لمحہ بھر کے لئے سو چیئے تو ہم کہاں کھڑے ہیں ؟

لمحہ بھر کے لئے سو چیئے تو ہم کہاں کھڑے ہیں ؟

مکر عرض کیے بنا چارہ نہیں کہ ستر برسوں کے دوران ہم انسان سازی کا ایک ادارہ بھی قائم نہیں کر پائے ۔ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب تلاش کیجئے سات دہائیوں کے سفر کے بعد ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ ۔ کہنے کو یہ بائیس کروڑ کے لگ بھگ لوگوں کا ملک ہے ۔ سچ یہ ہے کہ آدمیوں کا جنگل ہے ۔ جنگل میں انسان نہیں اگتے ۔قصور کس کا ہے۔ بہت آسانی کیساتھ مولویوں ، استحصالیوں ، جرنیل شاہی اور بے ہنگم نظام حکومت پر ڈال کر الگ ہو لیجئے ۔ مگر کیا اس طورفرار درست ہوگا ۔ جی نہیں وقت آگیا ہے کہ خود احتسابی کو فروغ دیا جائے ۔ دوسروں کے عیب شمار کرنے اور انہیں نیچا دکھانے کے لئے پا پڑبیلنے کے بجائے ہم سب اپنی اپنی ادائوں پر غور کریں اپنے کجوں کو شمار کرنے کا حوصلہ ۔ مجھے قوی یقین ہے کہ ہم یہ نہیں کر سکیں گے ۔ وجہ یہ ہے کہ احساس ذمہ داری تمام ہوئے مدتیں بیت گئیں ۔ خواہشوں کے سر کش گھوڑوں پر سواری مرغوب ہے ہم سب کو ۔ چند دن اُدھر لاہو ر میںمنعقدہ سیمینار میں بھی یہی عرض کیا تھا ۔ کوا چلاہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا کے مصداق صورتحال سے دو چار ہیں ہم ۔ کتابوں سے ہمیں بیر ہے ۔ علم سے دور بھاگتے ہیں ۔ کیا زمانہ تھا جب ہمارے سماج میں ذوالفقار علی بھٹو ۔ عبدالولی خان ۔ جی ایم سید تھے ۔ نوابزادہ نصراللہ خان ۔ سید محمد قسور گردیزی تھے ۔ سی آر اسلم ، میجراسحق، افضل خاموش ، سید مودودی ، غلام غوث ہزاروی ، امام اہلسنت و علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی ، جسٹس (ر) سید جمیل حسین رضوی ، عطاء اللہ مینگل تھے بیرسٹر تاج محمد خان لنگا ہ ۔ شوکت صدیقی ، فیض احمد فیض ، سیدسبط حسن ، احمد دائود فراز احمد ، جیسے نا بغہ روز گاروں کا ہجوم تھا اور کیا وقت ہے چھان بورا وہ گیا ۔ آدمی آدمی سے ڈرتا ہے ۔ سیاست علم وادب ،دانش، روحانی رہنمائی سماج سدھا ری سمیت کس شعبہ کے حوالے سے فخر کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں ۔ ہمارا چہرہ یہ ہیں ؟ ۔ معاف کیجئے گا چہر ہ ہی نہیں تو تعارف کیا ہو ، لگ بھگ ساڑھے تین عشرے قبل کراچی کی غالب لائبریری میںطالب علم سیدسبط حسن کے حضور حاضر ہوا اور عرض کیا ۔ سید مکرم حسن زندگی کیا ہے ؟ ۔ فرمایا ، علم اور مطالعہ وہ بھی تقابلی ۔ ساعت بھر کے لئے رُکے اور پھر کہنے لگے ۔ ارتقا علم ومکالمے سے مشروط ہے ۔ ہم سب پڑھیں گے یہ علم دوستی ہے ۔ انسان سازی کی تمنا ۔ یہی حسن زندگی ہم یہ نہیں پڑھیں گے ۔ ارے یہ تو استد لال سے عاری ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جب پڑھا ہی نہیں تو رائے کس برتے پر ؟۔ آج ساڑھے تین عشرے بعد یادوں کا دروا ہوا ۔ لکھنو سے اٹھ آئے شوکت صدیقی یا د آنے لگے ۔ خدا کی بستی اور جانگلوس ۔ کیا شاہکار ناول تخلیق ہوئے ان کے زرخیز دماغ سے ۔ کہا ں لکھنو اور کہا ںسرائیکی وسیب کا 60برس پہلے والاسماج ۔ بدلائو اب بھی نہیں آیا تب مگر ہو کا عالم تھا ۔ ایک سپاہی پورے گائوں کو باندھ کر تھانے لیجا تاتھا ۔ خدا لگتی کہئے ۔ خدا کی بستی اورجا نگلوس کے معیار یاانیس بیس کے فرق سے پچھلے تین عشروں کے دوران کوئی ناول لکھا گیا ۔ سہل کام ترجمہ کرناہے ڈھیروں ترجمہ ہوا ، خالص کیا تخلیق ہوا ۔ کچھ بھی نہیںیا بہت کم ۔ صحافت کے شعبہ کو لے لیجئے ، کبھی منہاج برنا تھے ، نصراللہ خان ، نثار عثمانی ، ولی محمد واجد ، حمید اختر ، سید عالی رضوی ، سرور سکھیرا، محمد حنیف رامے، اس نسل کی آخری نشانی منوبھائی رہ گئے ۔ اب پیر اشو ٹروں کا زمانہ ہے ، درست املاکے ساتھ اردو تک نہیں بولی جاتی جن سے وہ شام کو مکالمے کے نام پر ملاکھڑا کرواتے ہیں ۔ کبھی اس تنزلی پر غور کیجئے ۔کہا ں گیا وہ دائیاں بازو اور بایاں بازو ، سب ماضی کا قصہ ہوئے ،لیفٹ رائٹ کی جگہ آل رائٹ نے لے لی ہے ۔ نظریات خاصے کی چیز ہوئے ، سیاسی جماعتیں ہوتی تھیں اب مگر خانقاہی نظام کے سلسلے ہیں ۔یا پھر اینڈ سنزاور اینڈ کو۔ کسی میں حوصلہ نہیں کہ اپنی خانقاہ یا دکان کے گلے پر کسی اور کو بیٹھنے دے۔سیاستدان اور مذہبی رہنما کہلانے والے تنقید سے ماورا ہیں۔ ان کے کارکن کہلانے والے جان کو آجاتے ہیں۔ اپنے کج کوئی نہیں دیکھتا دوسروں پر طعنوں کی چاند ماری من بھاتا کام ہے۔ ہائے ری خواہش کہ ہم اس مال اور حال کے ساتھ زمانے کو فتح کرنے کے آرزو مند ہیں اور زعم یہ ہے کہ ہم کوئی اعلیٰ درجہ کا محبوب برانڈ ہیں۔ دنیا کا نظام ہمارے بنا چل ہی نہیں سکتا۔ کاش کہ ہمارے سماج میں قحط الرجال نہ ہوتا۔ رہنے دیجئے خوراک اور ادویات تو خالص ملتی نہیں انسان اور نظریہ خالص کہاں سے آئے گا۔ 1970ء سے 1990ء تک کی تین دہائیوں میں ہمارا اردو ڈرامہ اور علاقائی زبانوں کی تحریریں سحر طاری کردیتی تھیں۔ اب کیا ہے جگتیں۔ بھارت کی نقالی' بے ہنگم فیشن' بازاری مکالمے' کس کس بات کو رویا جائے۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا ہماری آئندہ نسلیں بھی ارتقا کی حقیقت سے فیض یاب نہیں ہو پائیںگی ؟۔ سادہ ساجواب یہ ہے کہ خام مال سے ہی مال بنتا ہے۔ فصل بیج کی مرہون منت ہوتی ہے۔ استاد کبھی روحانی والد کا درجہ رکھتے تھے تب کی بات ہے جب تعلیم کاروبار نہیں بنی تھی بونوں اور بوزنوں کے بے ہنگم لشکر دندناتے پھرتے ہیں چار سو۔ وقت ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔ علاج موجود ہے مگر ماہر معالجین دستیاب نہیں۔ ستر برس اکارت ہولئے کسی کو احساس ہی نہیں۔ تقسیم در تقسیم اور پھر در تقسیم اس کے سوا کیا ہے۔ ان ساری باتوں گھاتوں اور بیماریوں کے باوجود میں مایوس نہیں ہوں۔ معالجین کی راہ دیکھنے کی بجائے اگر ہم خود احتسابی کو واجب سمجھ لیں تو کچھ وقت ضرور لگے گا لیکن تبدیلی در آئے گی۔ کیوں نہ ہم آج یہ عہد کریں کہ آج سے خود احتسابی کا عمل شروع۔

متعلقہ خبریں