مادہ پرستی

مادہ پرستی

آج جسے دیکھیے وقت کی قلت کا رونا رو رہا ہے ہمارے زمانہ طالب علمی میں وقت ہی وقت تھا اساتذہ کرام کلاس میں کتا ب سے ہٹ کر بھی بہت کچھ سکھا دیتے تھے ہمارے ایک استاد محترم دوران پڑھائی باتوں باتوں میں بہت کچھ سکھادیتے ۔ایک دن کہنے لگے کہ ایک کبوتر باز ایک بلّی سے بڑا نالاں تھا وہ بڑی ہوشیاری سے آتی اور اس کے ایک کبوتر کو چٹ کر جاتی ایک دن اس نے بلّی کو کمرے میں گھیر کر مارنے کا منصوبہ بنایا۔جیسے ہی بلّی کمرے کے اندر کبوتر کھانے کے لیے داخل ہوئی یہ کبوتر باز صاحب بھی ایک ہاکی ہاتھ میں لیے اس کے پیچھے کمرے میں داخل ہو گئے اور جلدی سے دروازے کو چٹخنی لگا دی کہ بلّی کے بھاگ نکلنے کا کوئی امکان بھی نہ رہے اس نے آئو دیکھا نہ تائو اور بلّی پر تابڑ توڑ حملے شروع کر دیے۔کہتے ہیں جب خطرہ حد سے بڑھ جائے تو دل سے خوف دور ہو جاتا ہے بلّی نے بچنے کی کوئی راہ نہ پا کر کبوتر باز پر حملہ کردیاوہ بڑی پھرتی سے اس کے گلے کی طرف لپکی اس نے بڑی مشکل سے اپنے آپ کو اس خونخوار بلّی سے بچایااور جلدی سے دروازہ کھول دیاقصہ سنا کر وہ کلاس کی طرف دیکھ کر کہتے کہ کچھ سمجھ بھی آئی کہ نہیں!کلاس کو خاموش پا کر کہتے یار تم لوگ آخر کب سمجھو گے ارے بھئی اس کہانی میںایک سبق پوشیدہ ہے جب کمزور سے کمزور مخلوق بھی خطرے میں ہویا کسی کے ظلم و ستم سے تنگ آ جائے تو پھر انتہائی خطرناک ہو جاتی ہے اس لیے کسی کو کمزور نہیں سمجھنا چاہیے۔فارسی میں کہتے ہیں کہ اگر دشمن مچھر بھی ہو تو اسے ہاتھی سمجھنا چاہیے۔ہم ان کی مزے مزے کی باتوں سے بہت لطف اندوز ہوتے ان کی ڈانٹ تھی چسکا خور جوان !چسکا خور ی کے حوالے سے کہتے یہ بہت بڑا عیب ہے ایسا شخص ہر وقت الم غلم پیٹ میں ڈالتا رہتا ہے گھر میں اچھا خاصہ کھانا پکا ہو گا لیکن یہ کباب، آلو پکوڑے ، چھولے قلول ضرور خریدے گااس کی بھوک کبھی نہیں مٹتی ایک دن ان کے آنے سے پہلے ایک شرارتی لڑکے نے بلیک بورڈ پر لکھ دیا کہ استاد کا کام انسان بنانا ہے نہ کہ پیسے بنانا!انہوں نے آتے ہی وہ جملہ پڑھ لیاکلاس کی طرف دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ جملہ جس لڑکے نے بھی لکھا ہے صحیح لکھا ہے۔ ماں باپ آپ کی جسمانی پرورش کرتے ہیں اور اساتذہ روحانی تربیت دیتے ہیںاس میں کوئی شک نہیں ہے کہ استاد کا کام انسان بنانا ہے پیسے بنانا نہیں لیکن آپ لوگ یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ استا د بھی اسی معاشرے کا ایک فرد ہے اس کی بھی ضرورتیں ہیںڈاکٹر انجنئیر پیسے بناتے رہیں تو کوئی بات نہیں لیکن استاد کو مقدّس گائے بنا کر اس قسم کی پابندیاں لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آج جب ہم اپنے استاد کو یاد کرتے ہیں تو ان کی باتوں کے وزن کا احساس ہوتا ہے وہ واقعی ایسا دور تھا جب اساتذہ انسان بنایا کرتے تھے۔کتنی معصومیت تھی۔اپنے کام سے لگن تھی اساتذہ مشنری جذبے سے پڑھایا کرتے تھے۔پھر جب پیسہ بنانا پہلی ترجیح بن گیاتو پھر حمام میں سارے ہی ننگے ہوتے چلے گئے سب نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے شروع کر دیئے۔ آج اساتذہ کے پاس سر کھجانے کی فرصت نہیں ہے کالج میں پڑھانے کے بعد اپنے پرائیویٹ ٹیوشن سنٹرز میں کلاسیں لیتے ہیں اور اس میں وقت کی کوئی قید نہیںیہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا ہے اس کے علاوہ کہیں انٹری ٹیسٹ کے لیے تیاری کروائی جا رہی ہے تو کہیں سی ایس ایس کے لیے لڑکوں کو تیار کیا جارہا ہے۔ زندگی اپنی تمام ہنگامہ خیزیوں کے ساتھ سرپٹ بھاگ رہی ہے ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیںکسی زمانے میں پرائیویٹ ٹیوشن پڑھنا یا پڑھانا معیوب سمجھا جاتا تھااگر کبھی کوئی استاد ٹیوشن پڑھا بھی دیتا تو فیس نہیں لیتا تھامفت پڑھا دیتاپھر جب انسانوں کی ضروریات بڑھنے لگیں تو ساتھ ساتھ اقدار بھی بدلتی چلی گئیںہمیں یاد ہے ہمارے ایک استاد صاحب صرف پینتیس روپے مہینہ بطور ٹیوشن فیس لیا کرتے تھے جبکہ دوسرے اساتذہ کرام تین سو سے پانچ سو روپے تک فیس لیتے وہ بڑی محنت کرتے لڑکوں کو شوق سے پڑھاتے جب کوئی کم فیس کی بات کرتا تو ہنس کر کہتے ہم تو غریبوں کے استاد ہیںہم اپنی فیس نہیں بڑھائیں گے۔ آج تعلیم ایک کاروبار بن کر رہ گئی ہے ہم نے بہت سے ایسے طلبہ دیکھے ہیں جن کو اپنے اساتذہ کا نام تک نہیں آتااستادروبوٹ کی طرح آتے ہیں کلاس لیتے ہیں ٹھیکیداری نظام ہے استاد کو دو مہینوں کے چند ہزار روپے دے دیتے ہیںجس نے دو مہینوں میں مشین جیسی تیزی کے ساتھ نصاب ختم کروانا ہوتا ہے اور پھر یہ جا وہ جا!بے تحاشہ پیسے دے کر پڑھتے ہیں اور پھر تعلیم مکمل کرنے کے بعد بے تحاشہ پیسے کماتے ہیں۔جہاں بھی چلے جائیے پہلی ترجیح صرف اور صرف پیسہ ہے اس کے جہاں اور بہت سے نقصانات ہیں ایک بہت بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ رشتے کمزور پڑ گئے ہیں۔ مادہ پرستی کا عفریت سر چڑھ کر بول رہا ہے معاشرہ بکھر کر رہ گیاہے آج ہر چیز کو دولت کے پیمانے پر تولا جارہا ہے ہر چیز کی ایک قیمت مقرر ہے ہر جگہ انسانوں اور چیزوں کی بولیاں لگ رہی ہیںاور خریداری کا بازار گرم ہے جب آج کے اس ہنگامہ خیز دور میں اپنے اساتذہ کی یاد آتی ہے تو دل میں اک ہوک سی اٹھتی ہے کہ کاش وہ زمانہ پھر سے لوٹ آئے!

متعلقہ خبریں