سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کی وزیراعلی کےپی کے پرویز خٹک کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی قرارداد

سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کی وزیراعلی کےپی کے پرویز خٹک کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی قرارداد

ایم کیو ایم کے ارکانِ صوبائی اسمبلی کی جانب سے جمع کرائی جانے والی قرارداد میں پرویز خٹک کے غیر ذمہ دارانہ بیانات پر تنقید کرتے ہوئے پاکستانیوں کو دست و گریباں کرنے اور ملک کو نقصان پہنچانے جیسی دھمکیوں کی مذمت کی گئی۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں اتحادی حکومت قائم ہے، جس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے پرویز خٹک وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہیں۔

قرارداد میں صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایوان کی رائے وفاقی حکومت تک پہنچائے اور پرویز خٹک کی کہی باتیں جو غداری کے زمرے میں آتی ہیں اس پر ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ درج کرکے کارروائی کے اقدامات کیے جائیں۔

یاد رہے کہ پاناما پیپرز میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے نام سامنے آنے کے بعد معاملے کی شفاف تحقیقات اور وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے کے لیے 2 نومبر کے متوقع دھرنے سے قبل ہونے والے جلسوں میں پولیس سے جھڑپوں کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا تھا کہ جس طرح کشمیر میں ظلم ہورہا ہے ہمیں بالکل اسی طرح لگ رہا ہے ہم پر بھی ظلم کیا جارہا ہے، ہمارا راستہ روکا گیا اور فائرنگ کی گئی، پولیس ہم پر شیلنگ کررہی ہے۔

ان جھڑپوں اور شیلنگ کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب وزیر اعلی خیبرپختونخوا کی سربراہی میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے پولیس کے ساتھ کشمکش کے بعد ہارون آباد پل پر کھڑی کی گئی تمام رکاوٹوں کو ہٹا کر اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی تھی۔

پولیس اور ایف سی اہلکاروں نے صوابی انٹرچینج کے قریب ہارون آباد پل پر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کی قیادت میں اسلام آباد آنے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور ربڑ کی گولیاں برسائی تھیں۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے 2 نومبر کو اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کا اعلان کیا تھا اور پی ٹی آئی خیبر پختوا کے کارکنان وزیراعلیٰ کی قیادت میں احتجاج میں شامل ہونے کے لیے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں