ذہنی معذور شخص کے فعل پر بلا وجہ ا شتعال

ذہنی معذور شخص کے فعل پر بلا وجہ ا شتعال


چترال میں فاتر العقل شخص کی جانب سے مسجد میں قابل اعتراض کلمات کی ادائیگی اور دعوے کے بعد فوری طور پر شاہی مسجد کے امام نے جس طرح سے معاملے کو سنبھالا اور پولیس نے بحفاظت ملزم کو تھانے منتقل کردیا اس ضمن میں ذرا بھی تساہل یا تغافل کاارتکاب کسی بڑے سانحے کو جنم دینے کا باعث بن سکتا تھا۔ ابھی اصل حقائق کا سامنے آنا باقی اور تحقیقات کا مرحلہ ہے لیکن قرین قیاس یہی ہے کہ ملزم دماغی طور پر تندرست نہ تھا اس امر کا ثبوت اس سے بھی ملتا ہے کہ مذکورہ شخص کو علاج کے لئے پشاور منتقل کیا جا رہا تھا لیکن بہر حال اس سوال کاجواب تلاش کرنا باقی ہے کہ ملزم جامع مسجد کیسے پہنچا کیونکہ اس کا تعلق سنی برادری سے نہ تھا۔ نیز اس کو منتقل کرنے والوں نے اسے تنہا کیوں چھوڑا کیونکہ مشکوک ذہنی صحت کے حامل افراد کو اکیلا چھوڑنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ ملزم کا تعلق اگر سنی برادری سے ہوتا تو اسے ایک ذہنی معذور شخص کا ہذیاں سمجھ کر رد کردیاجاتا ذہنی طور پر معذور افراد کی ذہنی کیفیت کی کوئی تفریق نہیں ہوتی خواہ وہ جس عقیدے کا شخص ہواس کا عجیب و غریب دعویٰ کرنا یہاں تک کہ اپنے آپ کو نقصان پہنچانا بھی بعید نہیں ہوتا بنا بریں اس موقع پر جذبات کا اشتعال بلا وجہ ہی نہیں بلکہ ازروئے شرع طبی اور اخلاقی کسی بھی بنیاد پر اس معاملے کو ہوا دینا' احتجاج کرنا اور اشتعال دلانے کی گنجائش نہیں۔ اگر ملزم قابل سزا ہوتے اور ان کی سزا کا اختیار افراد اور ہجوم کے پاس ہوتا تو مسجد کے منبر پر متمکن جید عالم دین ہی فیصلہ کے لئے موزوں تھے۔ اس واقعہ سے اشتعال کا پھیلنا اور لوگوں کا جذبات میں آنا بہر حال فطری امر ہے لیکن جہاں شریعت کے احکام اور قانون کی پاسداری کے تقاضے ہوں وہاں جذبات سے کام لینے کی ضرورت نہیں۔ اس طرح کے مواقع پر غلط فہمی کی گنجائش رہتی ہے لیکن اسماعیلی اکابرین کی جانب سے اس واقعہ کی سخت مذمت اور قانون کے مطابق ملزم کو سزا دینے کے مطالبے کے بعد اس امر کا کوئی جواز نہیں کہ اسے کوئی دوسرا رنگ دیا جائے۔ چترال کا امن اور بھائی چارے کی فضا کو ایک مجنوں کی بڑھک کا اگر شکار بنا دیا جائے تو یہ اس سے بڑی دیوانگی ہوگی جس کا ارتکاب ملزم نے کیا ہے۔جس طرح ایک عالم دین نے مثبت اور حقیقی عالم کے کردار کا مظاہرہ کرکے صورتحال کو سنبھالا وہ قابل تحسین ہے۔ اس ضمن میں علمائے کرام اور عمائدین علاقہ کو اسی طرح اپنا کردار ادا کرتے ہوئے مشتعل جذبات پر پانی ڈالنے کی ضرورت ہے تاکہ چترال کی پر امن وادی کا سکون متاثر نہ ہو۔

متعلقہ خبریں