹری کا پھیلائو ہو چکا ہوگا اور چائینہ کا مال سمگلنگ کی گرفت سے آزاد ہو کر پاکستان پہنچ رہا ہوگا جس سے پاکستان کی ٹیکسیشن میں ایک مثبت تبدیلی آئے گی۔طے شدہ بات ہے کہ پاکستان چند برسوں بعد چین سے ہیوی ٹیکنالوجی کے ساتھ لوکل مینو فیکچرنگ کے حقوق بھی حاصل کرے گا اور جنگی ٹیکنالوجی کے حوالے سے پاکستان کا امریکہ پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ اعلیٰ کارکردگی کے حامل جنگی طیارے اور ڈرون وغیرہ سب پاکستان میں ہی بنیں گے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ گوادر کی بندرگاہ ایشیاء کی دوسری فعال بندرگاہوں کو مات دے گی اور چینی مصنوعات کا دنیا بھر میں پھیلائو اتنا بڑھ جائے گا کہ ساری دنیا مل کر بھی اس کا مقابلہ نہیں کر پائے گی۔اور جو لوگ دنیا کے دو قطبی نظام کی اہمیت کو سمجھتے ہیں وہ اس نکتے کو بخوبی جان سکتے ہیں کہ اس وقت امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے اور مزید کئی سال تک سپر پاور رہے گا۔ اب روس کی جگہ چین اس کے مد مقابل ہو گا اور دو ہزار بیس تک وہ یہ ہدف حاصل کر لے گا۔ اس نئی سپر پاور کے ساتھ جن ملکوں کے وسیع تر تجارتی مفادات ہوں گے انہیں بے پناہ فائدہ ہوگا جس کی مثال ماضی میں بھارت کی طرف سے روس کی ہمنوائی ہے۔ ہم نے امریکہ کے کیمپ میں شامل ہو کر بے حساب خسارے کا سودا کیا جبکہ بھارت نے روس سے جو فائدے لئے وہ پوری دنیا کے سامنے ہیں۔ امریکہ ہمیں بات بے بات بلیک میل کرتا ہے جبکہ روس نے کبھی بھارت سے یہ سلوک نہیں کیا۔ اور تو اور آج بھی بھارت روس کے اربوں ڈالر ز کا مقروض ہے۔ پڑوسی ملک نے روس سے اربوں ڈالرز کا ادھار اسلحہ لیا اور بہت سا قرض ابھی تک واجب الادا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن دنوں روس میں بدترین معاشی بحران سر اٹھائے کھڑا تھا ان دنوں بھی روس نے بھارت کو قرض کی ادائیگی کے لئے مجبور نہیں کیا۔درحقیقت روسی جس قدر امریکیوں سے بہتر ہیں چینی اس سے زیادہ پاکستان کے لئے بہتر ثابت ہوں گے کیونکہ فطرتی طور پر اچھے لوگ ہیں اور پرانے دوستوں کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ روسیوں کا بھارت کے ساتھ کوئی سرحدی رابطہ نہ تھا جبکہ چین اور پاکستان زمینی رابطوں کے ذریعے یک جان دو قالب کی عملی تفسیر بن جائیں گے۔چینیوں کو اسلام سے اور کوئی گھبراہٹ نہیں سوائے اس کے کہ بنیاد پرست مسلم تنظیمیں امریکہ کی آلہ کار بن کر چین میں گڑ بڑ نہ کریں۔ سنکیانگ میں انہیں ہر قیمت پر امن چاہئے اور اس معاملے پر وہ پاکستان سمیت کسی کے ساتھ بھی رعایت نہیں کریں گے۔ ایک زمانے میں پاکستان کے دشمنوں نے چین کو باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ سنکیانگ میں پاکستانی شدت پسند گڑ بڑ کر رہے ہیں لیکن چین کو ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا اور یوں یہ سازش اپنی موت آپ مر گئی۔دو ہزار بیس تک یعنی آج سے چار سال بعد پاکستان چین کی مدد سے فاضل بجلی پیدا کر رہا ہوگا۔ چینی آئل کمپنیاں پاکستان میں تیل، گیس اور کوئلے کے نئے ذخائر تلاش کریں گی ۔سی پیک کے حوالے سے یہ بات بھی واضح ہے کہ اس کے تمام منصوبوں میں چینی انجنیئرز کے ساتھ پاکستانی انجنئیرز بھی کام کریں گے اور لیبر لگ بھگ پاکستانی ہی ہوگی اس عمل سے بھی لاکھوں لوگوں کو روزگار ملے گا۔میری ذاتی رائے ہے کہ نواز شریف جنرل راحیل شریف کو ایکسٹینشن دے دیں گے کیونکہ اس ساری تگ وتاز کے لئے ملک میں امن کا ہونا انتہائی ضروری ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جس قدر پر عزم جنرل راحیل ہیں ،شائد ہی اس کی نظیر ملے۔اس منصوبے کی تکمیل کے لئے نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کا ایک ساتھ رہنا ناگزیر ہے اور میرے خیال میں نواز شریف کو اس ناگزیریت کا احساس ہے۔سو دعا کرنی چاہئے کہ یہ ساتھ تا دیر قائم رہے تاکہ پاکستان جلد سے جلد ایشین ٹائیگر بنے اور عام پاکستانی ان مشکلات سے نکلے جن میں وہ عشروں سے گھرا ہوا ہے ،کبھی بھٹو سے، کبھی ضیا الحق سے،اور کبھی پرویز مشرف سے جھوٹی امیدیں وابستہ کر لیتا ہے۔

متعلقہ خبریں