پانامہ کیس' تحقیقات تو مکمل ہونے دیں

پانامہ کیس' تحقیقات تو مکمل ہونے دیں

سیاسی جماعتوں کی جانب سے عدالتی فیصلے بلکہ عدالتی ہدایات کے بعد اس پر اعتراضات اور وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ مناسب نہیں۔ سیاسی جماعتوں کی پارلیمان اور پارلیمان سے باہر وزیر اعظم پر تنقید اور ان سے استعفے کا مطالبہ ان کا حق ہے لیکن عدالت کی طرف سے پانامہ کیس پر جے آئی ٹی بنانے کے بعد اس مطالبے کا مطلب عدالت پر عدم اعتماد اور توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ خاص طور پر جو سیاسی جماعتیں وزیر اعظم کے خلاف مقدمے میں فریق تھیں اور انہوں نے عدالتی فیصلہ تسلیم کرنے کا وعدہ کیا تھا ان سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو ساٹھ دن مزید انتظار کرلینا چاہئے تھا۔ عدالتی صورتحال کی آڑ لینے کی گنجائش نہیں سیاسی جماعتوں کے مطالبات وقت اور حالات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی جو تحریک انصاف کے دھرنے کے دوران ایوان میں وزیر اعظم کو ڈٹے رہنے کے مشورے دیتی رہی آج وہ بھی وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ موقف میں تبدیلی اور مخالف سیاسی جماعتوں کے مطالبات میں ہم آہنگی کوئی انہونی نہیں۔ ہمارے تئیں ضرورت اس امر کی ہے کہ تحقیقات کے اس نئے مرحلے کے نتائج کا صبر و اطمینان کے ساتھ انتظار کیا جائے۔ قانونی اور سیاسی معاملات کو خلط ملط نہ کیاجائے اور نہ ہی سیاسی معاملات کی آڑ میں عدالتی احکامات پر تنقید کی جائے۔ اگر وزیر اعظم کا استعفیٰ ہی مطلوب تھا تو اس کے لئے عدالت کا راستہ چننا ہی درست نہ تھا اور اگر عدالت سے رجوع کیا ہی گیا تو اس کی ہدایات اور احکامات کا انتظار اور احترام بھی کیا جائے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ بظاہر سیاسی ہم آہنگی یا ہم نعرہ ہونے کے باوجود بھی سیاسی جماعتوں میں کدورتیں اور چالبازیاں واضح ہیں جس کا مظاہرہ قومی اسمبلی کی کارروائی نہ چلنے دے کر کیاگیا ۔اس طرح کی سیاسی چالبازی کا مظاہرہ ایک مرتبہ قبل بھی دیکھنے میں آیا تھا سیاست کا مطلب اگر حصول اقتدار ہی ہے یا پھر مفادات کے لئے ایک دوسرے کو تحفظ دینا ہی مطلوب ہے تو اس پر سے عوام کے اعتماد کا اٹھ جانا فطری امر ہوگا۔ سیاستدانوں کے اس کردار ہی کے باعث عوام ان سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ جس معاملے کو جس پلیٹ فارم سے اٹھایا جائے اس پر اعتماد کرتے ہوئے اسے اسی پلیٹ فارم ہی پر رہنے دیا جائے۔ پانامہ پیپرز کے انکشافات پر اب عدالت سے جو بھی فیصلہ آئے گا وہی معتبر ہوگا اس سے ہٹ کر خواہ مخواہ عوام کو بے وقوف نہ بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں