رد عمل

رد عمل

پانامہ کیس کے فیصلے پر کچھ عجیب و غریب ردعمل سامنے آیا ہے۔ ہم اس بہت بڑے فیصلے پر اپنے چھوٹے منہ سے کیا رائے دے سکتے ہیں۔ پہلے کچھ تمہید باندھنے کی اجازت دیجئے تو پھر کچھ عرض کریں گے۔ ہمارے ایک پڑھے لکھے دوست طارق جمال کبھی کبھار ہمیں بڑے اچھے مقولوں سے نوازتے ہیں۔ ابھی کل ہی ان کا ایک پیغام ملا' لکھا تھا دو افراد معاشرے کو شدید نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں' ایک وہ جو سب کچھ جانتے ہوئے بھی کچھ نہ بولے اور دوسرا وہ جو بغیر جانے بوجھے مسلسل بولتا رہے۔ ہم سوچ رہے کہ ہم کس زمرے میں آتے ہیں۔ کافی غور وخوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ ہم بہت کچھ جاننے کے باوجود بھی خوف فساد خلق سے کچھ کہنے کی جرأت نہیں کرتے اور بعض اوقات کچھ ایسی باتوں پر تبصرہ کر بیٹھتے ہیں جن کے بارے میں ککھ بھی نہیں جانتے اور جس پر لوگ ہمارا مذاق اڑاتے ہیں۔ کچھ دوستوں نے ہمیں لال بجھکڑکا درجہ دے رکھا ہے اوربات بے بات پر ہماری رائے جاننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ جب پانامہ کیس کے فیصلے کی آمد کا شور اٹھا تو ہمارے انہیں دوستوں نے ہماری رائے طلب کی۔ اس سارے معاملے کے بارے میں جب سے اس کا آغاز ہوا تھا کبھی ہماری کوئی دلچسپی نہیں اور نہ زندگی کے دوسرے اہم معاملات میں الجھے رہنے کی وجہ سے اس پر کبھی غور و فکر کا موقع ملا۔ چنانچہ ہم نے اپنے سب بہی خواہوں سے معذرت کی اور ساتھ یہ بھی عرض کیا کہ اس سے ہم جیسے لوگوں کی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ہم جو لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا ہیں نہ اس سے کوئی نجات ملے گی نہ گراں فروش توبہ تائب ہو کر منافع خوری سے باز آئیں گے۔ گوالا دودھ میں پہلے کی طرح پانی ملاتا رہے گا' گیس کا پریشر بدستور کم رہے گا' تھانہ کچہری میں سائل ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔ جعلی دوائیوں کا کاروبار بند نہ ہوگا اور نہ سرکاری دفاتر میں مردم آزاری ختم ہوگی۔ ہمیں ہمیشہ ایسے مسائل کا سامنا رہا ہے اس لئے تو ہم پانامہ کیس پر ماہرانہ تو دور کی بات ہے کسی عامیانہ رائے دینے کی پوزیشن میں بھی نہیں۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ رائے کیوں دیں؟ پانامہ کیس پر پیشگی رائے ہماری بساط سے باہر کا عمل تھا۔ چنانچہ ہم نے اس سے گریز کا فیصلہ کیا۔ میاں صاحب جو اس فیصلے کے متاثرین میں سے تھے انہوں نے بھی ایک روز پہلے واشگاف الفاظ میں فرمادیا تھا کہ عوام نے مجھے کام کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے تو پھر مجھے فیصلہ سننے کی کیا ضرورت ہے۔ ہم جیسے چپڑ قناتیوں کا جن کا پانامہ کیس سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں بنتا پھر ہمیں اس کے آنے پر سوگ منانے یا بغلیں بجانے کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ میاں صاحب محترم نے فیصلہ آنے سے پہلے جو کچھ فرمایا اس کا تو یہی مطلب لیا جاسکتا ہے کہ یہ ان کی مرضی پر منحصر ہے کہ فیصلہ سن لیں یا پھر عوام کے مینڈیٹ کے زعم میں اس پر کان ہی نہ دھریں۔ ہم نے کچھ روز پہلے پڑھا تھا کہ اس مقدمے کا فیصلہ تاریخی نوعیت کا ہوگا اور یہ صدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔ اس پر چھوٹے میاں صاحب کا یہ رد عمل آیا کہ ہمیں تاریخی فیصلے کی اہمیت سے قطعاً انکار نہیں لیکن ہمارے دور حکومت میں عوامی خدمات کے جو ریکارڈ قائم کئے گئے ہیں وہ اس سے بھی زیادہ مدت تک عوام کی یادوں میں محفوظ رہیں گے۔ ہم پانامہ کیس کے مقدمے کی اہمیت اور اس کے ہمہ جہت پہلوئوں کے اس لئے بھی قائل ہوگئے کہ اس کے آنے پر جیالے' متوالے اور کھلاڑی بیک وقت خوشیاں مناتے نظر آرہے ہیں۔ وفاقی وزیرمملکت برائے اطلاعات اگر وکٹری کا نشان بنا کر کھڑی ہیں تو جماعت اسلامی کے امیر بھی اسی نشان سے اپنی فتح مندی کا اظہار کر رہے ہیں۔ محمود و آیاز ایک ہی صف میں کھڑے ایک دوسرے کے منہ میں لڈو اور گلاب جامن ٹھونس رہے ہیں۔ وہاں وزیر اعظم ہائوس میں بھی یہی کچھ نظارے ہیں۔ جھپیاں ڈالی جا رہی ہیں۔ اس عزم کا اظہار بھی ہو رہا ہے کہ ہم عوام کے مینڈیٹ کے مطابق ہمیشہ ان کی خدمت کرتے رہیں گے۔ ظاہر ہے جن لوگوں کو عوام کی خدمت کے لئے ہی پیدا کیاگیا ہے اور جنہیں اس کے علاوہ کوئی دوسرا کام بھی نہیں آتا تو وہ ناچار کیا کریں۔ اول و آخر عوام کی خدمت گزاری ہی ان کا نصیبہ بن چکا ہے۔ کون جیتا کون ہارا۔ ہم جیسے سادہ لوگ بمشکل اس پر کوئی رائے دے سکتے ہیں۔ وجہ اس کی وہی ایک ہے جو ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔ دونوں کیمپوں کے لوگ آپس میں مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں۔ سب خوش ہیں ' ڈھول کی تاپ پر متوالے ناچ رہے ہیں کہ ہمارے راہنما بچ گئے۔ دوسری جانب فیصلے پر خوشی کی وجہ یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ نے کسی کو کلین چٹ نہیں دیا۔ وہ کہتے ہیں کہانی ختم نہیں ہوئی اب شروع ہوئی ہے۔ ایک سٹریٹ مین کی حیثیت سے ہمیں فیصلے کی نزاکتوں کا کوئی علم نہیں اور نہ دونوں جانب سے اس پر خوشیاں منانے کی کوئی وجہ سمجھ میں آرہی ہے۔ ہماری اب بھی یہی رائے ہے کہ پانامہ کیس کے موجودہ عدالتی فیصلے یا دو ماہ بعد کسی دوسرے فیصلے سے ہم گلی کوچوں کے لوگوں کے شب و روز پر کیا اثر پڑے گا ۔ کیا لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا' کرپشن کا نام و نشان مٹ جائے گا' خط غربت پر کیڑے مکوڑوں کی طرح ساٹھ فیصد لوگوں کو انسانوں کی طرح زندگی بسر کرنے کے مواقع میسر آجائیں گے۔ دوسری باتیں ہم پہلے ہی عرض کرچکے انہیں دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہمارا تو یہی تبصرہ اور رائے ہے اب دوستوں کی مرضی ہے کہ وہ اسے کوئی اہمیت دیتے ہیں یا نہیں۔

متعلقہ خبریں