امریکی ثالثی کا معاملہ

امریکی ثالثی کا معاملہ


وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اختلافات کے حل کیلئے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو پاکستان خوش آمدید کہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس خطے میں دنیا کی آدھی سے زائد آبادی قیام پذیر ہے اور یہ آبادی پاکستان اور بھارت کے تعلقات، خاص طور پر مسئلہ کشمیر کی وجہ سے براہ راست متاثر ہوتی ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس لیے اس صورت حال کو بہتر بنانے کیلئے کیے جانے والے اقدامات کو خوش آمدید کہا جائے گا ۔یاد رہے کہ الیکشن کے فوری بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم نواز شریف کو اپنے ٹیلی فونک رابطے میں خطے کیلئے مثبت پیغام بھیجا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، اقوام متحدہ کیلئے امریکی سفیر کے حالیہ بیان کو بھی سراہتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کسی بھی قسم کے واقعے کے رونما ہونے کے انتظار سے قبل ٹرمپ انتظامیہ جنوبی ایشیا کی دونوں ریاستوں کو ان کے درمیان موجود کشیدگی کو ختم کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔وفاقی وزیر خزانہ نے تسلیم کیا کہ ماضی میں امریکا اور پاکستان کے تعلقات تعطل کا شکار رہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس تعطل کو ختم کرنا چاہیے جیسا کہ یہ تعلق دونوں کیلئے ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اختلافات کو ختم کرنے کیلئے مل کر کام کرنا چاہیے، اگر کوئی غلط فہمی ہے تو اسے حل ہونا چاہیے ۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے پاس وزارت خارجہ کا کوئی اضافی چارج نہیں اور نہ ہی وہ اس سے متعلق ہیں۔ ان کا بیان اگرچہ سفارتی کسوٹی پر پورا اترتا ہے اور حکومت کے اہم وزیر کی حیثیت سے ان کے بیان کی اہمیت بھی مسلمہ ہے لیکن اس کے باوجود ان کا بیان بہر حال ایک ایسے ذمہ دار حکومتی شخصیت ہی کاہے جو ملک کے مالیاتی وسائل اور عالمی مالیاتی معاہدوں کی ذمہ داری نبھاتا ہے۔ بہر حال وزیر خزانہ اسحاق ڈار ہی کی طرف سے نہیں بلکہ وزارت خارجہ کی طرف سے بھی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاک بھارت تنازعات کے حل میں ثالثی کے بیانات اور پیشکش کا خیر مقدم کیاگیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو درحقیقت یہ ساری سفارتی شعبدہ بازی سے زیادہ کچھ نہیں وگرنہ اگر امریکہ واقعی ثالثی چاہتا تو کم از کم بھارت کو اس کی ثالثی کی پیشکش سے احتراز کی جرأت نہ تھی۔ ثالثی کے لئے ہر دو فریقوں کا ثالث پر مکمل اعتماد ہونا چاہئے۔ بھارت امریکہ پر اعتماد کرسکتا ہے مگر ماضی کے تناظر میں پاکستان امریکہ پر اعتماد سے قبل ہزار بار سوچے گا۔ اس کے باوجود پاکستان نے بھارت کے برعکس اس کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس وقت بھی امریکہ کا کردار و عمل تضادات پر مبنی ہے۔ امریکہ ایک جانب ثالثی کی پیشکش کرتا ہے اور دوسری جانب پاکستان پر پراکسی وار کا گمان کرتا ہے۔ امریکہ اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات ہوں یا دفاعی تعلقات ان دونوں میں اعتماد کی کمی اور ایک دوسرے سے شاکی ہونا معمول کی بات ہے۔ د ونوں ممالک کے تعلقات کو دریا کے دو کناروں کی مثال دی جاتی ہے جو ساتھ ساتھ چلتے رہنے پر مجبور ہونے اور ایسا کرنے کے باوجود بھی بہر حال باہم نہیں ملتے۔ پاکستان جتنے عرصے تک امریکہ کی ناگزیر ضرورت رہتا ہے تب تک امریکہ کارویہ کچھ اور ہوتا ہے جیسے ہی مطلب برآوری ہو جاتی ہے تو امریکہ کا لب و لہجہ تبدیل ہو جاتا ہے ۔بہرحال پاکستان نہ صرف ایک ذمہ دار ملک ہے بلکہ اس کی پالیسی ہمسایہ ممالک اور خطے کے ملکوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر اچھے تعلقات کا قیام ہے اور بین الاقوامی طور پر باوقار تعلقات کے قیام کا خواہاں اور اس پالیسی پر عمل پیرا ہے اس کا احترام کیا جانا چاہئے۔ امریکہ کو اگر خطے میں قیام امن اور استحکام امن مطلوب ہے تو اسے چاہئے کہ وہ خطے میں مستقل قیام امن کی مساعی میں شراکت داری کے طور پر مسئلہ کشمیر کے حل اور افغان مسئلے کے حل میں کسی فریق سے ہمدردی رکھے بغیر ثالثی کاکردار ادا کرے۔ اس کے لئے پاکستان کی آمادگی کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ پاکستان بھارت کے ساتھ با مقصد مذاکرات کے لئے تیار ہے۔اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ تنازعہ کشمیر سے خطے کے امن کو خطرہ ہے اس کا فطری حل تو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دینا ہے۔ پاکستان کو اس سے کم کسی بات پر اس لئے بھی آمادہ ہونے کی ضرورت اس لئے بھی نہیں کہ یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ اور خود بھارتی وزیر اعظم کی طرف سے اس موقع پر اسے تسلیم کرنے کے ساتھ اس پر عملدر آمد کا وعدہ بھی کرایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے جتنے بھی فارمولے وضع کئے جارہے ہیں اور تجاویز دی جا رہی ہیں وہ پاکستان کے مفاد میں نہیں بلکہ اپنے حق اور کشمیر کاز سے دستبرداری کے زمرے میں آتے ہیں۔ بہر حال باوجود اس کے کہ اگر دفع شر کے لئے کوئی دیگر موزوں تجویز سامنے آئے تو اس پر غور کرنے میں حرج نہیں۔ کشمیر کے مسئلے کا ایسا حل ہی پاکستان کے لئے قابل قبول ہونا چاہئے جس کے نتیجے میں نہ تو ایک نیا اسرائیل وجود میں آئے اور نہ ہی کشمیری عوام کے مفادات کا سودا کیا جائے۔

متعلقہ خبریں