دہقاں کو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی

دہقاں کو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی

سراج الحق اتنے سادہ ، کھرے اور سچے آدمی ہیں کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی ، کھرا سچ اگلتے ہوئے فرما گئے کہ ہمارا بھی سعودی عرب آنا جانا لگا رہتا ہے مگر ہمیں تو کبھی کھجوروں اور آب زم زم کے علاوہ تحفے میں کسی نے کچھ نہیں دیا ۔ صرف یہی دو خاندان ہیں جنہیں وہاں سے سٹیل مل اور بنک اکائونٹس میں رقم بطور تحفہ مل جاتی ہے ۔ استحصالی طبقے کے خلاف خانقا ہوں اور درباروں سے آواز بلند ہونی چاہیئے ۔ یہ بات سراج الحق نے جس تناظر میں کی ہے اس میں سے ایک پر تو آجکل بڑے لے دے ہو رہی ہے اور سیاسی میدان خاصا تپا ہوا ہے یعنی شریف خاندان کو سٹیل مل لگانے کیلئے سرمایہ عرب شہزادوں نے عطا کیا تھا اور پانامہ لیکس کے حوالے سے اپنے متضاد بیانات کا ''کریا کرم '' کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں ایک قطری شہزادے کے خط جمع کرانے کا بڑا چر چا ہو رہا ہے جبکہ سابق آمر جنرل (ر)پرویز مشرف نے ایک انٹر ویومیں کہا ہے کہ بیرونی ملک میں جائیداد کیلئے سعودی شاہ عبداللہ نے خود میرے اکائونٹ میں پیسے ٹرانسفر کئے جو میں نے بھائی ہونے کے ناطے قبول کئے ۔ سعودی شاہی خاندان سے میرے ذاتی تعلقات تھے ۔ وہ مجھے بھائی سمجھتے تھے ۔سراج الحق صاحب نے بیان دیتے ہوئے شاید بابا بھلے شاہ کی یہ رباعی ملا خط نہیں کی تھی کہ 

پڑھ پڑھ کتاباں عشق دیاں توناں رکھ لیا قاضی
ہتھ وچ پھڑیا تلوارتے ناں رکھ لیا غازی
مکے مدینے گھوم آیاتے ناں رکھ لیاحاجی
اوبلھیا حاصل کی کیتا جے تورب نہ کیتا راضی
اسی رباعی کو ہمارے یار طرحدار اور ہمسایہ کالم نگا ر ڈاکٹر ہمایون ہما نے پشتو کے قالب میں یوں ڈھا لا ہے
د علم کتابونہ چہ دے اولوستل قاضی شوے
دجنگ میدان کے تورہ دے اوچتہ کڑھ غازی شوے
لاڑے تہ مکے اومدینے تہ نو حاجی شوے
گٹہ بہ کڑے ہلہ اے بلھیا چہ رب راضی کڑے
سراج الحق صاحب کی سادگی پر قربان جانے کو جی کر تا ہے ، اس کا جواب ہم کیا دے سکتے ہیں بہتر ہوگا کہ وہ کل پیر کے اخبارات میں چھپی ہوئی ایک خبر ہی ملا خط کرلیں تو بات ان کی سمجھ میں آجائے گی ۔ اور خبر یہ ہے کہ قطری شہزادے کو پاکستان میں نا یاب پرندے تلو ر کے شکار کی خصوصی اجازت دے دی گئی ہے ۔ اس خبر پر مزید کسی تبصرے کی ضرورت نہ سمجھتے ہوئے کیوں نہ آگے بڑھا جائے اور انہوں نے بقول انکے استحصالی طبقے کے خلاف خانقا ہوں اور درباروں سے آواز بلند کرنے کی جو بات کی ہے ان کی خدمت میں آج عرض کئے دیتے ہیں کہ کن خانقاہوں اور درباروں کی بات کر رہے ہیں ۔ اگر و ہ اپنے ارد گرد نظر دوڑانے کی زحمت فرمائیں تو انہیں کئی مساجد، دبار، خانقاہیں، مدارس ، دارالعلوم غیرہ وغیرہ دیکھنے کو مل جائیں گے جن کو مختلف عرب ممالک سے ''نذرانے'' اور امداد کے نام پر ہر سال ریال ، درہم ، دینار اور نہ جانے کس کس قسم کی کرنسیوں کے رنگین کاغذ ملنے کی خبریں زبان زد عام و خاص ہیں ، جہاں تک درباروں کا تعلق ہے تو ان پر سالانہ لاکھوں کروڑوں کے چڑھاوے جو عام غریب لوگ مریدوں کی شکل میں نچھاور کرتے رہتے ہیں ، الگ ہیں، یقین نہ آئے تو ذرا پنجاب اور سندھ کے ان علاقوں کا ایک چکر لگا آئیے جہاں جہلا کی ایک کثیر تعداد ان درباروں کے سجادہ نشینوں اور متولیوں کے آگے جذبات کے اندھے پن میں اس قدر جھک جاتے ہیں کہ کفر کی حد کو چھو نے لگتے ہیں ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کے کس اصول کے تحت ان سجادہ نشینوںکو عام لوگوں کا یوں استحصال کرنے کی اجازت ہے ۔ علامہ قبال کا وہ واقعہ تو ہر کوئی جانتا ہے جب ایک محفل میں علامہ صاحب تشریف فرماتھے وہاں دوسرے لوگوں کے ساتھ ایک پیر صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے ۔ اس دوران میں ان کاا یک مفلس مرید آیا اور پیر صاحب سے دعا کی درخواست کرتے ہوئے کہا پیر صاحب میں بیس روپے کا مقروض ہوں اس سے نجات کے لئے دعا کیجئے ، جاتے ہوئے بطور نذرانہ پیر صاحب کی خدمت میں دو روپے پیش کردیئے ۔ مرید کے جانے کے بعد علامہ اقبال نے مسکرا تے ہوئے کہا ۔ پیر صاحب اب تو بیس نہیں بائیس روپے قرضے سے نجات کی دعا اپنے مرید کو دیجئے ، بے چارہ آپ کو نذرانہ دینے کے لئے یہ دو روپے بھی اُدھا ر لیا ہوگا ۔ خیر بات ہو رہی تھی کھجوروں اور آب زم زم کے نذرانے کے مقابلے سٹیل مل اور بھائی ہونے کے ناتے سعودی شہنشا ہ سے رقم خوشی سے قبول کرنے کی ، تو عرض ہے کہ ہمیں تو یہ لوگ بھی جن کو بطور نذرانہ سٹیل مل اور بنک اکائونٹ میں بھاری رقوم ملے ہیں ، کسی دربار کے مجاور بلکہ سجادہ نشین ہی لگنے لگے ہیں ۔ جو پاکستان کے تخت پربیٹھتے ہی غیرو ں کی نظر میں اس قسم کے نذرانوں کے حقدار بن جاتے ہیں ۔ بہر حال اگر پاکستان کے ان ''سجادہ نشینوں '' کے خلاف آواز اٹھ سکتی ہے تو ملک کے اندر لا تعداد درباروں اور خانقاہوں کے مجاوروں اور سجادہ نشینو ں کے اس عوامی استحصال کے خلاف بھی آواز اٹھنی چاہیئے ۔ مگر شاید یہ ممکن نہیں ہے ۔ اور اگر یہ ممکن نہیں تو انہی خانقا ہوں اور درباروں سے پاکستان کے ''سجادہ نشینوں '' کے خلاف آواز کیوں کر اٹھ سکتی ہے ۔ اگر ایسا بہ فرض محال ہو جائے تو پھر نہ تو بیرونی نذرانے آئیں گے نہ ہی زکواة فنڈ سے ان کی '' تواضع '' کی جا سکتی ہے اور پھر یہ پیجاروں مر سیڈیز ، وغیرہ خواب وخیال بن کر رہ جائیں گے ۔ البتہ سراج الحق جیسے سادہ ، نیک اور شریف انسان کو صرف کھجور وں اور آب زم زم پر گزارہ کرنے پی ہی اکتفا کرنا پڑے گی ۔ علاقہ اقبال نے یونہی تو نہیں کہا تھا
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
دہقاں کو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی

متعلقہ خبریں